والنٹیر اور کاروباری قرضہ

اُمت مسلمہ کی آواز

داد بیداد

ڈاکٹرعنایت اللہ فیضی
ہجری سال1442کے رمضان المبارک کا آخری عشرہ مسلمانوں پر بہت بھاری گذرا افغانستان میں مسلمان حملہ آوروں نے مختلف حملوں میں 100سے زیادہ مسلمان بچوں اور بچیوں کو شہید کیا۔ پاکستان میں دہشت گردی کی نئی لہر نے20سے زیادہ جوانوں کی جانیں لے لی۔ کشمیر میں بھارتی فوج کی ظالمانہ کاروائیوں میں مزید تیزی آگئی اقوام متحدہ کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق کشمیر میں ہندوں کو آباد کرنے کے لئے نئی بستیاں بسائی جارہی ہیں گذشتہ ڈیڑھ سال کے اندر 3لاکھ ہندو کشمیر میں آباد ہوچکے ہیں اگلے دوتین سالوں میں کشمیر کے اندر مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کیا جائے گا1917 سے1948تک فلسطین میں اس طرح کی بستیاں بسا کردنیا بھر سے یہودی آبادکاروں کو لایا گیا تھا جب مسلمانوں کو فلسطین سے بے دخل کیا گیا تو یہودی آبادکاروں نے اسرائیل کی ریاست قائم کی۔

انگریزی میں اس عمل کو ڈیموگرافی میں تبدیلی کہا جاتا ہے۔ ڈیموگرافی آبادی کے اعداد وشمار کو کہتے ہیں۔ آج عرب اورعجم کے درمیان وسیع خلیج حایل ہے۔ فلسطین کے شہرالقدس میں مسلمانوں پر اسرائیلی فوج نے اس رمضان میں پے درپے حملے کئے مسجد میں نمازیوں پر فائرنگ کے بے شمار واقعات ہوئے گلی کوچوں میں چلتے پھرتے مسلمانوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا روزہ داروں کو اسرائیلی فوج نے حبس بے جا میں رکھ کر اُن پر تشدد کیا۔ یہ سب واقعات تسلسل کے ساتھ ہوتے رہے اُمت مسلمہ تسلسل کے ساتھ خواب غفلت کے مزے لیتی رہی ۔

نصف صدی پہلے میری عمر کے لوگ سکولوں اور کالجوں میں پڑھتے تھے1965سے1980تک کا دور تھا نماز جمعہ کے اجتماعات میں کشمیر اور فلسطین کی آزادی کے لئے دعائیں مانگی جاتی تھیں۔ ائمہ کرام نہایت خشوع وخضوع سے دعا مانگتے یا اللہ فلسطین کے مسلمانوں کو اسرائیلی مظالم سے نجات عطا فرما، یا اللہ اپنے خصوصی فضل وکرم سے کشمیر کے مسلمانوں کو بھارتی فوج کے ظالم پنجوں سے آزادی عطا فرما ہم باجماعت آمین کہتے تھے، مسجد سے باپر نکلتے وقت ذہن پر فلسطین اور کشمیر کے مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کا بوجھ ہوتا تھاہم آپس میں ان مظالم پر بات کرتے تھے ۔ اس زمانے میں فلسطینی مجاہدہ لیلیٰ خالد امریکی طیاروں کو اغوا کرکے فلسطین کی آزادی کا مطالبہ کرتی تھی ایک کشمیری مجاہد نے بھارتی جہاز گنگا کو اغوا کرکے کشمیر کی آزادی کا مطالبہ کیا تھا یہ وہ زمانہ تھا جب مسلمان ملکوں کی تنظیم اسلامی سربراہ کانفرنس بھی فلسطین اور کشمیر کی آزادی کے لئے آواز بلند کرتی تھی پھر اس کانام اسلامی ملکوں کی تنظیم رکھ دیا گیا اب اس کا صرف نام رہ گیا ہے۔

نصف صدی گذرنے کے بعد آج دنیا کے نقشے پر اسلامی ملکوں کی تعداد 57بتائی جاتی ہے۔ تیل اور گیس کے وسیع ذخائر اسلامی ممالک کے پاس ہیں، سونے کی کانیں بھی ہیں، ربڑکے درخت بھی ہیں اہم بندرگاہیں بھی ہیں اللہ تعالیٰ کا دیا ہوا سب کچھ ہے صرف قیادت اسلامی ملکوں سے چھین لی گئی ہے، یاسرعرفات نہیں رہا، جمال عبدالناصر نہیں رہا،شاہ فیصل نہیں رہا،ذولفقارعلی بھٹو نہیں رہا،معمر قذافی نہیں رہا،صدام حسین نہیں رہا، آیت اللہ خمینی نہیں رہا،قیادت کابحران معمولی بحران نہیں ہوتا بہت بڑا بحران ہوتا ہے۔ 1980کے عشرے میں اسلامی ملکوں کی تنظیم او آئی سی کے غیر معمولی اجلاس ہرسال ہوتے تھے ان اجلاسوں میں افغانستان کے اندر جمہوری انقلاب اور سویت یونین کے ساتھ افغان عوام کی دوستی کے معاہدے کے خلاف قراردادیں منظور کی جاتی تھیں

ان اجلاسوں میں امریکہ اور بھارت کے نمائیندوں کو مبصر کی حیثیت سے بلایا جاتا تھا2001 میں امریکہ نے افغانستان پر قبضہ کیا تو اس کے خلاف ایک بھی اجلاس نہیں بلایا گیا ایک بھی قرارداد نہیں آئی پاکستان اور سعودی عرب سمیت کئی اسلامی ملکوں نے امریکہ کے اتحادی بن کر افغانستان کی بربادی میں دشمن کا ساتھ دیا۔ آج کشمیر اور فلسطین کے ساتھ ساتھ افغانستان بھی لہولہان ہوچکا ہے امت مسلمہ کی آواز بالکل سنائی نہیں دیتی ۔ سنگدلی کی حد یہ ہے کہ آج ہماری مسجدوں میں کشمیر اور فلسطین کی آزادی کے لئے دعائیں مانگنے کی روایت بھی ختم ہوچکی ہے۔

وائے ناکامی متاع کا رواں جاتارہا
کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا

Leave a Reply

Your email address will not be published.