پاکستان بین الاقومی تنظیم براے انسداد دھشت گردی کا امتحان پاس کیوں نہیں کرسکا؟ 

 پاکستان بین الاقومی تنظیم براے انسداد دھشت گردی کا امتحان پاس کیوں نہیں کرسکا؟ 

ڈاکٹر خلیل احمد
پاکستان کے حوالے سے ایف. اے. ٹی. ایف کے اعتراضات میں دھشت گردی کے خاتمہ کے ساتھ مدارس کا نظام کو بین الاقوامی سطح پر قابل فہم بنانا اور ان مدارس کو ملنے والی مالی امداد کو شفاف بنانا، غیر قانونی اور اور دھشت گر قرار دی گئی دینی تنظیمات اور بین الاقوامی سطح پر مشکوک تنظیمات اور افراد کی پہچان اور ایسی تنظیمات اور افراد پر پابندی اور ان سے جڑے املاک اور دوسرے زرایع امدن اور بنک اکاونٹس کو ضبط کرنے کے مطالبات ھیں جنہیں پورا نہ کرنے کی وجہ سے ملک کو دوبارہ گرے لسٹ میں دکھیلا گیا۔
مدارس کی فنڈنگ اور ان سے جڑے دھشت گردوں سے ان کے مبینہ تعلق کے معاملات کو جب تک پاکستان صاف طور پر پیش نہیں کر سکے گا پاکستان کے فروری میں بلیک لسٹ ھونے کے خدشات اپنی جگہ موجود رھیں گے. دوسری طرف دینی تعلیم کو یکسر ختم کرنا بھی ہمارے لیے ممکن نہیں ہے. اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ مدارس کا نظام حکومت اپنے ہاتھ میں لے اور علیحدہ دینی تعلیم کے بجائے میٹرک تک ملک میں یکساں نظام تعلیم ترتیب دی جائے. اس کے بعد ہر طالب علم کو اختیار ہو کہ وہ دینی علوم میں آگے جانا چاہتا ہے یا عصری علوم میں. یونیورسٹیوں میں عصری علوم کی طرح دینی علوم کے بھی شعبے قائم ہوں اور ہر طالب علم کو اس کے ذوق کے مطابق علوم القرآن، علوم الحدیث، تاریخ اسلام وغیرہ میں ماسٹر، ایم فل اور پی ایچ ڈی کرنے کے مواقع فراہم کیے جائیں.
اس طریقے سے نہ صرف ہم دینی علوم کو جاری رکھتے ہوئے عالمی اداروں کی پابندیوں سے بچ سکتے ہیں بلکہ ملک سے فرقہ واریت کی لعنت سے بھی چھٹکارا حاصل کیا جاسکتا ہے. یہ بات کسی سے بھی مخفی نہیں کہ پاکستان کے اندر مسلکی بنیادوں پر مدارس قائم ہیں، جہاں اپنے مسلک کو حق ثابت کرنے اور دوسرے مسالک کے باطل یا غلط ہونے کا نہایت منظم اور مربوط طریقہ پر درس دیا جاتا ہے. پھر ان مدارس میں نہ جانے کس دور کی لکھی ہوئی کتابیں پڑھائی جاتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ نصاب آجکل کے دور سے ہرگز ہم آہنگ نہیں. مدارس میں اس زمانے کا مرتب کردہ نصاب ہے جب لوگوں کے پاس وقت ہوتا ہے پندرہ پندرہ اور بیس بیس سال لوگ پڑھتے تھے، تب کہیں جاکے اس کا پورا ادراک ہوتا تھا اور دینی علوم کے ماہرین پیدا ہوتے تھے. مگر اس تیز رفتار دور میں اس مشکل نصاب کو آٹھ سال میں پڑھانے سے بمشکل ہزار میں سے ایک یا دو کام کے لوگ پیدا ہوتے ہیں اور باقی صرف “سند یافتہ” بن کر نکلتے ہیں. درحقیقت یہ لوگ پھر معاشرے پر بوجھ بھی بنتے ہیں اور علم میں پوری دسترس نہ ہونے کی وجہ سے دین سے متعلق لوگوں کی رہنمائی بھی درست طریقے سے نہیں کرپاتے. منتظمین مدارس کو معاملے کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے تعاون کرنے کی ضرورت ہے اور حکومت کے ساتھ گفت و شنید کے ذریعے دینی تعلیم کی راہ کو جاری رکھنے کی اس واحد طریقے پر سوچ لینا چاہیے. بصورت دیگر اقوام عالم انسداد دھشت گردی کی کی اڑ میں کسی بھی حکومت کو سخت سے سخت تر قدم اٹھانے پر مجبور سکتی ھیں۔ پاکستان اور پاکستان کے عوام میں کسی قسم کی پابندی کو بردشت کرنے کی سکت نہیں ھے ۔ اج مہنگای کا زمہ دار حکومت کے ساتھ دوسری سیاسی سیاسی پارٹیوں پر بھی عاید ھوتی ھے۔
ایف اے ٹی ایف کا یہ بھی مطالبہ ھے کہ تمام سیاسی پارٹیاں دھشت گردی کے خلاف ایک پیچ پر اجایں۔ اگر ھم ایسا نہ کر سکے تو پاکستان کسی خطرے سے بھی دوچار ھوسکتا ھے۔ حکومتیں انی جانی ھوتی ھیں لیکن یہ ملک ھم سب کا ھے۔ ھمیں پہلے اس ملک کے عظیم تر مفاد میں یک اواز ھونا پڑے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *