Chitral Today
Latest Updates and Breaking News

ٹریلین ڈالر کا سوال

سرور کمال
جمہوری نظام کا مطلب یہ ہے کہ جس میں عام لوگ اپنے ووٹ کے حق کے زور پر اپنے پسندیدہ نمائندوں کا انتخاب کرتے ہیں۔ یہ منتخب نمائندے پارلیمنٹ میں عوام کی فلاح و بہبود کے لئے قانون سازی کرتے ہی جب کہ اعلی عدلیہ ان قوانین کی تشریح کا کام کرتا ہے۔ بدقسمتی سے   موجودہ حکومت ائین کے بنیادی ڈھانچے کے ساتھ چھیڑ خانی میں مصروف ہے۔

پاکستان آجکل شدید معاشی اور آئینی بحران کے دور سے گزر رہا ہے_ اوپر سے موجودہ حکومت جلتی پر تیل کا کام کر رہا ہے۔ پاکستان جیسی نوازئیدہ جمہوری نظام میں اداروں کے اندر اصلاحات کا میں خود حامی ہوں مگر موجودہ حکومت کا عدالتی اصلاحات کا بل الیکشن سے راہ فرار، اپنے اقتدار کو دوام بخشنے اور بد دیانتی کے سوا کچھ نہیں۔ اس متنازعہ بل کے ذریعے سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس کے اختیارات کو محدود کرنے کا مطالبہ کردیا گیا ہے۔ اس بل کے ذریعے ازخود نوٹس اور بنج سازی سے چیف جسٹس کے کردار کو ختم کر دیا گیا ہے ہے۔ مفاد عامہ کے سلسلے میں بذات خود میں از خود نوٹس کے حق میں ہوں لہذا اس کو جاری رہنا چاہیے۔ چیف جسٹس کے بینچ سازی کے اختیارات کو ختم کرنے کے حق میں ہوں _ مگر موجودہ سیاسی حالات اور ٹائمنگ کو سامنے رکھا جائے تو یہ حقیقت آشکار ہو جاتی ہے کہ عدالتی اصلاحی بل صرف اور صرف بددیانتی پر مبنی ہے _ اگر واقعی میں نون لیگ والوں اور پیپلز پارٹی والوں کو شفافیت اور عوام کا دکھ درد تھا تو انھوں نے اپنے دور حکومت میں اس بل کو کیوں پاس نہیں کرایا۔ لہذا اس بات سے یہ واضح ہو جاتی ہے کہ یہ لوگ صرف اور صرف اپنے مفاد کے لیے سوچتے ہیں اور ان کو جمہور سے کوئی غرض نہیں ہے۔ آئین میں واضح درج ہے کے اسمبلی تحلیل ہونے کے 90 دنوں کے اندر الیکشن کا انعقاد لازمی ہے۔ عمران خان اس وقت عوامی مقبولیت کی معراج پر فائز ہیں۔ اندھے کو بھی نوشتہ دیوار نظر آ رہا ہے کہ عمران خان دو تہائی اکثریت سے الیکشن جیت رہا ہے_ موجودہ حکومت الیکشن سے بھاگنے کے لیے وسائل کی کمی, سکیورٹی فورسز کی عدم دستیابی اور مخدوش سیکورٹی کا رونا رو رہی ہے جبکہ سکیورٹی کے حالات اس سے بھی زیادہ مخدوش تھے جب محترمہ کو شہید کر دیا گیا تھا۔
اس وقت روزانہ خودکش بمبار بے گناہ لوگوں کو مار رہے تھے۔ اسی طرح سے سستا آٹا پیکیج کے لیے اربوں روپے دستیاب ہیں اور الیکشن کے لئے ان کے پاس وسائل نہیں۔
آج کل وزیراعظم پاکستان اور حکومتی اتحاد کا ہر رکن سپریم کورٹ آف پاکستان اور خصوصا چیف جسٹس آف پاکستان کی کردار کی کردار کشی میں لگا ہوا ہے۔ اس کے برعکس آئین میں واضح درج ہے کہ اعلی عدلیہ کے ججوں کے بارے میں پارلیمان میں بحث نہیں کیا جاسکتا ہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلوں کی تضحیک کی جا رہی ہے۔ جب اعلی عدلیہ کے فیصلوں کو نہ مانا جائے گا تو ہم یہ کس طرح توقع رکھتے ہیں کہ بیرون ملک سرمایہ کار پاکستان میں سرمایہ لگائیں گے_ میری نظر میں سپریم کورٹ آف پاکستان کو بلیک میل کیا جارہا ہے۔ اعلی عدلیہ غیر ضروری مصلحت، لچک اور نرمی کا مظاہرہ کر رہی ہے_
موجودہ حکومت ٹولہ ہمیں بھاشن دیا کرتے تھے کہ لنگڑی لولی جمہوریت فوجی آمریت سے بہتر ہے۔ وہ ہمیں ایران افغانستان اور شام کی مثالیں دیا کرتے تھے کہ وہاں کوئی ادارے کام نہیں کر رہے ہیں لہذا ہمیں اپنے اداروں کی عزت کرنی چاہئے۔ اس کے برعکس یہ لوگ اپنی گندی سیاست اور مفاد کے لیے نہ صرف آئین سے غداری کررہے ہیں بلکہ اعلیٰ عدلیہ کو بھی متنازعہ بنا رہے ہیں۔
موجودہ حکومت کو اصل میں یہ خوف ہے کہ الیکشن ہونے کی صورت میں عمران خان پہلے ہی پنجاب سے جیت رہا ہے۔ لہذا اس صورت میں مرکز میں بھی ان کی کامیابی یقینی ہے_ لہذا ان کا اصرار ہے کہ انتخابات بیک وقت ہو کیونکہ پنجاب مرکز پر اثر انداز ہو رہا ہے۔ اگرچہ ان کا یہ استدال اور دلیل آئین کے برخلاف کیوں کہ آئین میں واضح درج ھے کہ کسی بھی اسمبلی کی تحلیل ہونے کی صورت میں 90 دنوں کے اندر الیکشن کا انعقاد کرانا لازمی ہے۔ چند لمحوں کے لئے فرض کرتے ہیں کہ اگر ان کے کے اس مطالبے اور ضد کو مانا جائے تو اس کے سنگین نتائج ہمارے نئے آنے والے جمہوری نظام پر مرتب ہوں گے اور پاکستان ایک آئینی بحران اور دلدل میں دھنستا چلا جائے گا۔ لہذا پاکستان کے ایک عام شہری کی حیثیت سے میں سپریم کورٹ آف پاکستان، ملک کے چوٹی کے وکلاء اور آئینی ماہرین کے سامنے رہنمائی کے لئے ایک سوال رکھتا ہوں۔ اس سے پہلے کہ میں اپنا سوال اور مقدمہ پیش کروں میں ایک چیز کی وضاحت کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔ اس سے پہلے کہ انگریزی زبان سے محبت کرنے والے ماہرین لسانیات، لکھاری حضرات  اور ادیب مجھ پر لعن طعن شروع کریں کہ میں نے غلط محاورہ یا اصطلاح کوڈ کیا ہے اور انگریزی زبان کی ٹانگیں توڑنے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی ہے۔ عموما ہم انگریزی زبان میں کسی انتہائی حل طلب اور ضروری سوال کے جواب کے سلسلے میں ایک محاورہ استعمال کرتے ہیں یعنی میلین ڈالر سوال۔
اسی طرح موجودہ جو نقطہ اور سوال میں اٹھا رہا ہوں اس کی حساسیت، گہرائی اور اہمیت بھی بہت زیادہ ہیں ہے۔ اگرچہ میں موجودہ حکومت کی طرح آئین میں من پسند ترمیم نہیں کر سکتا ہوں لہذا میں نے اپنی طرف سے اس محاورے یعنی بیلین کو کھربوں سے سے سے تبدیل کرکے تھوڑی سی ترمیم کر دی۔ از راہ تفنن اس موقع پر میں یہی کہہ سکتا ہوں کہ ہو سکتا ہے کہ مستقبل قریب میں جدید انگریزی لغت یعنی آکسفورڈ ڈکشنری سے مطالبہ کرو کہ اس لفظ کو بھی ان میں شامل کیا جائے پھر پی ڈی ایم والے بھی بڑے فخر سے کہیں گے کہ جدید انگریزی لغت میں ان کا بھی کچھ حصہ ہے۔ لہذا میرا ٹریلین ڈالر کا سوال یہ ہے کہ اگر حکومتی موقف کو تسلیم کیا جائے گا تو اس کے بہت دور رس اور منفی پہلو سامنے آجائیں گے مثلا جب عام حالات میں وفاق سمیت چاروں صوبائی حکومتی کام کر رہے ہوں گے۔
اس دوران عین ممکن ہے کہ چاروں صوبائی حکومتوں میں سے کسی ایک میں بھی تحریک عدم اعتماد پیش کیا جا سکتا ہے یا خود وزیراعلی گورنر کو اسمبلی کو ختم کرنے کے لیے ایڈوائس کرسکتا ہے_ اس وقت بھی آئین میں درج الیکشن کے آپشن کو استعمال نہیں کیا جائے گا آئے گا یا موجودہ صورتحال کی طرح  عوام کو ووٹ کی حق سے دور رکھا جائے کیونکہ اس وقت مرکز میں کسی اور کی حکومت ہوگی لہذا تین یا چار سال تک غیر مقبول حکومت یا نگران حکومت کو عوام پر مسلط کیا جائے گا کیوں کہ آئین میں درج ہے کہ ضروری نہیں کہ ہر حکومت اپنی آئینی پانچ سالہ  مدت پوری کرے بلکہ آئین میں یہ درجہ کے حکومتی مدت کی تکمیل اس سے مشروط نہیں جس طرح عمران خان کو عدم اعتماد کی تحریک سے ہٹایا گیا تھا اسی طرح آئین میں اس بات کی بھی گنجائش ہے کہ پانچ سالہ حکومتی مدت سے پہلے ہی وزیراعلیٰ گورنر کو ایڈوانس کر سکتا ہے کہ اسمبلی تحلیل کر دی جاۓ جس طرح پرویز الہی نے بطور وزیراعلی پی ٹی آئی کی حکومت کو ختم کر دیا وقت سے پہلے . لہذا مجھے جیسے کند ذہن شہری کو رہنمائی کے لیے جوابات چاہیے کہ اس طرح کی صورتحال سے اس وقت کس طرح نمٹا جائے گا۔
ایک شہری نے لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دی تھی کہ نگران حکومت کو ان کے آئینی مدت سے تجاوز نہ کرنے دیا جائے_ اسی طرح جب میں یہ سطور لکھ رہا تھا میڈیا رپورٹ کے مطابق لاہور ہائی کورٹ نے پنجاب کے وزیراعلی محسن  نقوی کے خلاف فیصلہ محفوظ کیا ہے_ ان حالات و واقعات پر بحیثیت شہری میرا دل خون کے آنسو روتا ہے اس موقع پر میں یہی کہہ سکتا ہوں کہ سوائے عوام اور جمہوریت کی اس ملک میں باقی سب کچھ محفوظ ہیں۔

You might also like
1 Comment
  1. Yousuf says

    Good!sir.
    Great 👍🏽

Leave a comment

error: Content is protected!!