اجتماعی شادی

احتساب کی فکر

دھڑکنوں کی زبان

 محمد جاوید حیات

 سیانوں نے کہا ہے کہ انسان جب رات کو سونے کے لیے سر تکیے سے لگائے تو اس دن پر غور کرے جو ابھی گزرا ہے۔سوچے کہ اس سے کیا کیا حرکتیں سرزد ہوئیں۔۔اس کی زبان اس کے ہاتھ اس کے جوارح جو اللہ کے حکم سے حرکت میں ہیں اور یہ ان کے لیے مکلف ہے سے کیا کیا کام سر انجام ہوئے۔اللہ کے احکامات کی کتنی پاسداری ہوئی رسول ؐ کے دین پر کتنا عمل ہوا۔عہدہ دار نے اپنے عہدے سے کتنا انصاف کیا حکمران نے اپنی رعایا کا کتنا خیال رکھا یہ سب انسان ہیں کیا حکمران کیا رعایا کیا ماتحت کیا آقا کیا امیر کیا غریب اس لیے سب کو اپنے بارے میں یوں سوچنا ہوتا ہے کہ”دنیا“یعنی بقول شکسپیر سٹیچ اس ڈرامے یعنی ”زندگی“نام کے ناٹک میں اس کی اداکاری کیسی ہے لیکن المیہ یہ ہے کہ کوئی اس پر سوچتا نہیں سب کو اپنے آپ کو بھولنے کی عادت ہے اپنا پرفارمینس کیا یاد کریں گے۔

اللہ نے فرمایا کہ تم اپنے آپ کو بھول جاتے ہو۔لیکن بے حسی کی حد یہ ہے کہ ہمیں اپنا آپ نظر نہیں آتا۔ایک آفیسر اپنی سیٹ پہ بیٹھا ہے اسی کے قلم سے اسی کی میز پر اسی کے دفتر میں کرپشن ہوتی ہے لیکن اس کو احساس تک نہیں ہوتا۔اس عارضی دنیا میں رب نے مہلت دی ہے اس کو آزمائش گاہ بنایا ہے۔ہر چیز عارضی ہے عارضی چیز سے دل لگانے والا ویسے بھی بیوقوف ہے لیکن دل ایسا لگاتا ہے کہ اپنے آپ کوبھول جاتا ہے۔فکر آخرت اس لیے ضروری ہے کہ انسان شتر بے مہار نہ ہو۔۔۔

ہمارے ہاں احتساب پر تقریر کرنے والوں سے اگر کوئی پوچھے کہ تو نے کبھی انجناب یعنی”اپنے بارے میں“ سوچا ہے تو شاید جواب نفی میں ہو۔مجھے ایک بار ٹیکسی میں سفر کا مرحلہ پیش آیا مسافروں میں ایک متشرع آدمی بیٹھا تھا وہ معاشرے کی بُرایاں بتا رہا تھا حکمرانوں کو لیڈروں کو آفیسروں کو ذمہ داروں کو اساتذہ کو اڑے ہاتھوں لے رہا تھا ہم سب اس کو سن رہے تھے اس کے فرشتہ ہونے میں کوئی شک نہیں رہا تھا اب اس کی منزل آگئی اس نے پچاس روپے کا نوٹ نکالا اور کہا کہ ٹوٹے پیسے نہیں ہیں ڈرائیور نے کچھ نہیں کہا جب ہم کچھ آگے گئے تو ڈرائیور نے خود کلامی میں کہا ہمارا دماغ خراب کرنے سے بہتر نہیں تھا کہ اپنا کرایہ پورا ادا کرتے یعنی 150 روپیہ۔۔۔۔میں نے پوچھا یہ فرشتہ صفت کون تھا ڈرائیور نے کہا چھوڑو صاحب ہمیں صرف دوسروں ک غلطیاں نظر آتی ہیں اپنی نہیں معاشرہ اس وقت جنگل بن جاتا ہے جب ہم احتساب کی فکر ہی چھوڑ دیں۔۔اگر کوئی قانون اگر کوئی سسٹم اگر کوئی آئین مجرم کے لیے پناہ گاہ بن جائے اگر انصاف کے ہاتھ باندھ دیے جائیں۔اگر کوئی کسی احتساب کو اپنے اوپر لاگو نہ کرے۔ تو اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا۔ہمیں ہزار احتساب عدالتیں قائم کرنے سے بہتر ہے کہ اس فکر کو فروغ دیں۔خود احتسابی کا یہ احساس پیدا کریں۔

یہ احساس نچلے طبقے سے اوپر نہیں چھڑتا اوپر سے نیچے کی طرف سفر کرتا ہے۔آقا سچا کھرا ہو تو نوکر خود بخود اسی رنگ میں رنگ جاتا ہے۔حکمران سچا کھراہو تو رعایا اسی رنگ میں رنگ جاتا ہے۔ہمارے وجود میں خیر و شر دونوں موجود ہوتے ہیں ہمیں مفادات سے لڑنا ہوتا ہے۔ہمیں خواہشات سے لڑنا ہوتا ہے ہمیں حق کے مقابلے میں باطل سے لڑنا ہے۔ہمیں بے انصافی کے مقابلے انصاف کا ساتھ دینا ہے تب جاکے احتساب کی فکر پیدا ہوگی اگر یہ پیدا ہوگی تو کمال ہوگا۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.