Chitral Today
Latest Updates and Breaking News

حکومت چترال کے مسائل پر توجہ دے ورنہ احتجاج کا راستہ اختیار کرنا پڑے گا

چترال(بشیر حسین آزاد) منتخب وفاقی حکومت اور نگران صوبائی حکومت اپر اور لوئیر چترال کے مسائل پر خصوصی توجہ دیکر عوام کو بنیادی سہولتیں فراہم کرے ورنہ سیاسی اور سماجی نمائندوں کو احتجاج کا راستہ اختیار کرنا پڑے گا۔

یہ بات پاکستان پیپلز پارٹی اپر اور لوئیر چترال کے قائدین نے چترال پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ سابق صوبائی وزیر اور پیپلز پارٹی لوئیر چترال کے صدر اور صوبائی ڈپٹی صدرسلیم خان، صدر لوئیر چترال امیر اللہ اور تحصیل چیرمین دروش شہزادہ خالد پرویز نے کہا کہ چترال شندور روڈ، چترال گرم چشمہ روڈ، چترال کالاش ویلی روڈ پر جاری کام گذشتہ 6مہینوں سے بلاوجہ روکا گیا ہے اور پختہ سڑک سے ترکول کو اُکھاڑ دیا گیا ہے جس کی وجہ سے عوام میں بے چینی پھیل رہی ہے اور بڑے پیمانے پر احتجاج کا خطرہ ہے اس لئے ان جاری سکیموں پر فوری طورپر کام کو دوبارہ شروع کرایا جائے۔

اُنہوں نے کہا کہ چترال کے لئے1972سے رعایتی قیمت پر گندم کا کوٹہ چلاآرہا تھا گذشتہ حکومت نے گندم کا کوٹہ ختم کرکے فلور ملوں کے ذریعے ناقص آٹا مارکیٹ ریٹ پر دینے کا ظالمانہ سلسلہ شروع کیا یہ ناانصافی عوام کو منظور نہیں اس لئے گندم کا کوٹہ بحال کرکے تمام گوداموں پر عوام کو سبسیڈائزڈ غلہ فراہم کیا جائے۔
اُنہوں نے کہا کہ لوکل گورنمنٹ کے انتخابات کو دوسال گذرگئے مگر مقامی حکومتوں کو اب تک اختیارات بھی نہیں ملے فنڈ بھی نہیں ملے بعض جگہوں پر فنڈ کے بغیر سکمیوں کی منظوری دی گئی ٹینڈر کھولے گئے مگر کنٹریکٹرز کو ایک دھیلہ نہیں ملا۔عوامی مسائل حل کرنے کے لئے لوکل گورنمنٹ کو اختیارات اور فنڈ ملنے چاہئیں اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوسکتا۔
اُنہوں نے چترال یونیورسٹی کے تعمیراتی کام میں تاخیر پر بھی افسوس کا اظہار کیا اور مطالبہ کیا کہ اکیڈمک بلاک، ایڈمنسٹریٹیو بلاک اور رہائشی عمارتوں کی تعمیرات کاکام فوری طورپر شروع کرایا جائے۔اُنہوں نے وائس چانسلر پر زور دیا کہ انتظامی اور تدریسی سٹاف سے لیکر سپورٹ سٹاف تک تمام بھرتیوں میں چترال اپر اور لوئیر کے مقامی امیدواروں کو ترجیح دی جائے۔
پریس کانفرنس میں پی پی پی خاتون رہنما محترمہ شبنم،سینئر رہنما شریف حسین، قاضی فیصل سید، منتخب بلدیاتی چئیرمین وکونسلر سمیت بڑی تعداد میں پارٹی کارکنوں،عہداروں اور جیالوں نے شرکت کیں۔
ایک سوال کے جواب میں سلیم خان نے کہا کہ اگر 10دنوں کے اندر مطالابت تسلیم نہ ہوئے اور چترال کے اہم سڑکوں پر کام شروع نہ ہوا تو بھرپور احتجاج ہوگا۔
You might also like
1 Comment
  1. شیر ولی خان اسیر says

    حکومت مرکز اور صوبے میں اتحادیوں کی ہے۔ مہنگائی اور جاری منصوبوں کو تعطل کا شکار کرنے والی بھی یہی حکومتیں ہیں۔ پی پی پی چترال کے پریس کانفرنس اور احتجاج کی دھمکی محض انتخابات کے لیے عوامی جذبات سے کھیلنے کے مترادف ہے

Leave a comment

error: Content is protected!!