Underage brides in Chitral

پاکستانی مرد چترال سے شادی کرنے کو ترجیح کیوں دیتے ہیں؟

(محمد الیاس احمد (گولدور چترال
پہلی بات یہ کہ پاکستانی مرد چترال سے شادی کرنے کو کیوں ترجیح دیتے ہیں؟ اسکی کئی وجوہات ہیں، چترالی خواتین ادب احترام کرنے والی، خوبصورت، وفاشعار اور انسانی ہمدردی رکھتی ہیں۔ معاشرتی اور معاشی طور پر بھی انکی شادی آسان ہوتی ہے۔
شادی میں کڑی شرائط اور فضول نخرے وغیرہ نہیں ہوتے۔ ان حالات کا غلط فائدہ اٹھا کر کچھ سماج دشمن اور غیرت سے مبرّا عناصر نے اس عمل کو پیشے کے طور پر اپنا لیا کہ سادہ لوح غریب لوگوں کی بیٹیوں کی دوسرے علاقے میں رشتے کروا کر رقم وصول کرتے جسکا علم رشتہ دینے والے کو نہیں ہوتا تھا۔ 1980 کی دھائی کے آخر میں اس عمل کے روک تھام کیلئے ایک تنظیم مقرر ہوئی اور چند سالوں میں پیشہ ور دلالوں کا سلسلہ رک گیا مگر چوری چھپے دلالی کسی حد تک چلتی رہی۔ یہ انجانے دامادوں کو بیٹی دینے کے خلاف اچھی مہم تھی اور اب چھی ہے مگر جو لوگ مکمل طور پر جان پہچان رکھتے کسی کو بیٹی اپنی اور بیٹی کی مرضی سے دے رہے ہوں تو اسکی ذمہ داری اس تنظیم پر عائد نہیں ہوتی۔
لاسپور میں کچھ عرصہ قبل ایک لڑکی کی ایک جوان سے شادی ہوگئی۔ پورے ملک کی نشریات پر اسکی خبر پھیلائی گئی کہ کمسن لڑکی کی ایک پختہ جوان سے شادی ہوئی ہے۔ شادی چونکہ لڑکی کی رضامندی سے ہوئی تھی لہٰذا انکے والدین کی اور علاقے کی بدنامی کے سوا اس خبر کے پھیلانے سے کوئی اور فائدے کا نتیجہ نہیں نکلا۔ اسی طرح معلوم ہواکہ حال ہی میں ایک اکسٹھ سالہ سیاستدان نے جغور میں ایک لڑکی سے دوسری شادی رچائی۔
چترال سے باہر شادی کرنے والوں کے تحفظ کے لئے وضع کی ہوئی شرائط پرعمل درآمد کرانے کیلئے تنظیم نے اپنی ذمہ داری نبھائی اور اس مقام تک رسائی کی تو ان لوگوں نے ان کو شادی رد کرنے کی یقین دھانی کرواکر انکو واپس کر دیا۔ پھر اپنی بیٹی خود لے جاکر سیاستدان سے بیاہ دی۔ اس عمل میں لڑکی اور اسکے گھر والوں کی مرضی شامل تھی۔
تنظیم نے اپنی ذمہ داری نبھائی مگر ان لوگوں نے اپنی مرضی کی شادی ہوگئی معاملہ ختم۔ اب اس معاملے کو پورے ملک کی میڈیا پر بلکہ بیرون ملک بھی چلا کر اس بات کو اچھالنا کہ نابالغ لڑکی کی غیر قانونی طور پر شادی ہوئی ہے، یہ سراسر ان خاندانوں اور علاقے کی دانستہ طور پر ایسے لوگوں کے ہاتھوں صریح بدنامی ہورہی ہے جو بظاہرعلاقے کی نمائیندگی کرنے کے دعوے کر رہے ہیں۔
خدا کا خوف کرو، اگر مسلمانی کا دعویٰ کرتے ہو اور انگریز کے 18 سال کے فارمولا پر ایمان رکھتے ہو، یا اپنے اشتہار اور سیاسی مقصد کیلئے مخالفت کا یہ کلیہ ایجاد کر رہے ہو؟
امریکا اور برطانیہ میں 18 سال سے کم کی شادی نہیں ہوتی اور اسکا نتیجہ یہ ہے کہ وہاں بارہ تیرہ سال میں بالغ ہونے والی لڑکیاں بے راہ روی کا شکار ہوتی ہیں اور بچے گود میں اٹھائے لئے پھرتی ہیں جنکے باپ معلوم نہیں ہوتے۔
چترال میں محنتی لوگ کم ہیں اور جو ہیں وہ اکثرعلاقے سے باہر کام کرتے ہیں کیونکہ اپنے علاقے کی یہ روایت ہے کہ کوئی شوشپ حلوہ بنا کر بیچے تو اسکو اے شوشپ کہہ کر طعنہ دیتے ہیں، دودھ بیچنے والے کو شیر والا، لوہار کو موچی، گدھوں پر باربرداری کرانے والے کو گوردوغ وال یہ تمام پیشے طعنے کے طور پر انکی اولاد کو بھی دئے جاتے ہیں اور جو سفید کپڑے پہن کر سارا دن آوارہ پھرے اور ندی یا دریا کے کنارے تمباکو نوشی کرے اور ناچ گانے کی ہر محفل میں حاضری دے وہ سماج کا نامی گرامی شخص مانا جاتا ہے۔
 تم لوگ دوسرے علاقوں کو ہونے والی شادیاں روکو گے تو کسی بےکار لوفر یا نشئی سے علاقے کی بیٹی بیاہ دو گے کیا؟ اور کوئی مناسب رشتوں کا تمہارے پاس متبادل بندوبست ہے؟ یقیناً نہیں ہے کیونکہ تمہارا بس اس پر نہیں چلتا ہے۔ تو پھر کسی لڑکی کی شادی دوسرے علاقے میں ہوئی ہے تو اسکی اس علاقے اور اس گھر میں جہاں وہ جارہی ہے بدنامی اور بے قدری کیوں کر رہے ہو؟ اسی پر تمہارا بس چلتا ہے اب۔
ھم پہلے مسلمان اور پھر چترالی ہیں۔ چترال سے شادی کرنے والوں کی تصدیق ضرور کرنی چاہئے تاکہ بیٹی کا تحفظ ہو مگر اسکی آڑ لیکر شادیوں کی مکمل روک تھام، حوصلہ شکنی اور بے مقصد تنازعات پیدا کرنے اور علاقے کی بدنامی کا ذریعہ نہیں بننا چاہئے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *