chitral today

حکومت سیاحت کے نام پر مدک لشٹ کے عوام کو بے گھر نہ کرے: عمایدین

محمد ارشاد
پشاور: مدک لشٹ کے عمائدین میر عزر خان سابق  چیرمین، سرفراز شاہ سابق یونین ناظم اور دیگر نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا خیبر پختون خواہ حکومت کمراٹ ٹو مدک لشٹ کیبل کار پروجیکٹ کیلئے مدک لشٹ کے غریب لوگوں کے زرعی زمینوں اور گھروں کو عوام کو اعتماد میں لیے بغیر زبردستی سیکشن فور لگاکر اونے پونے داموں خرید کر 180گھرانوں کو بے گھر بنانے جارھی ھے۔

اسکے علاوہ 64 کینال بھی اس سے نیچے کے ایریا میں 9 اکتوبر 2021 کو مزید سروے کیے گئے ہیں جس میں بھاری تعداد میں زرعی زمینات اور آباد گھرانے موجود ہیں۔ ایک طرف وزیر اعظم پاکستان خود ہدایات دے چکے ہیں کہ کسی کی زرعی زمینات متاثر کیے بغیر ایسے پراجیکٹس پر کام شروع کریں دوسری طرف ہمارے زمینات، گھروں، مخصوص کلچر ہمارے ماحولیات کو متاثر کیا جا رہا ہے۔
اگر صوبائی حکومت زور زبردستی ہمیں بے گھر نہ کرنے کی کوشش کی تو ہم اہلیان مدک لشٹ مجبوراً اپنے گھروں ،ثقافت، ماحول کو بچانے کیلئے احتجاج کرینگے۔حکومت ہمارے محصوص کلچر کو ختم نہ کرے اس ایریا میں ہمارے رہائشی مکانات تعمیر شدہ ہیں اور زرعی زمینات بھی موجود ہیں جس پر ہمارے زندگی کا دارومدار ہے۔ جہاں ڈپٹی کمشنر چترال نے سیکشن فور لگاتے ہیں ہم پر زور مطالبہ کرتے ہیں کہ درجہ بالا تحریر شدہ کلچر، ثقافت، ماحولیات، رہائشی گھروں اور زمینات کے عوض ہمیں ایسے ترقی نہیں چاہئے ہم اس ملک کے پر امن شہری ہیں۔
ہم وزیر اعظم پاکستان چیف جسٹس پاکستان اور وزیر اعلیٰ سے پر زور اپیل کرتے ہیں کہ اس پراجیکٹ کے خاطر ہم غریب عوام کو بے گھر نہ کریں ۔بصورت دیگر ہم اپنے خواتین اور بچوں کو لیکر بھوک ہڑتال اور دھرنے دینے پر مجبور ہونگے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.