کورونا – حقیقت یا فسانہ

تحریر: عمران الحق

کورونا – حقیقت یا فسانہ

کورونا - حقیقت یا فسانہ

اچھے خاصے “تالیم یافتہ” لوگوں کو یہ یہ کہتے ہوئے سنا کہ کورونا ورونا کوئی نہیں یہ سب یہود و ہنود کی سازش ہے اور ہمیں یونہی بےوقوف بنایا جارہا ہے۔ دلیل یہ دیتے ہیں کہ وبا کے دنوں میں کورونا سے جتنے لوگ مرے ہیں، اس کی شرح عام دنوں کے فلو اور زکام کے مجموعی اموات سے بھی کم ہے۔ ان حضرات کی آنکھیں چار کرنے کیلئے چند باتین عرض کرنا چاہتا ہوں، تاکہ مزید “جہالت” پھیلا کر لوگوں کو برباد کرنے سے باز رہیں..
اول یہ کہ پینڈیمیک اس مرض کو نہیں کہتے جس سے زیادہ لوگ مرجائیں بلکہ پینڈیمیک وہ ہے جو ایک سے دوسرے کو لگ جائے اور یوں جلد ہی وسیع علاقے تک پھیل جائے۔ اگر وبا کا تعین خالص شرح اموات پر کیا جاتا تو دہشت گردی سب سے بڑی وبا ہوتی جس سے مجموعی طور پر سب سے زیادہ لوگ مارے گئے.

دوم یہ کہ اس وبا کے متعلق جملہ علمائے طب متفق ہیں۔ سائنسی ماہریں جو بات کرتے ہیں وہ تحقیق اور سائنسی تجربے کی بنیاد پر کرتے ہیں نہ کہ جھوٹے دعوے یا سیاسی چال پر۔

مشہور تاریخ دان “یووال نوح ہراری” کا قول ہے کہ دنیا کے مختلف ممالک کے سائنسدان بے شک مختلف سیاسی نظریات رکھتے ہوں اور مختلف خدائوں کو پوجتے ہوں لیکن فیزیکل سائینس کا ایک ہی عقیدہ ہے اور وہ عقیدہ سائنسی قوانیں اور اصولوں پر قائم ہے۔

ووہاں کے سائنسی لیب سے لیکر آکسفرڈ کے تجربہ گاہوں تک اگر ایک وبا پر اتفاق نظر آتا ہے تو یقینا اس میں حقیقت ہے۔

سوم، اگر یہ سب جھوٹ کا پلندہ ہے تو یہ بھی بتایا جائے کہ یہ جھوٹ کیوں پھیلایا جارہا ہے۔ آخر اس کا فائدہ کس کو ہوگا؟  لاک ڈاون کی وجہ سے سب سے زیادہ معاشی اور تجارتی نقصان خود ترقی یافتہ ممالک کو ہوا ہے۔ امریکہ کی معییشت پوری دنیا کی 20 فیصد ہے جو کہ تمام مسلم مملک کی مجموعی حصہ سے زیادہ ہے۔  اور اسی طرح چائنہ دنیا کی معیشت کے 13 فیصد کا مالک ہے۔

لاک ڈاون کی وجہ سے کارخانے بند پڑے ہیں، تعلیمی نظام درہم برہم،  اور برآمدات رکے ہوئے ہیں.

بی-بی- سی کے مطابق امریکہ میں بیروزگاری تاریخ کی بلند ترین سطح کو چھو رہی ہے۔ برطانیہ میں دو ہفتوں کے دوران دس لاکھ افراد ملازمت سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ تیل کی قیمتیں کم ترین سطح تک آپہنچیں ہیں.

2008 میں جو مالی بحران آیا تھا اس سے عالمی معیشت  4 فیصد تک کم ہوگیا تھا لیکن ماہریں کے مطابق کورانا سے 7 فیصد تک کے نقصان کا امکان ہے۔  روس کا معاشی دارومدار قدرتی گیس کے برامدات پر ہے کورانا کی وجہ سے روس اور مشرق وسطی کے ممالک بدترین بحران کا شکار ہیں۔ ایسی صورت حال میں یہ سمجھ نہیں آرہا کہ یہود اس طرح کی جھوٹ سے آخر کیا کمانا چاہتے ہیں۔

چہارم،  یہ کبھی ممکن نہیں ہوا اور نہ ہوگا کہ انسانوں کی ایک عظیم اکثریت ایک جھوٹ پر متفق ہو۔ وہ تمام ممالک جو اسلامی اور غیراسلامی، مشرقی اور مغربی، کمیونسٹ اور کیپیٹلسٹ، عرب اور عجم، سنی اور شیعہ، عیسائی اور یہودی، جیسے بےشمار رنگوں اور اختلاف کے باوجود کیسے ایک جھوٹ پر یک جان یک قالب متفق ہوسکتے ہیں۔ اگر یہ ایک ملک یا خطے کا کوئی سیاسی کھیل ہوتا تو اب تک اسکے مخالفیں اٹھ چکے ہوتے اور واہیات کا پردہ چاک کرچکے ہوتے۔

ایران اور اسرائیل جو کسی بھی پلیٹ فارم پر یکجا نہ ہوسکے، اج کورونا کے خلاف متفق ہیں، شمالی کوریا اور امریکہ جو ایک دوسرے کی ہر ایک دعوے کو رد کرتے ہیں اج اس وائرس کے خلاف ایک دوسرے کی تائید کرتے ہیں، ایران اور سعودی عرب جو ایک دوسرے کے سیاسی حریف ہیں اج دونوں لاکڈائون پر رضامند ہیں، کلیسا، مسجد اور مندر سب کے سب اس وبا کی تصدیق کرتے ہیں۔

پنجم، کسی واقع اور امر کے متعلق رائی قائم کرنے کے دو ہی ماخذ ہیں ایک مذہب اور دوسرا سائنس۔ ان دونون میں اختلاف کی صورت میں بعض لوگ سائینس کی تقلید کرتے ہیں جبکہ بعض مذہب کا دامن پکڑے رکھتے ہیں۔ لیکن کورونا کے متعلق دونوں متفق ہیں اور دونوں اپنی بساط میں اس کے خلاف کام کر رہے ہیں۔ ایسے میں دونوں سے روگردانی کرتے ہوئے سازشوں کا سہارا لینا خود سے بھی دشمنی ہے اور قوم سے بھی غداری۔

آخر میں اتنا گزارش ہے کہ ہمیں بحیثیت مسلمان اور ذمہ دار شہری، ان تمام ہدایات پر عمل کرنا چاہیے جو اسلامی، ملکی اور عالمی اداروں نے جاری کردیئے ہیں اور ساتھ ہی اس طرح کے واہیات سے خود کو اور دوسرون کو بھی بچانا چاہیے۔

کورونا – حقیقت یا فسانہ

One Reply to “کورونا – حقیقت یا فسانہ”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *