قابل تقلید روایت

یاد ماضی شیرولی خان اسیرؔ اہل چترال پر الله کا کرم ہے کہ وه مہمان نواز ہیں۔ مہمان جس گھر میں بھی آئے وه گھر والے بڑی خوشی کے ساتھ اس کا استقبال کرتے ہیں اوراپنی بساط کے مطابق اس کی خاطر توضع کرتے ہیں۔ مہمان نوازی ویسے بھی خیبر پختونخواه کے لوگوں کی مشہور ہے۔ میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ چترال کے لوگ پختونوں سے بڑھ کر مہمان نواز ہیں اور نہ یہ خیال کیا جائے کہ چترالی ثقافت پختون ثقافت سے متاثر ہے کیونکہ چترال کا رابطہ اور اختلاط پختون آبادی والے علاقوں سے بہت بعد میں ہوا ہے۔ بہر حال جس طرح پختونوں کی مہمان نوازی کا چرچا ہے ویسے چترال والوں کا بھی ہے۔ اس مضمون میں چترالی ثقافت کے اندر موجود ایک اور خوبی کا ذکر مقصود ہے جو چترال کے کئی ایک خاندانوں میں آج بھی زنده ہے۔ میرے رشتے کے چند خاندان ایسے ہیں جن کے ہاں مہمان بننے میں جو لطف آتا تھا وه شاید کہیں اورنہیں مل سکتا۔ یہ اس لیے نہیں کہ وه نوع نوع کے پر تکلف کھانا کھلاتے تھے یا مہمان کے آگے پیچھے بچھے جاتے تھے بلکہ ان کی ایک عظیم روایت تھی اورممکن ہے آج بھی وه زنده ہو کیونکہ بڑا عرصہ بیت گیا میرا ان کے ہاں مہمان بننے کا شرف حاصل نہیں ہوا۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ میں ان کے ہاں نہیں گیا بلکہ شب بسری کا موقع نصیب نہیں ہوا ہے ۔ دن کے اوقات میں مختصر وقت کے لیے ان کے ہاں چائے نوشی یا کھانا کھانے کا سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ ان کی جو پیاری روایت قابل تقلیداور قابل رشک تھی وه شام کے وقت محلے کے سارے گھرانوں کے بزرگوں اور جوانوں کی مہمان کے ساتھ کھانے میں شرکت تھی۔ ایک گھر میں مہمان آجائے تو محلے کے دوسرے گھروں کےسارے بزرگ شام کے کھانے سے پہلے مہمان کے پاس جمع ہوا کرتے اور پھر ان کے گھروں سے ان کے معمول کا کھانا بھی جوانوں کے ہاتھ مہمان کے دسترخوان پہنچ جایا کرتا۔ یوں مہمان کا دسترخوان رنگ برنگے کھانوں سے سج جاتا۔ اس طرح قدیم شاہی طرز کا چھوٹا سا “مہرکہ” زنده ہوا کرتا تھا۔ کھانا کھانے کے بعد رات گئے تک بیٹھے گپ شپ لگی رہتی۔ عموماً موسیقی کی محفل سجائی جاتی۔ یہ خاندان مستوج کے سنوغر میں شیچن، پاسم، دودوشئے ، اتالیقاندور بریپ اور میراگرام میں لالان دور، پاور اور بانگ میں حاکم یارخون کے خاندان کے گھرانے ہیں۔ تورکھوو میں ریچ نوغورحاکم کا خاندان اور گاز استارو میں اتالیق نور حیات کی اولاد ہیں جن کی مہمان نوازی کی ہر دور میں دھوم رہی ہے۔ سنوغر کے شیچن میں ماسٹر ملکی صاحب خان مرحوم، کفتان، پھک حیات،صوبیدار رشید وغیره برداران کا مہرکہ ہوا کرتا تھا جس میں خورا گول سے ایثار ولی خان کی شرکت بھی ہوا کرتی۔ میراگرام میں کسی ایک گھر میں مہمان کا آنا ہوتا تو مرحوم خوش لال میکی، چیرو لال بلبل آمان، افسرخان،نواب خان، محمد اعظم خان، نادر خان اور باقی چھوٹے بھائیوں کے علاوه میکی ژانویار خان محفل کی زینت بنتے۔ بانگ میں مرحوم کفتان میکی المعروف چونجو کفتان جن کی زندگی کا بڑا حصہ یارخون میں بھائیوں کے ہاں گزری کیونکہ یارخون ان کو پسند تھا، میکی امیرمراد خان لال بیگاندور،برادرم فرمان جعفر خان، عبدلظفر خان مرحوم، منیرالدین، عبدالجبار خان شریک محفل ہوا کرتے۔ پاور میں لال اقبال دارمیکی مرحوم، حاکم جان بھائی ہمیشہ اکھٹے کھانا کھایا کرتے اگرکوئی مہمان نہ بھی ہو تب بھی وه ایک ہی دسترخوان سے کھانا کھایا کرتے۔ پاسم کے لال مراد ولی تاج مرحوم اور صوبیدارعبدالولی تاج مرحوم اپنے دور کے مشہور گلوکار اور رقاص تھے۔ نیز ان کی ظرافت مزاجی بھی مہمانوں کے لیے تازه ہوا کا جھونکا ہوا کرتی۔ان کے بڑے بھائی وزیرعالم تاج بھی محفل میں شریک ہوا کرتے۔ بیٹوں میں دینار عالم تاج مرحوم، اقبال ولی تاج، امیر ہزارمرحوم سب چترال سکاؤٹس میں تھے مگر جو گھر پر موجود ہوتے وه سب کے سب مہمان والے گھر میں حاضر ہوا کرتے تھے۔ دودوشئے کے برادرم صوبیدار جلال الدین مرحوم، اقبال نگین مرحوم، تاج الدین مرحوم، سردار نگین اورقاسم ایک جگہہ اکھٹے ہوا کرتے۔ سرما کی لمبی راتیں پلک جھپکتے گزر جایا کرتیں اور تشنگی پھر بھی برقرار رہتی کہ کاش رات تھوڑی اور لمبی ہوجاتی! جس زمانے میں میری پوسٹنگ گورنمنٹ ہائی سکول بریپ میں تھی میں اتالیقاندور میں برادرم شیرآمان کے مہمان خانے میں رہائیش پذیر تھا۔ غالباً آٹھ سالوں تک میں یہیں مقیم رہا اور ‘مہمان’ ہی رہا۔ ہر شام برادرم نادر سلطان مرحوم، نسودورومیکی شیرنواز شاه مرحوم، شیلی سلطان، عزیز مراد خان مرحوم المعروف لوٹھورولال،بجگی خان، زیربلی خان، عب رخان لال، میتار خان، قلمدارخان مرحوم وغیره سارے بھائی میرے ساتھ کھانے میں شریک رہے اور ان کے گھروں کے معمول کا کھانا بھی میرے دسترخوان کی زینت بنا رہا۔ جب گلزاراحمد ( پوسٹ ماسٹر ریٹائرڈ)اورمیر صاحب خان مغل بریپ میں موجود ہوتے تو وه بھی شام کو اتالیقاندور پہنچ جایا کرتے۔ گرمیوں میں خاص کرکے “شنجوراسپرو” کا مہینہ رات کی سیر میں گزرا کرتا۔ کھانا کھانے کے بعد جب چاند نکل آتا توہم ایک ٹولی کی صورت میں گاۤٓؤں کی سیر کو نکلا کرتے اور کم ازکم پانج چھ کلومیٹر مٹر گشت کرکے اور قدرت کی عظیم سخاوت، شنجور اسپرو کی لاثانی خوشبو سے بھر پور خظ اٹھانے کے بعد واپس لوٹ جایا کرتے۔ شنجور اسپرو مئی کے آخری ہفتے سے لے کر جون کے تیسرے ہفتے تک خوشبو بکھیرتا رہتا ہے۔ جون کے دوسرے یا تیسرے ہفتے کے دوران “پھِندِک” کا تہوار بھی منایا جاتا تھا جو ایک دن یا زیاده سے زیاده تین دن کا ہوتا تھا۔ ہم نے اس کے ساتھ “جشن شنجور اسپرو” کا اضافہ کیا تھا اور پھندک ملاکر ایک ہفتے تک جشن منایا کرتے تھے۔ اس جشن کا خاص کھیل پولو میچ ہوتے تھے۔ مستوج، چوئینج، دیزگ، بانگ اور میراگرام سے پولو کھلاڑی اس میں حصہ لیا کرتے تھے۔ الله معفرت نصیب کرے میرے سسر مرحوم خان جمالدارپولو کے اچھے کھلاڑی اور آزاد طبیعت کے مالک ہماری سرپرستی کیا کرتے تھے۔ مرحوم میکی بدار خان اورمیکی محمد صدیر خان المعروف”ڈوکو میشٹیر” بھی بہترین کھلاڑی اور نامی گرامی مزاحیہ مزاج رکھتے تھے۔ الله کے فضل سے ماسٹر میکی حیات ہیں اور ان کا حس مزاح بھی زنده ہے۔ان کے بڑے بھائی حکیم خان میکی ( رتھینئو حاجی) بھی اپنے وقت کے کھلاڑی تھے البتہ ہمیں ان کا کھیل دیکھنا نصیب نہیں ہوا کیونکہ اس وقت تک وه پولو کھیلنا چھوڑ چکے تھے۔ ان کے فرزند فرمان نظر خان ہماری نوجوان ٹیم کا حصہ تھے۔ بعد میں نواب زمان خان، نور زمان خان، مقدار علی خان اورنواز علی خان، اقبال الدین حسین پناه اور فرامرز خان بھی کھاڑیوں میں شامل ہوگئے۔ بزرگوں میں علی مراد خان المعروف چونجو کفتن، اقبالدار میکی، حاکم جان بھائی،خوش لال میکی، بلبل آمان میکی، فرمان جعفر خان المعروف بجگی، عبدلظفر خان مرحوم، نواب خان مرحوم، ممبر ژانویار خان، گولو لال محمد ایوب خان مرحوم، افسرخان لال مرحوم ، علی صاحب خان مرحوم، ڈول حاجی، عبدالخالق، صدر اور دیناراس جشن میں باقاعده حصہ لیا کرتے تھے۔ بریپ کے جشن شنجور اسپرو کے بعد ایک دن دیزگ میں پولو کا میچ ہوتا تھا۔ پھر بانگ اورمیراگرام، پاور اور واسم پولو گراؤنڈز میں تین تین چار چار دن پھندک کی پولو کھیلا کرتے تھے۔ یوں کم و بیش ایک ماه تک وادی یارخون میں شائقین اور کھلاڑیوں کے لیے تفریح کا موقع ملتا تھا۔ اس جشن کے دوران ہم بریپ کے رتھینی، ڈوک۔ جملشٹ کے پولو کھلاڑیوں کے مہمان بن جایا کرتے تھے اور دل کھولکر شنجور اسپرو اوربریپ والوں کی مہمان نوازی کا لطف اٹھاتے اور خوب ہلہ گلہ کیا کرتے تھے۔ دیزگ میں مس خان صاحب اور ذولفقار علی خان کے مہمان بن جاتے۔ مہرتنگ میں ڈامولال اور گولو لال کی مہمان نوازی کا لطف اٹھاتے۔ اسی طرح بانگ میں حاکم یارخون کے خاندان والوں یعنی بیگاندور، چیرمینی دور(عبد الظفر خان، عبدلجبار خان، عبدالفراز خان مرحوم جو اکھٹے چیرمینی دور میں رہتے تھے)، میری جھونپڑی اور حاکم پاور کے گھرمیں کھلاڑیوں اور ان کے گھوڑوں کے لیے طعام و رہائش کا بندوبست ہوا کرتا۔ میراگرام کے لالاندور میں میکی خوش لال مرحوم، چیرولال بلبل آمان مرحوم، نواب مرحوم اور ممبر ژانویارخان کے ہاں ٹھہرا کرتے تھے۔ دن کو ادھر ادھر وقت بے وقت ضیافتیں کھانے کے علاوه ہمارے اور مشاعل بھی تھے۔ اس میں گھوڑوں کو یارق کرنا (خوراک ہضم کرانے کے لیے باندھنا)۔ گھوڑوں کی نعلبندی کرنا، زینوں کی مرمت کرنا، پولو سٹیک بنانا ہوتا۔ ایک گروپ گھوڑوں کی نعلبندی کررہا ہوتا تو دوسرا بلے تیار کرتا اور تیسرا زین دوزی میں مشعول ہوتا۔ عصر کے وقت کھیل کے لیے پولو گراؤنڈ کا رخ کیا کرتے تھے جہاں تماشا بینوں کا ایک ہجوم سا ہوتا تھا جو کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کے علاوه طنزو مزاح کے پھول بھی جھڑتے اور تماشائیوں کو ہنساتے رہتے۔ چونکہ یارخون کی سڑک اس پولو گراؤنڈ سے گزرتی تھی۔ پولو کھیل کے دن مسافروں کا بر حال ہا کرتا۔ ایک طرف ان کا راستہ بند ہوجاتا اور وه تماشائیوں کے درمان سے گزرنے پر مجبور ہو جاتے۔ اس دوران بریپ کے ٹھٹھے بازوں کا شکار بھی بن جایا کرتے۔ ان میں بعض مسافر غصے میں آکر گالیاں بھی دیا کرتے جو بریپ والوں کے لیے اور بھی مزے کی بات بن جایا کرتی کیونکہ ایسے بندے کو مزید تنگ کیا کرتے۔ کھیل کے بعد جس طرح کے اوپر بیان ہوا کسی ایک جگہ شام کی دعوت  کھایا کرتے ۔ پھرراتوں کو موسیقی کی محفلیں جمتی تھیں  کیا اچھا زمانہ تھا! کیسی آزادی اور بے فکری تھی! کیسا پیار محبت کا دور تھا! آج ایک سہانا خواب سا لگتا ہے]]>

5 Replies to “قابل تقلید روایت”

  1. MKI SAHIB SAQAFAT KI BOHOOT ACHI AKASI KI HI LKN SAQAFAT KA MASKAN CHAPALI OR CHAPALI KA SAQAFATI MAKEENON KO YAKSR FARAMOSH KR DYA HI MUJA ACHI TARAH YAD HI LAL TAJ WALI KHAN MARHOOM JB B AP TASHREEF LATAY TU ZARUR MAKHFIL MASUQI ARRANGE KRTA JS MA MKI SAHIB REHMAT AKBAR KHAN REHMAT ZARUR TASHREEF LATA …LKN AP KO GILA NAHI YA ZAMANA HI BEWAFA HI JS NA ALI ZUHOOR JISA BA BA SITAR KA KHOWAR SITAR SAZOON KO BHOOL KR AK ALAG ANDAZ SAQAFAT APNA CHUKA HI JI KO HM JISA NACHEEZ PASAND NA SAHI NARAAZ ZARUR HOTA HN…

  2. gone are the days when people were simple but happier…we shoud try to revive our traditional music…we are jealous to hear about polo match which is unfortunately not affordable at local level…

  3. Aseer saib bo sheli saqafati yadan taza aretami, Chetraro kanduri noyuko duren he riwayat hanese di sher k ei zuno duri menu k hai,saf durar togo te shapik angoni,
    Phindik ispa sub division o bo sheli riwayat oshoi ho taqriban khatum areni, hash tan chaqa ispa Pathak February e bawotai ho Nowruz gere 21st March e awani, ispa tan Phendik oche Pathak o achi zinda koreko bash.

  4. After eating we suppose to be thankful to Allah SWT for all HIs blessings. Not singing and dancing!

    1. Waisy mazhab aur saqafat ko alag alag khano ma rakha jae to zindgi ma kafi sakoon sa aajata hae, aur waisy khud say swal kijeye ga, apk ghar ma shadi biah pay sadio say kabhi be naach gana nae hua?

Leave a Reply

Your email address will not be published.