سیاحت دُبئی کی – ۲

سیاحت دُبئی کی -  ۲شیرولی خان اسیر
 
الصبخہ روڈ پر الامارات ہوٹل کے کاونٹر پر ایک جوان منیجر سے ملاقات ہوئی۔ گفتگو اس وقت تک انگریزی میں چلتی رہی جب تک اس نے میرا پاسپورٹ نہیں دیکھا۔ پاسپورٹ کے متعلقہ خانے میں چترال پر اس کی نظر پڑتے ہی وہ اٹھ کھڑا ہوا اور تپاک سے دوبارہ مصافحہ کیا اور اپنا تعارف کرایا کہ وہ پشاور سے تعلق رکھتا ہے اور جمیل نام ہے۔ چترال بھی گیا ہوا تھا۔ اس برخوردار کی پرجوشی سے مجھے اندازہ ہوا کہ بیرون ملک پاکستانیوں کی اپنے وطن اور ہموطنوں سے کتنی محبت ہے۔ بحیثیت ہوٹل منیجر مہمانوں کیساتھ حسن سلوک کا مظاہرہ کرنا ان کی پیشہ ورانہ ٹرننگ کا آہم حصہ ہوتا ہے جس میں مصنوعی عنصر صاف نظر آتا ہے البتہ اس جوان کی آنکھوں میں جو چمک کوند گئی تھی وہ سچے پیار کی روشنی تھی۔ اس نے روم سروس والے لڑکے کو بلایا تو وہ بھی پاکستانی ہی تھا اور نام تھا سونُو۔ ان دو ہموطنوں سے ملاقات کے بعد دل بہت خوش ہوا اور ایسا لگا گویا اپنے گھر پہنچے ہوں۔ اپنے ہوٹل میں کمرہ لینے کے بعد ہاتھ منہ دھو کر جب تازہ دم ہوئے تو دوسرا آہم مرحلہ کسی طعام گھر کی تلاش تھا کیونکہ ہمارے ہوٹل میں یہ سہولت نہیں تھی۔ شدت کی بھوک بھی لگی تھی۔ دبئی کے وقت کے مطابق عصر کی آزان ہو گئی تھی۔ ہوٹل منیجر نے ہماری رہنمائی کرتے ہوئے قریب ہی پاکستانی ہوٹل پاک لیاری کا نام بتایا۔ باہر نکلے تو ہجوم کا ایک دریا تھا جو بازار کے گلی کوچوں میں بہہ رہا تھا۔ ہم نے اس مقام کے محل وقوع کا مطالعہ بھی نہیں کیا تھا اس لیے مشرق و مغرب شمال جنوب سے بھی نابلد تھے۔ ہجوم کے اس دریا میں زیادہ کالے مرد و زن ہی نظر آرہے تھے۔ گاہے گاہے سفید چمڑی پربھی نظر پڑتی تھی۔ اس طرح رنگ و روغن پر نظر دوڑانے والے زیادہ تر ہم پاکستانی ہی تھے۔ ہمارے ساتھ ساتھ افریکن بھی کچھ کم نہیں تھے۔ پھر بھی بحیثیت مجموعی یہاں اس قسم کا جمالیاتی ذوق نظر بالکل بھی نہیں تھا۔ ہر کسی کو اپنے کام سے کام تھا۔ ہر کوئی اپنے گن میں مگن نظر آتا تھا۔ قدم قدم پر ہم ہوٹل کی سمت پوچھتے آگے بڑھے تو اردو بولنے والے ہی ملے۔ گویا ملک دبئی بھی پاکستانیوں اور ہندوستانیوں سے بھرا پڑا تھا۔
آخرکار ایک گلی جو ہماری ملاکنڈ والی سڑک جتنی چوڑی تھی کے اندر کابل دربار نظر آیا تو ہم نے سوچا شاید شاہ ظاہر شاہ کی کوئی جلاوطن اولاد یہاں رہائیش پذیر ہو۔ قریب پہنچا تو کھانے کی خوشبو سے حس شامہ معطر ہوگیا اور اشتہا چمکنے لگی۔ یہ کابلی ریسٹوران تھا۔ افغانیوں نے جہاں ہم پاکستانیوں کو ہیروئین، کلاشنکوف، بے رہروی اور دہشت گردی جیسی برائیوں سے نوازا وہیں پر انہوں نے خوش ذائقہ کھانا پکانا اور کھانا کھلانا بھی سکھایا۔ یہ ان کا ہم پر واحد احسان ہے اور بہت ہی مہنگا سودہ بھی۔ ہم اب بھی پاکستان میں افغانی یا کابلی نام کے ہوٹلوں کو ترجیح دیتے ہیں گو کہ وہاں بیٹھے لوگ پاکستانی ہی ہوتے ہیں۔ کابل دربار میں ہمیں مشرقی مہمان نوازی اور خاطر توضع کے ساتھ فیملی والے حصے میں بٹھایا گیا۔ ہم نے اپنی مرضی کی خوراک کا آرڈر دیا۔ جب کھانا میز پر سجا تو دیکھا کہ وہ کم از کم چار بندوں کے لیے کافی تھا۔اس وقت تو میں نے اسے افغانیوں کی بسیار خوری کی روایت سے جوڑ کر نظر انداز کردیا۔ جب شام کو برخوردارم ظفر آیاز سرنگ نے ہمیں ایک دوسرے ہوٹل کھانا کھلانے لے گیا تو وہاں بھی یہی منظر تھا۔ کھانے کی بہتات کے ساتھ ساتھ اس کی خوبی بھی قابل ستائیش تھی۔ پنجاب اور سندھ کی طرح مرچ مسالوں میں عرق اور تیل میں ڈوبا ہوا نہیں تھا۔ اس سے ظاہر ہے کہ متحدہ عرب امارات کے لوگ بھی افغانیوں کی طرح نہ صرف خوش خوراک ہیں بلکہ بسیار خور بھی ہیں۔ کحانے کے ذائقے کا یہ عالم کہ پیٹ بھر جاتا تھا لیکن خواہش بھوکی ہی لگتی تھی۔ ہوٹلوں کا اجلاپن اور صحت افزا ماحول دیکھ کر رشک ہونے لگا۔ کاش ہمارے سیاحت دُبئی کی -  ۲اپنے ملک میں بھی صفائی کا تھوڑا خیال رکھا جاتا۔
 

بر دوبئی

دوبئی کا قدیم حصہ دیکھنے کے لیے دیرہ سے کشتی میں بیٹھ کر ہمارے دریا ئے سندھ جتنے ایک بڑی نہر یا مصنوعی خلیج غبور کرنا ہوتا ہے۔ مصنوعی سے میرا مراد یہ ہے کہ زمین کو کھود کر سمندر کا پانی شہر کے اندر لایا گیا ہے جو بڑا دریا لگتا ہے البتہ اس کی بہاو کا پتہ نہیں چلتا۔ آسمان کاعکس اسے آسمان بر زمین بنا دیتاہے۔ یہ خلیج نہ صرف سیاحوں کے لیے کشتی رانی سے لطف اٹھانے کا موقع فراہم کرتا ہے بلکہ بڑے سمندر سے درمیانی ضخامت کے مال بردار سمندری جہاز شہر کے اندرونی حصوں تک سامان تجارت وغیرہ پہنچانے کا بڑا ذریعہ بھی ہیں۔ خلیج کے اوپر تین پل بنے ہیں ا۔ن میں سے دو اتنے اونچے بنائے گئے ہیں کہ سمندری مال بردار کشتی اس کے نیچے سے بآسانی گزر سکتی ہے جب کہ درمیان میں ایک ایسا پل ہے جو رات ساڑھے دس بجے سے لے کر صبح چھ بجے تک درمیان سے کھل جاتا ہے اور جہاں سے یہ مالبردار کشتیاں گزر جاتی ہیں اور سامان شہر پہنچاتے ہیں۔ اس بڑی نہر کے نیچے بھی ٹنل کے اندر شاہراہ موجود ہے جس میں سے دو دفعہ ہم گزرے۔ اس خلیج کے دیرہ والے کنارے کے ساتھ بڑی بڑی کشتیاں کھڑی رہتی ہیں۔ جنہیں کشتی اور گشتی ہو ٹل بتایا گیا۔ شام آٹھ سے رات گیار بجے تک یہ کشتی ہوٹلیں اپنے مہمانوں کو کھلانے پلانے کے ساتھ ساتھ اس خلیج کے اندر گھماتے بھی ہیں۔ ہمیں ان میں بیٹھ کر کھانے اور سیر دریا کا موقع نہیں ملا۔
ایک کھلی کشتی میں سوار ہوکر برخوردارم ظفر آیازسرنگ کے ساتھ ہم بردبئی اترے تو ایک دوسری دنیا میں داخل ہو گئے۔ پرانی عمارتیں، پتھر کی بنی دیواریں اور کہیں گھارے کی لِپائی بھی موجود تھی۔ تنگ گلی کوچوں میں سے گزر کرقدیم میوزئیم پہنچے جو قدیم دُبئی کی پوری تصویر پیش کر رہا تھا ۔ کچی اینٹوں کی چاردیواری کے اندر جب موٹی لکڑی کے دروازے سے اندر داخل ہوئے تو ایک کم چوڑائی کی دہلیز تھی جس کےایک طرف دیوار کےساتھ بنے چبوترے کے اوپر کپڑے کے گدے بچھے تھے جب کہ دوسری طرف کرسیاں لگی تھیں۔ یہ انتظار گاہ تھی اور ٹکٹ گھر کی کھڑکی بھی یہیں کھلتی تھی۔
یہاں سے ہم ایک صحن میں نکلے تو سامنے گھاس پھوس اور بانسوں سے بنی جھونپڑیاں تھیں جو ہمارے ملک میں عمومآَ خانہ بدوش لوگ بناتے ہیں۔ ان کے اندر خوابگاہ، فرشی نشست گاہ، بارچی خانہ اور واش روم تھا۔ ان کے سامنے صحن میں کنواں تھا اور ایک عدد قدیم دور کی توپ بائین طرف استادہ تھی۔ اس کے ساتھ۔ ایک لمبا سا کوچہ نما کمرے کے اندر یہاں کا پرانا اسلحہ اور آلات موسیقی رکھے گئے تھے۔ نیچے تہہ خانے میں زندگی کے باقی سارے شعبوں کی ترجمانی کرنے والے مجسمے اور متعلقہ سامان اور اوزار چھوٹے چھوٹے کمروں میں رکھے گئے تھے جو تنگ و تاریک گلیوں کے ذریعے آپس میں منسلک تھے۔ مثال کے طور پر مدرسے کا منظر، مذہبی درس و تدریس کا منظر پنسار، اشیائے خوردو نوش اور پارچہ فروش کی دکانیں، لوہار کی بٹھی، درزی خانہ، حکیم کا مطب ، سُنار کی دکان، باز کے شکار، گلہ بانی ،مرغبانی، باربرداری الغرض رائج الوقت ہر پیشے اور مشعلے کا منظر ٹھوس اجسام یعنی بتوں کی صورت میں موجود تھا جو نہیں تھا تو کاشتکاری سے متعلق کوئی شئے نظر نہیں آئی جس سے ظاہر ہے ریگستانی عرب لوگ اس پیشے سے نابلد تھے۔ انسانوں، چو پائیوں، درندوں ، پرندوں اور دوسرے حشرات الارض کے مجسمے ایسی مہارت سے بنائے گئے ہیں کہ ان پر جیتی جاگتی زندگی کا شبہ ہوتا تھا۔
(جاری ہے) 
سیاحت دُبئی کی -  ۲
 
]]>