ہلکی پھلکی خبریں

اتفاق رائے اور جرگہ

داد بیداد

ڈاکٹرعنایت اللہ فیضی
دشمن کے کارندوں نے بلوچستان میں ایک اور حملہ کیا 11مزدور بے دردی سے قتل کئے گئے لیکن وطن عزیز کے سیاسی کھلا ڑی اس سفاکی سے بے خبر ہی رہے اور شا ید دشمن نے ملک کے سیا سی حا لات، پارلیما نی نظام کی کمزوری، سیاسی جماعتوں کی صفوں میں موجود افراتفری اور ملک کی مجموعی سیا سی فضا میں انتشار کا فائدہ اٹھا نے کے لئے اپنے کا رندوں کو خصوصی ٹاسک دیا ہے ان کی ذمہ داری لگا ئی ہے کہ سیا سی افرا تفری سے خوب فائدہ اٹھایا جا ئے موجو دہ سیا سی تعطل کی فضا ملک اور قوم کے لئے کس قدر نقصان دہ ہو سکتا ہے اس کا اندازہ ملک کے عوام کو بھی ہے ذراءع ابلا غ کو بھی ہے اگر کسی کو اس کا اندازہ نہیں تو وہ سیا ستدانوں کا طبقہ ہے

پتہ پتہ بوٹا بوٹا حال ہمارا جا نے ہے
جا نے نہ جا نے گل ہی نہ جا نے باغ تو ساراجا نے ہے

افسوس نا ک صورت حا ل یہ ہے کہ حکومت اور اپو زیشن دونوں اس افراتفری کے برابر ذمہ دار ہیں کسی ایک فریق کو بری الذمہ قرار دینا مشکل ہے ’’دونوں طرف ہے آگ بر ابر لگی ہوئی‘‘ ہم سوئے ہیں مگر ہمارا دشمن جا گ رہا ہے مگر ہ میں اس کا احساس تک نہیں 

وائے نا کا می متاع کا رواں جا تا رہ ا
کارواں کے دل سے احساس زیاں جا تا رہا

مو جودہ انتشار اور افراتفری کو ختم کرنے کے لئے جو اہم تجویز سامنے آئی ہے وہ یہ ہے کہ پا رلیمنٹ کو بطور جر گہ استعمال کر کے سیا سی مسائل کا حل ڈھونڈ لیا جائے اگر غور کیا جائے تو پارلیمنٹ کا کر دار ہی جر گہ والا ہے ملک کے اہم مسائل پا رلیمنٹ میں زیر بحث آتے ہیں پڑو سی ملک افغا نستان میں آئین سازی بھی جر گہ کے ذریعے ہو تی ہے لویہ جر گہ کے اراکین ملک کے آئین کی منظوری دیتے ہیں اس وقت پا کستان میں جو حا لا ت ہیں وہ حزب اختلا ف کا احتساب کرنے کے گرد گھو متے ہیں حکومت کہتی ہے کہ حزب اختلا ف کے چیدہ اراکین کا احتساب کرنے کے لئے ان کو جیلوں میں ڈالا جا نا ضروری ہے حزب اختلا ف کہتی ہے کہ حکومت سیا سی انتقام لے رہی ہے اس لئے حکومت کو مستغفی ہو کر نئے انتخا بات کا اعلا ن کرنا چاہئیے دونوں گروہ اپنی بات پر بضد ہیں درمیا نہ راستہ نکا لنے کے لئے کوئی تیا ر نہیں احتساب کا ذکر ہو تا ہے تو بات دور تک جا تی ہے اور اس کے ڈانڈے عدا لتوں سے جا ملتے ہیں کسی شاعر کا مصرعہ ’’ بات چل نکلی ہے دیکھیے کہاں تک پہنچے‘‘ درمیان میں نیب کا ذکر آئے تو سب لو گ اپنے کا نوں کو ہاتھ لگا تے ہیں اور کسی ویرانے کا مشہور واقعہ سنا تے ہیں

کہتے ہیں کسی ویرانے سے طوطا اپنی بیوی یعنی طوطی کو لیکر گزر رہا تھا طوطی نے کہا کتنا بڑا ویرانہ ہے یہاں اُلّو کا بسیرا ہو گا طوطے نے کہا اُلو ہی نے اس کو ویرانہ بنا دیا ہو گا اتنے میں الو کا وہاں سے گذر ہوا الو نے دونوں کی دعوت دی د عوت کے بعد دونوں جا نے لگے تو الونے طوطی کو جا نے سے منع کیا اُس نے کہا تم میری بیوی ہو طوطے کے ساتھ کہاں جا رہے ہو، طوطے نے کہا یہ میری بیوی ہے جھگڑے کو حل کرنے کے لئے وہ قاضی کی عدالت میں گئے قاضی نے فیصلہ دیا کہ طوطی الو کی بیوی ہے جب روانہ ہونے لگے تو الو نے طوطے سے کہا اپنی بیوی لے جاءو ، طوطا بولا قاضی نے تمہارے حق میں فیصلہ دیا ہے الو بولا بیوی تمہاری ہے میں تمہیں یہ دکھا رہا تھا کہ بستیاں الو کی وجہ سے ویراں نہیں ہوتیں قاضی کے غلط فیصلوں کی وجہ سے ویراں ہوتی ہیں اگر حزب اقتدار اورحزب اختلا ف کو ایک میز پر بٹھا نا ہوا تو وہ میز جیل میں لگانی پڑے گی

گرینڈ نیشنل ڈا ئیلاگ یا وسیع تر قو می مکالمے کی تجویز دینے والے محمد علی درانی کو پتہ ہے کہ حکومت اور حزب اختلا ف کے درمیاں مذاکرات کے لئے پارلیمنٹ کو جر گہ تسلیم کر لیا جائے تو مذاکرات کا راستہ مل سکتا ہے ورنہ دونوں فریق ایک دوسرے کو دیوار سے لگا نے کی کوشش میں ملک اور قوم کے دشمن کو سازشوں کا مو قع دینگے دشمن کی نظر صرف بلو چستان پر نہیں وہ سندھ اور جنو بی پنجا ب کو بھی نشا نہ بنا سکتا ہے خیبر پختونخوا کو بھی نشا نہ بنا سکتا ہے حب الوطنی کا تقا ضا یہ ہے کہ سیا سی کھیل کے دونوں فریق پا رلیمنٹ کو جر گہ تسلیم کر کے اتفاق رائے کی راہ ہموار کریں ورنہ دونوں فریقوں کو پچھتا نا پڑے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *