Chitral Today
Latest Updates and Breaking News

دودھ کی آبشاریں بنانے والا فنکار

 محکم الدین ایونی 

 چترال کی قدیم لوک کہانیوں میں دودھ کے آبشاروں (چھیرو غوچھار) کا بہت تذکرہ ملتا ہے۔ چھیرو غوچھار کا نام لیتے ہی دل و دماغ میں جنت نظیر ماحول و قدرت کی عظیم مہربانیوں اور انعامات کاتصور پیدا ہوتا ہے لیکن اسی لمحے یہ سوچ بھی ذہن میں منڈلانے لگتا ہے کہ اس دنیا میں چھیرو غوچھار کا تصورایک خواب ہے۔ جس کا حقیقت سے تعلق نہیں ہے۔ 

لیکن جدید دنیا میں جہاں بہت ساری چیزیں ممکن ہوئی ہیں ۔ وہاں دودھ کی آبشار (چھیرو غوچھار) آپ کے گھر میں بھی جاری ہونا ممکن ہوا ہے۔ 

ایون سے تعلق رکھنے والے نوجوان نے چھیرو غوچھار کے اس خواب کو حقیقت کا روپ دے دیا ہے۔ اب آپ کو اپنے گھر کے کمرے، لان اور کاروباری مقام پر چھیروغوچھار جاری کرنے کیلئے صرف آرڈر کی ضرورت ہے۔ 

شہزاد علی شاہ کسانہ ولد متصل شاہ ایون صحن کے رہنے والے نوجوان ہیں۔ انہوں نے محکمہ وائلڈ لائف میں چند سال گزارے لیکن دل و دماغ میں آرٹ کے ساتھ پیدائشی لگاو کی وجہ سے اپنے ایک ساتھی رضا حیات کی ترغیب پر آرٹ کی دنیا میں ایسے آئے کہ اسی کے ہو کے رہ گئے۔

ان کے ہاتھوں سے بنے ہوئے چھیرو غوچھار سمیت کئی قسم کے فن پارےلوگوں کے بنگلوں، ہوٹلوں اور سیاحتی مقامات کی زینت بنے ہوئے ہیں۔ ان کو کوئی بھی آرڈر دیا جائے تو چند دنوں کے اندر وہ ماڈل ایسے خوشنما ڈیزائن میں تیار کرتے ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ 

شہزاد علی شاہ کو آرٹ بطور روزگار اپنائے پانچ سال ہو گئے ہیں لیکن ان کے دل میں آرٹ کا ایک فنکار اس وقت سے بیٹھا ہوا تھا۔ جب اس نے ہوش سنبھالا۔ وہ فارغ وقت میں مختلف چیزیں بناتے تھے لیکن بطور روزگار اس فن کو اپنائے تقریبا پانچ سال ہو گئے ہیں آج ایون میں ان کی اپنی گیلری ہے جہاں وہ کام کرتے ہیں۔

انہوں نے اپنے مختصر انٹرویو میں بتایا کہ دودھ کے ابشار کاماڈل انہوں نے پہلی مرتبہ متعارف کیا ہے l جسے لوگوں نے بہت پسند کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئیبیکس، مارخور، برفانی چیتے، ڈیکوریشن پیس، مختلف ڈیزائینوں میں میز کرسیاں وائٹ سیمنٹ، پلاستر آف ییرس اور ریت بجری سے بنانے کاانہیں مہارت حاصل ہے۔ اور ان کا دعوی ہے کہ ان کے ہاتھ سے بنے تمام ماڈلز انتہائی طور پر مضبوط اور پائیدار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس آرٹ کو ترقی دینے کا بنیادی مقصد ماحولیاتی سیاحت کی ترقی اور جنگلات کو تحفظ فراہم کرنا ہے تاکہ لوگ لکڑی پر کم سے کم انحصار کریں۔ 

شہزاد علی شاہ کے یہ فنی کمالات سیاحت کو فروغ دینے میں ممدو معاون ثابت ہو رہے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ایسے نوجوانوں کی حکومتی اور عوامی سطح پر پزیرائی اور مدد کی جائے۔

You might also like

Leave a comment

error: Content is protected!!