پی ٹی آئی چترال بمقابلہ کریم اللہ

پی ٹی آئی چترال بمقابلہ کریم اللہ

سید اولاد الدین شاہ
19 نومبر 2020 کو کریم اللہ، جو ایک سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ ہے، بونی کے خراب حال روڈ کے بارے پوسٹ
کرتا ہے اور ٹھیکیدار کے طاقت ور ہونے اور ادارے کے بے بسی کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کرتا ہے۔ ساتھ ھی ہمارے ڈپٹی کمشنر صاحب کو بھی تنقید کا نشانہ بناتا ہے۔ اس پر تنقید کی وجہ ایک سڑک کے کام میں سست رفتاری ہے اور اس پوسٹ میں پی ٹی آئی پر چترال کے چند افراد پر رشوت لینے کے کا بھی الزام لگاتا ھے۔
پھر اس واقعے کے کئی ہفتے بعد یہ پوسٹ پی ٹی آئی اپر چترال کے نمائیندوں کے نظروں سے گزرتا ہے اور درخواست لے کر ڈی آفس چترال پہنچ جاتے ہیں۔ پھر کریم اللہ کو ڈی سے آفس سے فون کرکے بلایا جاتا ہے۔ 
کریم اللہ کہتے ہیں بات صرف اتنی سی تھی جو میں نے سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم فیس بُک پر پوسٹ کیا تھا لیکن الزام پہاڑ جتنے تھے جو میرے اوپر لگائے گئے۔ میں نے تنقید صرف پی ٹی آئی پر نہیں کی۔ حکومت وقت پر کرتا رہتا ہوں، چاہے پی پی پی ہو، مسلم لیگ ہو، یا مذہبی سیاسی جماعتیں لیکن ایسا رد عمل کبھی نہیں آیا۔ اگر بات بُرا لگے ذاتی طور پر بول سکتا ہے یا متعلقہ فورم میں بلا سکتا ہے لیکن غیر متعلقہ فورم پر بُلانا،  تنگ کرنا اور منہ بندی کی کوشش کرنا سمجھ سے باہر ہے۔
پی ٹی آئی چترال کے انفارمیشن سیکرٹری سید مختارعلی شاہ کہتے ہیں۔ ہم کریم اللہ کے کاوشوں کو سراہتے ہیں۔ ہمارے علم کے مطابق کریم کو بُلا کر ثبوت فراہم کرنے کو کہا گیا ہے۔ اگر وہ ثبوت فراہم کر سکتے ہیں ہم مذکورہ شخص کے خلاف کاروائی کرینگے۔ ہم نے اُن کے خلاف کوئی ایف آئی آر نہیں کیا، کوئی قانونی چارہ جوئی نہیں کی۔ باقی ثبوت مانگنا کوئی غلط بات نہیں۔
اُن کا مزید کہنا تھا۔ اُس کے پاس اگر کرپشن کے کوئی ثبوت ہیں۔ تو ہمیں یا متعلقہ فورم میں پیش کرے۔ ہم اس کے ساتھ ہیں اور ہم اس کی حفاظت کی بھی ذمہ داری لیتے ہیں۔ اگر نہیں ہیں پوری پارٹی بدنام تو نہ کرے۔ 
بہرحال بات جو بھی ہے۔ کسی شہری کو غیرمتعلقہ فورم میں بُلانا غلط ہے۔ اس پوسٹ میں جس کی وجہ سے اُس کو بُلایا گیا ہے۔ ڈپٹی کمشنر اپر چترال پر بھی تنقید کی گئی ہے۔ الزامات تو لگتے رہتے ہیں۔ ان کا کوئی ثبوت نہیں ہوتا۔ اگر ہر الزام پر ثبوت کی ضرورت ہوتی، تو ہمارے خان صاحب کے پاس ثبوتوں کا بھرمار ہوتا۔
 اور خان صاحب ان ثبوتوں کی بنیاد پرکئی کیسز جیت چکے ہوتے اور ہمارے خان صاحب پاکستان کے قرضے اتار چکے ہوتے جو کنٹینر کے اوپر کھڑے ہوکر اربوں روپے کرپشن کے دعوے کرتے تھے اور کتنے سیاسی رہنماؤں کو سزائیں بھی مل چکی ہوتی۔ 

Leave a Reply

Your email address will not be published.