طاقت کا سر چشمہ

چترال اور گلگت

داد بیداد

ڈاکٹرعنایت اللہ فیض
سوشل میڈ یا پر شہزادہ سراج الملک نے ایک مصدقہ خبر لگا ئی ہے کہ موسمیاتی تبد یلی، گلیشیر پگھلنے اور دیگر وجو ہات سے رونما ہونے والے سیلا بوں کی روک تھا م کے لئے وفاقی حکومت نے گلگت بلتستان کو تین بڑے گیس پلا نٹ دینے کا حکمنا مہ جاری کیا ہے یہ پلا نٹ 2016ء میں چترال کے لئے منظور کئے گئے تھے 2018ء میں یہ پلا نٹ لا ہور پہنچا ئے گئے انتخا بات کی وجہ سے ان کو چترال پہنچا نا ممکن نہیں ہوا اب گلگت کو ان کی ضرورت پڑ گئی ہے لا ہور سے براستہ چکدرہ چترال لے جا نے کی جگہ ان کو براستہ مانسہرہ بیشام سیدھا گلگت لے جا یا جا ئے گا کا بینہ کی اقتصا دی رابطہ کمیٹی نے اس ضمن میں فیصلہ کرتے ہوئے تین وجو ہات کا بطور خاص ذکر کیا پہلی وجہ یہ ہے کہ گلگت بلتستان میں گلیشر پگھلنے سے سیلا ب آرہے ہیں دوسری وجہ یہ ہے کہ درخت کا ٹنے اور جلا نے کی وجہ سے پہاڑ ننگے ہورہے ہیں تیسری وجہ یہ ہے کہ گیس دستیاب ہونے کے بعد جنگلات پر عوام کا دباءو کم ہو گا درخت محفوظ ہو نگے اس لئے چترال کا منصو بہ منسوخ کر کے تینوں گیس پلا نٹ گلگت منتقل کئے جائیں سو شل میڈیا پر چترالی عوام سے پر زور احتجا ج کی اپیل کی جا رہی ہے ان لو گوں کو 5ستمبر 1977کا بڑا فیصلہ یا د آرہا ہے جنرل ضیاء الحق نے حکومت سنبھا لنے کے ایک ما ہ بعد لواری ٹنل کی فائل منگوائی اور ٹنل کے منصو بے کو ختم کر کے فنڈ کسی منا سب سکیم کو دینے کا حکم دیا اگلے 2مہینوں میں فر نٹیر ورکس ارگنا ئزیشن نے بھاری مشینری اٹھا ئی لواری ٹنل کے دہا نے پر لو ہے کی جا لیاں لگائیں اور کا م بند کر دیا مشینری کو واپس لے جا نے میں پورے دو مہینے لگ گئے جنرل ضیا ء الحق کے اس فیصلے کے خلا ف کسی نے عدالت سے رجوع نہیں کیا کسی نے جلسہ نہیں کیا کسی نے جلو س نہیں نکالا ، کوئی شور شرابہ نہیں ہوا ، زندہ باد اور مر دہ باد کے نعرے نہیں لگا ئے گئے کسی نے دھر نا نہیں دیا کسی نے بھوک ہڑ تال نہیں کی چنا نچہ منصو بہ نہا یت ارام کیساتھ بند ہوا، چترال کے لو گوں نے 2005ء تک 28سالوں تک خا مو ش رہ کر انتظار کیا 2005ء میں جنرل مشرف اور جنرل افتخا ر حسین شاہ نے لواری ٹنل پر دوبارہ کام شروع کیا چترال دوستی کام آئی اگر مشرف کی جگہ کوئی اور ہوتا تو 2005ء میں بھی لواری ٹنل پر کام شروع نہ ہوتا جنرل ضیاء الحق کے فیصلے کو پتھر پر لکیر کی حیثیت حا صل ہو تی یہ ما ضی قریب کا تلخ تجربہ ہے اس وجہ سے سو شل میڈیا پر مزا حمتی تحریک کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے اگر اسی مسئلے پر کسی نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹا یا تو اس کے لئے دو بڑے قوانین کا سہا را لیا جا سکتا ہے ایک قانون یہ ہے کہ ملک کے خزا نے پر عوام کا حق ہے کوئی حکمران کسی سیا ستدان کے ساتھ اپنی ذا تی دشمنی کی وجہ سے عوام کے کسی منصو بے کو منسوخ کرنے کا حق نہیں رکھتا یہ بنیا دی حقوق کی کھلم کھلا خلا ف ورزی ہے دوسرا قانون یہ ہے کہ کسی منصو بے پر اگر سر کاری وسائل خر چ ہوچکے ہوں کروڑوں روپے کی زمین خریدی گئی ہو کروڑوں روپے کی مشینری لائی گئی ہو تواُس منصو بے کو سیا سی بنیا دوں پر منسوخ یا ختم کرنے سے قومی خزانے کا نقصان ہوتا ہے تر قی کا عمل رک جا تا ہے اور کسی حکمران کو ایسا کرنے کا ا ختیار حا صل نہیں ہے اگر سول سو سائیٹی یا سیا سی تنظیموں نے اس فیصلے کے خلاف مزا حمتی تحریک چلا ئی تو ان کے پاس عوام کو متحر ک کرنے کے لئے چار اہم نکا ت ہیں پہلا نکتہ یہ ہے کہ دو سیا ستدانوں کی ذاتی دشمنی میں 5لاکھ کی آبادی کے لئے ترقی کا منصو بہ ختم کرنا سیا سی کھیل کا غلط داءو ہے آنے والے بلدیاتی انتخا بات میں بھی حکمران جما عت کو اس کا نقصان ہو گا عام انتخا بات میں بھی حکمران جماعت کو اس کا نقصان ہوگا حا لیہ ضمنی انتخا بات میں اس طرح کے فیصلوں کا نتیجہ حکمران جما عت نے دیکھ لیا ہے دوسرا نکتہ یہ ہے کہ مو سمیا تی تغیراور گلیشر پگھلنے کا سب سے زیا دہ خطرہ ضلع چترال کو درپیش ہے ما ہرین کے اندازے کے مطا بق ضلع چترال کا 13فیصد رقبہ گلیشر سے ڈھکا ہوا ہے ان گلیشیر ز کی کل تعداد 542ہے ان میں سے 125گلیشیر پگھلنے کے عمل سے گذر رہے ہیں گذشتہ 20سا لوں میں 6گلیشر پگھل چکے ہیں اور گلوف کی وجہ سے بڑے بڑے سیلاب آئے ہیں جن میں جانی اور ما لی نقصان ہوا ہے مزید 18گلیشر ایسے ہیں جن کو اگلے 20سالوں کے لئے خطر نا ک قرار دیا گیا ہے تیسرا نکتہ یہ ہے کہ چترال میں جلا نے کے لئے ہر سال شا ہ بلوط کی 80ہزار ٹن لکڑی استعمال ہوتی ہے جبکہ 60ہزار ٹن دیگر لکڑیاں جلا ئی جا تی ہیں گیس پلا نٹ کی تنصیب کے بعد اس ضلع میں 40ہزار ٹن لکڑی سا لانہ بچا نے کا منصو بہ تھا چوتھا نکتہ یہ ہے کہ سیا ستدان آتے جا تے ہیں ملک رہتا ہے حکومت کے ادارے اپنی جگہ رہتے ہیں عوامی فلا ح و بہبود کا منصو بہ سیا ستدانو کی با ہمی عداوت اور دشمنی کی نذر نہیں ہونی چا ہئیے مشہور مقولہ ہے کہ بچہ روئے تو ما ں دودھ پلا تی ہے عمران خان نے کہا تھا میں ان کو رلا ءو نگا چنا نچہ رونے کا وقت آگیا ہے۔

One Reply to “چترال اور گلگت”

  1. بلکل درست فرمایا ہے سر. آب وقت ہے کہ ہر شعبہ سے تعلق رکھنے والے افراد انفرادی اور اجتماعی طور پر روئیں.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *