“ہمارے استاد جی”

شیر ولی خان اسیر
کسی عام آدمی کی سوانح لکھنا بھی آسان نہیں ہوتا۔ جب آدمی کی شخصیت اپنے اندر قوس قزح کے رنگ، عطر فروش کی دکان، دلبرانہ اداؤں کا پریستان، ملائمت، حلاوت اور ملاحت کا ایک جہاں اور صلاحیتوں کا گنجہائے گرانمایہ رکھتا ہو تو ان پر قلم اٹھانا کسی بہت ہی منجھے ہوئے باہمت لکھاری کا کام ہی ہو سکتا تھا۔ 
ڈاکٹرعنایت اللہ فیضی ہشت پہلو نہیں بلکہ ہشتاد پہلو رکھنے والی شخصیت کا نام ہے۔ ان کی شخصیت کا ہر پہلو درجنوں گوشے رکھتا ہے۔ ان سب تک رسائی ممکن نہیں اگر ہو بھی بیان کرنا آسان نہیں۔ مجھے یہ اقرار کرتے ہوئے کسی قسم کی کم مائیگی کا احساس نہیں ہو رہا کہ میں نے کئی دفعہ فیضی پر قلم اٹھانے کا ارادہ کیا لیکن ہمت نے ہر دفعہ جواب دیدیا۔
پھر ایک دن جب یہ دل خوشکن خبر ملی کہ محمد جاوید حیات نام کے مرد میدان نے یہ مشکل ترین کام سرانجام دیدیا ہے تو میری خوشی دیدنی تھی اور کتاب کو پڑھنے کا اشتیاق متلاطم ہوا۔ میں نے وقت ضائع کئے بغیر فیضی صاحب کو فون لگایا اور ان پر گلے شکووں کی بوچھاڑ کردی “دیکھو بھائی! یہ کیا بے مروتی ہے۔ کیا ہم اتنے قابل فراموش قرار  پا گئے ہیں کہ اتنی اہم تصنیف کا ایک جلد بھی تحفے میں نہ مل
سکے؟” گلہ شکوہ ہمیشہ اپنوں اور ان دوستوں سے ہوتا ہے جو زیادہ پیار کرنے والے اور مہربان ہوں۔
فیضی صاحب کی ایک بہت بڑی صفت یہ ہے کہ وہ مارکیٹ میں آنے والی ہر نئی اور پسندیدہ کتاب کا تحفہ اپنے دوستوں کو بھیجا کرتے ہیں۔ اس مرتبہ بیماری کی وجہ سے وہ اپنی روایت برقرار نہ رکھ سکے تھے جس کا مجھے بعد میں پتہ چلا مجھے  شرمندگی کے ساتھ ساتھ بے حد افسوس بھی ہوا کہ میری طرف سے دوبول مزاج پرسی اور گنہگار زبان سے دعائیں بھی ان مہربان تک نہ پہنچ سکے جو ہماری ہر چھوٹی بڑی غمی خوشی میں شریک رہتے آئے ہیں۔ کسی دوست نے بھی ان کی بیماری کا ذکر نہیں کیا یا یہ کہ میں دنیائےخبر سے منقطع تھا۔ عرصے تک صاحب فراش رہنے کے باوجود فیضی صاحب نے کوئی گلہ نہیں کیا کہ بھائی تم کہاں تھے کہ ہمیں پوچھا  نہیں۔ اللہ کا کرم ہوا کہ وہ صحت یاب ہوگئے ہیں۔ اللہ ان کی عمر اور صحت میں برکت دے!
 فیضی صاحب نے دوسرے تیسرے دن یہ خوبصورت سوانح عمری مجھ تک پہنچا دی اور میں اسے چٹخارے  لے لے کر پڑھتا رہا۔ اسے جلدی پڑھنے سے گریزاں رہا تاکہ کتاب کے ساتھ وصل کا دورانیہ طول پکڑے۔ جس طرح قدرت کی کسی دلکش اور دلپذیر تخلیق کا نظارہ کرتے وقت تمنا ہوتی ہے کہ وقت وہیں تھم جائے اور نظارہ کرنے والا اس جہان حسن میں کھویا ہی رہے۔ دل ہی دل میں جاوید حیات اور ان کے دوستوں کو خراج تحسین پیش کرتا رہا جن کی عقیدت و احترام کا سمندر ان کی تحریروں اور اقوال میں موجزن تھا۔ یہ بھی مان لیا کہ فیضی صاحب کا شاگرد ہی یہ کار عظیم انجام دے سکتا تھا ورنہ یہ ہر کسی ایرے غیرے کا کام نہیں ہو سکتا۔ 
 ڈاکٹر فیضی کی لامحدود علمی، ادبی، ثقافتی اور سماجی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں خراج تحسین پیش کرنا چترال کے سارے لکھاریوں پر گویا ایک قرض تھا جسے جاوید حیات اور فیضی صاحب کے دوستوں نے احسن طور پر ادا کر دیا۔ جناب پروفیسر اسرارالدین، شہزادہ افتخار الملک کرنل (ر)، محمد عرفان عرفان، شمس الحق قمر، عدنان زین العابدین اور صلاح الدین صالح کی تحریریں اپنے اندر خلوص و محبت اور احترام و عقیدت کا بحر بے کراں رکھتی ہیں۔ عنایت اللہ فیضی صاحب کی لامحدود اور کثیر الجہت خدمات کا اعتراف ان کی زندگی میں کرناچترالی قوم پر واجب الادا قرض تھا۔ اس قرض اور فرض کی ادائیگی پر میں محمد جاوید حیات صاحب اور ان دوستوں اور اداروں کو سلام پیش کرتا ہوں جن کا بالواسطہ یا بلاواسطہ کردار ” ہمارے استاد جی” کی تصنیف و اشاعت میں شامل رہا ہے۔
 “ہمارے استاد جی” نہ صرف ڈاکٹر فیضی صاحب کی خوبصورت سوانح حیات ہے بلکہ چترال کی ادبی تاریخ کو بھی احاطہ کرتی ہے۔ کھوار زبان و ادب کا بڑا حصہ  ڈاکٹر فیضی کا رہین منت  ہے۔ کھو زبان و ادب و ثقافت کی حفاظت و  ترقی کی عمارت کی جو بنیاد سر ناصر الملک، مرزا محمد غفران، شہزادہ حسام الملک نے بیسویں صدی کے تیسرے، چوتھے اور پانچویں عشروں کے اندر رکھی تھی اس کی تعمیر و آرائش استاد محترم غلام عمر مرحوم، پروفیسر اسرار الدین صاحب، وزیر علی شاہ مرحوم،گل نواز خاکی مرحوم، میتار ژاؤ رحمن دیار خان مرحوم, امیر خان میر، محمد یوسف شہزاد،  ڈاکٹر فیضی اور دوسرے بہت سارے دوسرے چترالی شعراء اور ادباء  کے ہاتھوں ہوتی رہی یہاں تک کہ آج یہ ایک درخشان اور نمایاں محل کی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔ چترالی زبان کو اپنی موجودہ درجے تک لے آنے اور  بین الاقوامی سطح پر شناخت دینے  کا سہرا فیضی صاحب کے سر ہے۔  فیضی صاحب کا کردار سب سے نمایاں قابل تحسین ہے۔
 فیضی صاحب کے ساتھ میری شناسائی 1965 سے ہے جب میں سٹیٹ ہائی اسکول چترال میں دسویں جماعت کا طالب العلم تھا اور فیضی صاحب چھٹی جماعت میں نیا نیا داخل ہوا تھا۔ ہم  چترال کی دور افتادہ شمالی وادیوں کے لڑکے ان دو سالوں میں کم از کم اپنے اسکول کے اندر اپنا تعارف نہ کراسکے جب کہ لاسپور بالیم کے عنایت اللہ نے چند مہینوں میں سکول کا قابل ترین طالب علم اور مقرر کے طور پر اپنا لوہا منوایا تھا۔ اسمبلی کرانا، تلاوت کرنا اور ترانہ پڑھانا ان کی تعلیمی سرگرمیوں کا حصہ بن چکے تھے چھوٹے قدکھاٹ کا یہ متحرک بچہ قابل رشک کردار کا مالک تھا۔ 
 پھر کوئی چھ سات سال کا عرصہ بیت گیا۔ہمارا ملنا نصیب نہ ہوا۔ بعد ازاں جمہور اسلام کی وساطت سے پتہ چلا کہ فیضی صاحب چارسدہ میں ہیں۔ ان دنوں بھی فیضی صاحب اپنے نام کے ساتھ ڈاکٹر جا سابقہ لگایا کرتے تھے۔ کبھی اس بارے ان سے پوچھنے کا اتفاق نہ ہوا حالانکہ 1976_77 میں پشاور میں ہر ہفتے ملا کرتے تھے۔  میں اور گل مراد خان حسرت مرحوم بی ایڈ کر رہے تھے جبکہ فیضی صاحب اور محمد یوسف شہزاد جمہور اسلام کی ادارت سے وابستہ تھے۔ چوک یادگار کی عظمت بلڈنگ میں ہماری لمبی لمبی نشستیں ہوا کرتی تھیں۔ ادبی اور علمی گفتگو سے بڑھ کر فیضی صاحب کے حسن مزاح اور بلا کی بذلہ سنجی میں لطف آیا کرتا تھا۔ 
 1985 میں غیر ترقیاتی بنیاد پر انٹر کالج بونی کی منظوری دی گئی۔ بونی میں مناسب کرایے کی عمارت نہیں ملی تو میں نے گورنمنٹ ہائی سکول بونی  کے دو کلاس رومز کالج کو عارضی استعمال کے لیے دینے کی راہ نکالی تاکہ عمارت نہ ملنے کا بہانہ بنا کر کہیں اس تعلیمی سہولت سے سب ڈویژن مستوج کو محروم نہ کردیں کیونکہ یہ سب ڈویژن سابقہ حکومتوں کی حاکمیت میں مسلسل محرومی کا شکار رہا تھا۔ کالج کے افتتاح کے پہلے سال میں خود، عبدالرحمن صاحب پرنسپل (ر) ریجون اور مرحوم رحمن فدا چارویلاندہ بونی اعزازی طور پر کالج کے طلبہ کو اعزازی طور  پڑھاتے بھی رہے کیونکہ کالج میں فی الوقت پرنسپل سعیداللہ جان صاحب اور پروفیسر افضل الدین صاحب یہی دو استاد موجود تھے۔
غالبا  1986میں فیضی صاحب کا تبادلہ ڈگری کالج چترال سے انٹر کالج بونی میں ہوا۔  1988 تک فیضی صاحب کے ساتھ میری قریبی نشست و برخاست رہی۔ کھوار مشاعروں کا بھر مار ہونے لگا۔ 1987 میں آل چترال کھوار مشاعرہ بھی سکول میں ہوا جس میں اس وقت کے سارے نابعہ روزگار شعراء مرحوم شہزادہ عزیز الرحمن بیغش، مرحوم شہزادہ فخر الملک فخر، بابا ایوب ایوب، آمین الرحمن چغتائی، گل نواز خاکی، رحمت اکبر خان رحمت مرحوم  اور امیر خان میر نے شرکت کی۔ اس زمانے میں فیضی صاحب کی بدولت بونی میں ادبی سرگرمیوں کا عروج رہا۔ میری چھوٹی بچی زہرہ ولی خان جو ہر مشاعرے میں میرے ساتھ ہوتی تھی  فیضی صاحب کو “بشئیاک میکی” ( گانے والا چچا) کے لقب سے ملقب کیا تھا۔
سکول اور کالج کے بچے شعرو شاعری کی محفلوں  میں اتنی دلچسپی لینے لگے کہ مجھے خطرہ محسوس ہونے لگا کہ طلبہ نصابی سرگرمیوں سے دور ہو جائیں گے۔ دبے لفظوں میں ان سے گلے شکوے بھی کرنے لگا لیکن فیضی صاحب اپنی شرارت بھری مسکراہٹوں میں ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے اڑا دیتے۔
فیضی صاحب نے فاصلوں کی دوری کے باوجود کھوار زبان و ادب اور انجمن ترقی کھوار کی سرگرمیوں کے ذریعے سے رابط قائم رکھا۔ مجھے اس بات کا اعتراف ہے کہ مجھے بھی لکھنے کی ترغیب ڈاکٹر فیضی نے دلا دی تھی ورنہ میں ساری عمر نکما آدمی  ہی رہتا۔ ان کی تحریک اور تعاون سے میں نے اپنی پہلی کتاب “چترالی موسیقی، آلات موسیقی اور فنکار” لکھی۔
آج بھی جو تھوڑا تحریری کام کرتا ہوں یہ بھی فیضی صاحب کا مرہون منت ہے۔ اس لحاظ سے میں بھی ڈاکٹرعنایت اللہ فیضی کے شاگردوں میں شامل ہوں البتہ ایک نالائق شاگرد ہوں۔ فیضی صاحب کو اللہ تعالیٰ نے وہ ذہنی اور جسمانی توانائی دیمے رکھی ہے جو ہر کسی کے نصیب میں نہیں ہوتی۔ 1965 میں وہ جتنے توانا اور متحرک تھے آج بھی اس میں کوئی فرق نہیں آیا ہے۔ اللہ پاک اس بحر علم و ادب کو یونہی موجزن رکھے، آمین!

Leave a Reply

Your email address will not be published.