توہین مسجد نبوی نامنظور

گل عدن
مسجد اقصی اور فلسطین کے مسلمان سالوں سے اسرائیلی جارحیت کا شکار ہیں۔ ذرا غور کریں اسرائیلی فوج کی جارحیت خاص طور پر رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں زور پکڑتی ہے جسکا واضح ترین مقصد صرف اتنا ہے کہ اول مسلمانوں کو اس بابرکت ماہ کی عبادات سے روکا جاسکے دوسرا مسجد کی بے حرمتی کرکے تمام امت مسلمہ کو تکلیف اور اذیت پہنچائی جاسکے۔سالوں سے وہ اپنے ناپاک مقاصد میں کامیاب ہیں۔لیکن اسرائیل ایک کافر ملک ہے شیطان کے پیروکار جن کا مقصد قیامت تک مسلمانوں کو ستانا ہے۔ لیکن آج جو کچھ مسجد نبوی میں ہوا  مسجد اور روضہ رسول کی بے حرمتی نام نہاد مسلمانوں کے ہاتھوں یہ  صرف قابل مذمت نہیں بلکہ قابل سزا ہے اور اس شرمناک واقعے سے صرف پاکستان کا سر نہیں جھکا بلکہ پوری امت مسلمہ کو اسلام دشمنوں کے سامنے شرمسار کرگیا ہے۔ عبادات سے روکنا اور مسجدوں کی بے حرمتی ازل سے  صرف یہودیوں اور کافروں کا شیوا رہا ہے۔
سورہ الحج میں ارشاد باری تعالی ہے کہ “بے شک جو لوگ کافر ہوئے اور مسلمانوں کو اللہ کے راستے سے روکنے اور مسجد حرام (یعنی حرم) سے روکتے ہیں جسکو ہم نے تمام آدمیوں کے واسطے مقرر کیا ہے کہ اس میں سب برابر ہیں ۔اس میں رہنے والا بھی اور باہر سے آنیوالے بھی۔ یہ (روکنے والے لوگ) معذب ہوں گے اور جو شخص اس میں (یعنی حرم میں) حرام دین کا قصد ظلم (یعنی شرک و کفر کے ساتھ کرے گا تو ہم عذاب درد ناک کا مزہ چکھائیں گے۔”
اللہ کا انتقام تو بے شک زبردست ہوگا انشاءاللہ ۔
سیاسی جماعتوں کے اور ان کے کارکنان کے آپس میں اختلافات تو ہمیشہ سے سیاست کا حصہ رہے ہیں لیکن حیرت کا مقام ہے کہ آج اس آپس کے اختلافات کو نفرت کو اتنی ہوا دی جارہی ہے کہ مسلمانوں کے آپس میں خانہ جنگی کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔ سب سے زیادہ حیرت اور افسوس ان لوگوں پر ہو رہا ہے جو آج بھی کہہ رہے ہیں کہ جو ہوا صحیح ہوا۔
دعا ہے کہ یہ سب کسی سازش کا حصہ نہ ہو صرف عوام کی بد بختی اور جہالت کا نتیجہ ہو لیکن اگر یہ ایک سازش کے تحت ہوا ہے تو سابق وزیراعظم پر یہودی ایجنٹ کا الزام بلکل سچ ثابت ہو جاتاہے۔
میری یہ تحریر آگر کسی انصافی  کارکن کی نظروں سے گزرے تو میں انہیں اتنا ضرور کہنا چاہوں گی کہ سب سے پہلے تو عمران خان کو اتنا اونچا درجہ دینے پر آپ شرک کے مرتکب ہو چکے ہیں اسلئے جتنی جلدی ہوسکے  اللہ سے معافی مانگ لیں۔
دوسری بات اچھی طرح سے جان لیں کہ  مسجد صرف اور صرف  اللہ تعالی کا گھر ہے کسی بندے کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ کسی پر بھی اللہ کے گھر  کے دروازے بند کرسکے۔ ہر سال لاکھوں لوگ حج پر جاتے ہیں جن میں نجانے کتنے گناہوں میں گھرے افراد نجانے کتنے چور ڈاکو ہوتے ہیں اللہ جانتا ہے اور  یہ اللہ اور بندے کے معاملات ہیں جن کا فیصلہ خود اللہ نے کرنے ہے کسی انسان کو اللہ نے اجازت نہیں دی کہ وہ  جنتی اور دوزخی ہونے کے فتوے جاری کریں۔
تیسری بات اوور سیز پاکستانیوں کو کوئی حق نہیں کہ وہ پاکستان کا وزیراعظم منتخب کریں ۔خود غرضوں کا یہ ٹولہ صرف ڈالر کے عشق میں خان خان کا نعرہ لگا رہے ہیں یہ جانتے ہوئے بھی کہ انکے ملک میں آئے روز کتنے لوگ صرف غربت سے تنگ آکر خودکشیاں کر رہےہیں لیکن انہیں اس سب سے کوئی سروکار نہیں۔ انہیں بس باہر ڈالر چاہئیے اور ملک میں عمران خان۔
چوتھی اور آخری بات۔عین ممکن ہے کہ خان صاحب اس ملک کو واقعی مدینہ کی ریاست بنادیتے ۔تحریک انصاف اور #امر_بالمعروف کی تحریک چلانے والا اس ملک میں انصاف کا بول بالا کردیتا اگر انہیں آپ جیسے سپورٹرز کی حمایت نہ ملتی ۔ ایک اچھا شخص بھی اپنے اچھے مقاصد میں بعض اوقات اسلیئے ناکام ہوجاتا ہے کہ وہ اچھے برے کی پہچان نہ رکھنے کی وجہ سے بدنیت اور بد کردار لوگوں کو ساتھی بنا دیتا ہے ۔سو مجھے میرے دوستوں سے بچاؤ دشمنوں سے بچنے کا انتظام میں خود کرلوں گا کہ مصداق اگر عمران خان صادق اور امین ہوتے ہوئے بھی ناکام ہو گئے ہیں تو انکی ناکامی کی وجہ صرف اور صرف آپ جیسے دوست اور حمایتی ہیں۔
جسطرح خان صاب  کے چاہنے والوں نے پاکستان کا نام تمام اقوام عالم کے سامنے خاص کر دشمنان اسلام کے سامنے ڈبو دیا ہے۔پاکستان کے پرچم پر لگا یہ بد نما داغ تو اب شاید  کھبی نہیں مٹ سکے گا۔ اس لئے یوتھیا جماعت اپنے قصور کو تسلیم کرکے مزید شر پھیلا نے سے باز آجائیں ورنہ اس ملک کی عدالتیں رات کے بارہ کیا دو بجے بھی کھل جائینگی انشاءاللہ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.