مفت تعلیم

غیر یقینی کیفیت پرعملی اقدامات کی ضرورت

اے۔ ایم۔ خان

امریکی صدر جوو بائیڈن کا ایک اعلامیے کے مطابق ہمسایہ ملک افعانستان  سے اس سال ستمبر کے مہینے سے امریکی افواج کا انخلاء شروع ہو جائے گا۔ ستمبر2001 کے  واقعے  کے بعد، جو عام طور پر نائن الیون کے اصطلاح سے زبان زد عام ہے، دو دہائی بعد اب  دوبارہ اُس دن سے افعانستان میں امریکی اور نیٹو ممالک سے مامور افواج کا انخلاء ہو سکتی ہے۔

گزشتہ بیس سالوں سے جاری  دہشت گردی کے نام پر جاری جنگ پر مامور فوج کی واپس ہوسکتی ہے لیکں امریکی حکومت ایک طاقت موجود ہوگی جس کے حوالے سے سفارتی  لیول پر ہوائی اور ذمینی اشتراک پر بات جاری ہے۔ دلچسپی کی بات یہ ہے  کہ امریکی حکومت فوجی انخلاء اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کا اختتام اُن عناصر سے جنگ بندی کے معاہدے سے کررہی ہے جنکے خلاف جنگ  نائن الیون کو شروع کی تھی۔

 ذمینی حقائق اور حالات کو مدنظر رکھ کر دیکھاجائے تو صورتحال غیر یقینی ہے جس کا اثر افعانستان تک محدود رکھنا بھی غیر یقینی ہے۔  نہ صرف افعانستان بلکہ  دوسرے ہمسایہ ممالک بشمول  پاکستان پر انخلاء کے اثرات  ہمسایہ ممالک کے علاقوں میں پیدا ہو سکتے ہیں۔ اگر یہ کہا جائے کہ افعانستان میں امریکی اور نیٹو فورسسز  کی موجودگی سے  امن، دہشت گردی اور دوسرے مسائل  پیدا تھے اور انخلاء کے بعد یہ مسائل ختم ہو سکتے ہیں یہ  پیشنگوئی  ایک مشکل سوال کا ایک بہت آسان جواب ہوسکتا ہے۔

افعانستان میں موجود اور بننے والے مسائل اس سے بڑھ کر زیادہ اور مزید شدت اختیار کرسکتے ہیں جس سے نمٹنا افعان حکومت کیلئے ایک چیلنچ سے کم نہیں کیونکہ طالبان اور دوسرے قبائلی عناصر موجودہ حکومت کو تسلیم کرنے پر پہلے سے عاری ہیں۔ ایک بیرونی طاقت ، امریکی افواج کے انخلائ کے بعد،  صرف افعان حکومت اور وہ مقامی فورسسز آمنے سامنے آسکتے ہیں۔  

افعانستان کی حکومت، طالبان اور دوسرے قبائلی عناصر جس میں جنگی اور طاقت کی کشمکش مزید بڑھنے کا خدشہ ہوسکتی ہے کیونکہ اب تک حالات اندرونی اور بیرونی انتظام سے بنتے آرہے تھے جس کو اُسی طرح رکھنا نہ افعان حکومت کی دسترس میں ہے اور نہ بیرونی طاقتون کا جو افعانستان میں اب تک کردار ادا کر چُکے ہیں،  کیونکہ طالبان اور دوسرے قبائلی عناصر کو اپنے مطابق رکھنا،  جسمیں اُن کے مفادات کو نقصان ہو، بہت مشکل ہے۔

فوجی انخلاء کے بعد جو خلاء بننے جارہی ہے اسے کون، کسطرح اور کیسے پُر کی جاتی ہے وہ وقت ہی بتا سکتی ہے لیکن اس میں قوی امکان موجود ہے کہ جو بھی عناصر اس خطے میں موجود ہیں سبقت لینے کی کوشش کرسکتے ہیں۔   

القاعدہ، ڈرگ مافیا اور دوسرے مفاد پرست عناصر کیلئے غیر استحکام ایک ذرین موقع ہوسکتی ہے تاکہ یہ اپنے اپنے مقاصد امن و امان کی صورت پیدا ہونے میں آگے لے جاسکتے ہیں۔ طالبان اگر افعان سرزمیں میں بحیثیت ایک طاقت بننے میں دشواری کا شکا ر ہو تو باہر سے بحالی کے انتظامات کیلئے اُن مقامات پر توجہ دیگی جہاں ایک زمانے میں اپنے لئے ہیومن رسوس پیدا کرچُکا تھا۔    

افعانستان اور سرحد پار جو بھی حالات  پیدا ہو جاتے ہیں جس سے پاکستان اور افعان بارڈر سے متصل علاقے کے لوگ متاثر ہو سکتے ہیں جس پر توجہ دینے کی ضرورت بڑھ رہی ہے۔  ریاست پاکستان اور عوام دہشت گردی اور شدی پسندی سے مزید  نقصان کا متحمل نہیں ہوسکتا جسکا خمیازہ حکومت اور عوام گزشتہ پانچ دہائیوں سے بھگت رہی ہے۔ اب وقت افعانستان میں غیر یقینی حالات سے نمٹنے،  امن کے لئے اپنا کردار ادا کرنے، دہشت گردی اور شدت پسندی کے خلاف عملی اقدامات کرنے کی ضرورت بن چُکی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *