Chitral Today
Latest Updates and Breaking News

برف کا پگھلنا

داد بیداد

ڈاکٹرعنایت اللہ فیضی

پہاڑی علاقوں کی مربوط ترقی کے بین لاقوامی مرکز (آئی سی موڈ ) نے جدید سائنسی تحقیق کے نتاءج کوInayatullah Faizi شاءع کیا ہےکی اس تحقیق میں خبر دی گئی ہے کہ برف کا پگھلنا شروع ہوا ہے یہ انگریزی اور اردو محا ورے کا برف پگھلنا نہیں جس کا مطلب ہوتا ہے دشمنوں کے درمیان دوستی ہونے والی ہے تحقیقی رپورٹ میں سچ مچ برف کے پگھلنے کی خبر ہے جو محا ورے کے برعکس ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ اب سیلاب آئے گا ’’ ہٹو، بچو اور بھا گو‘‘ کے الارم بجنا شروع ہوجا ئینگے اور خدا کی مخلوق عذاب سے دو چار ہوجا ئیگی

رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ ہمالیہ، قراقر م اور ہندوکش کے بلند پہاڑی چوٹیوں اور دروں میں ہزاروں، لاکھوں سالوں سے برف کے جو ذخیرے دفن تھے وہ ذخیرہ اب پگھلنا شروع ہوگئے ہیں اور گذشتہ 10سالوں کے اندر برف پگھلنے کے اس عمل میں 65فیصد اضافہ ہوا ہے تحقیقی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ برف کے ذخیروں کا پگھلنا قدرتی عمل کا نتیجہ نہیں قدرت کے نظام میں انسانی مداخلت کا نتیجہ ہے چین، روس، امریکہ اور یورپ کے سرمایہ داروں نے کارخا نوں کا سارا دھواں، موٹر گاڑیوں کا سارا دھواں سورج کے رُخ پر روانہ کیا ہے سائنس دان اس دھوئیں کوگرین ہاوس گیس کہتے ہیں، ان گیسوں کی وجہ سے سورج کی گرمی میں اضافہ ہو رہا ہے اور یہ اضافہ برف کے ذخیروں کو وقت سے پہلے پکھلا کر انسا نی ابادی کے لئے خطرے کی گھنٹی بجا رہا ہے

انگریزی میں برف کے ان ذخیروں کو گلیشر کہتے ہیں پہا ڑی علا قوں کے لوگ ان کو ’’شہ یوز‘‘ یعنی کا لی برف کہتے ہیں ان کا رنگ اوپر سے کالا اور گہرائی میں زمرد کی طرح سبز مائل ہوتا ہے 50سال پہلے کسی کے وہم و گمان میں نہ تھا کہ برف کے یہ ذخیرہ ایک دن پگھلنا شروع ہونگے آج ان کا پگھلنا روز کا معمول بن چکا ہے

تاجکستان، نیپال، افغانستا ن، بھا رت اور پاکستان میں خطرے کی گھنٹیاں بجائی جاچکی ہیں سالہا سال سے لوگوں کو علم تھا کہ برف کے ہر ذخیرے کے نیچے ایک قدرتی جھیل ہوتی ہے جس میں قطرہ قطرہ ہوکر گلیشیر کا پانی جمع ہوتا ہے گزشتہ نصف صدی کے اندر ’’نیژ دیر‘‘ نام کے یہ جھیل پھٹنا شروع ہو گئے ہیں جھیل پھٹنے سے بڑا سیلاب آتا ہے اور بڑی تبا ہی مچا تا ہے سائنسدانوں نے اس کو برفانی جھیل کے پھٹنے کا سیلا ب قرار دیا ہے اس کو روکنے کا کوئی ذریعہ سائنس نے تجویز نہیں کیا ایسے آلات بنا ئے گئے ہیں جنکی بروقت تنصیب سے نشیبی وادیوں میں بسنے والی آبا دی کو بروقت خبردار کر کے بھا گ کر جا ن بچا نے کی تر غیب دی جا سکتی ہے

آئی سی موڈ کی تحقیقی رپورٹ میں پیش گوئی کی گئی ہے کہ اگلے 100سالوں میں ہما لیہ، قراقرم اور ہندو کش کے برف زاروں کا 80فیصد غیر فطری طورپر پگھل کر ختم ہو جا ئے گا اس عمل میں بڑے تبا ہ کن سیلا ب آئینگے اور وسطی ایشیا کے ساتھ جنو بی ایشیا کے پہا ڑی علا قوں میں 2ارب آبا دی متاثر ہو گی ’’متا ثر‘‘ کا لفظ ظا ہر کرتا ہے کہ زراعت اور با غبانی ختم ہوگی، سڑ کیں، نہریں، پل، مکا نا ت اور دیگر بنیا دی ڈھا نچہ بر باد ہوگا، پہاڑی علا قوں میں صدیوں سے پروان چڑ ھنے والی ثقافت، صنعت وحرفت بھی ختم ہو جا ئیگی، سورج، چاند، زمین، برف، پانی اور موسم کے حوالے سے صدیوں کے تجربات پر محیط روا یتی علم بھی ختم ہوگا ، کچھ بھی نہیں بچے گا ایک عام آدمی، مزدور، کسان اور دیہا تی بندہ سائنسدانوں سے سوال کر تا ہے کہ اس تبا ہی کو روکنے کا کیا طریقہ ہوگا سائنسدان کہتے ہیں چین اور امریکہ کا با ہمی مقا بلہ بند کراو، ایشیا، افریقہ، یورپ اور امریکہ میں سرما یہ داروں کے کا رخا نوں کی چمنیوں سے نکلنے والا دھواں، فضا وں کو چیر نے والے جہاز وں کا فضلہ ختم کرو ، زمین پر مو ٹر گاڑیوں سے نکلنے والا دھواں کنٹرول کرو، گرین ہا وس گیسوں سے نجا ت حا صل کرو جنگلات کا رقبہ بڑھا کر 1921 کی سطح تک پیچھے لے جاو تمہارا کر ہ ارض محفوظ ہو گا برف کے ذخیرے محفوظ ہونگے تمہارے پہا ڑ محفوظ ہونگے اور تمہاری آنے والی نسلیں محفوظ ہونگی طریقہ اور نسخہ یہی ہے مگر انکل سام نہیں مانتا۔

You might also like
1 Comment
  1. Sultan says

    Sir, first, it is not barf. second baraf pigalna shurugh nahi hua balki tezi aye hai is process may due to rising temperatures and pollution. If there is any report that says that the baraf (snow) or even glaciers have started melting for the first time, please share the link.

Leave a comment

error: Content is protected!!