پولیس کا دھندہ

داد بیداد

ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی ؔ

مرزا غالب کا شعر ہے کہاں میخانے کا دروازہ غالب اور کہاں زاہد پر اتنا جانتے ہیں کل وہ جاتا تھا کہ ہم نکلے خبر آئی ہے کہ نصیر اباد راولپنڈی میں پنجاب پولیس نے ہیروئین کی بڑی کھیپ پکڑی ہے ملزم عمر عرفان للہ بنوں کا رہنے والا ہے اور خیبر پختونخوا پولیس کا حاضر سروس انسپکٹر ہے پنجاب پولیس کے چھترول سے کیا کیا نکشافات سامنے آتے ہیں اس کااندازہ اگلے چند دنوں میں ہو جائے گا سر دست ایک اہم راز سے پردہ اُٹھا یا گیا ہے راز کی بات یہ ہے کہ منشیات اور اسلحہ کی سمگلنگ میں پولیس خود ملوث نہ ہو تو یہ دھندہ نہیں چل سکتا

اس دھندے کا اہم ستوں پولیس خود ہے جس کا کام دھندے کو ختم کرنا تھا ۔غالب نے یہ بھی کہاتھا تھی جن سے توقع داد خستگی کی پانے کی وہ ہم سے زیادہ خستہ تیغ ستم نکلے چترال خیبر پختونخوا کے شمال مشرق میں گلگت کی سرحد کے ساتھ متصل اور واخان پٹی کے ساتھ ملا ہوا ضلع ہے اس کے 14850 مربع کلو میٹر علاقے میں 1980 تک چرس ،بھنگ اور افیون کی کاشت ہوتی تھی 1980 ء میں حکومت نے پابندی لگائی تو چترال کے لوگوں نے رضا کارانہ طور پر کاشت ختم کی اب چترال میں چرس اور افیون کی کاشت نہیں ہوتی یہ چیزیں وادی تیراہ ،خیبر ایجنسی اور مہمند ایجنسی سے چترال تک لے جائی جاتی ہے تیراہ کا خالص چرس اور افیون پترانگازمیں بکتا ہے یہ وہ گاؤں ہے جس کا مال پشاور سے کابل تک مشہور تھا پترانگازمیں تیراہ ،مہمند اور خیبر ایجنسی کا چرس اور افیون کیسے آتا ہے؟ فیض کا کہنا ہے کچھ محتسب کے ہاں کچھ واعظ کے گھر جاتی ہے ہم بادہ خواروں کی مے جام میں کمتر جاتی ہے یہ راز اگر کسی کو معلوم نہیں تھا تو راولپنڈی کے قریب نصیر اباد پولیس کے ناکے میں پکڑے جانے والے ہیروئین کے مالک عمر عرفان اللہ نے اس راز سے پردہ اُٹھا یا ہے کہ ہم لوگ دھندہ کرتے ہیں’’ پولیس کا ہے فرض مدد آپ کی ‘‘یہ ایک شہر کی بات نہیں ہر شہر کا یہ دستور ہے کہ منشیات ،اسلحہ اور دیگر ممنوعہ اشیا ء کا دھندہ کرنے والے اُس مقام کا انتخاب کرتے ہیں جہاں پولیس کا پہر ہ ہو دُور دراز دیہات کے اوباش لوگ او رمنشیات فروش دکاندار جب کسی ڈرائیور کو پیسہ دے کر مال منگواتے ہیں تو کہتے ہیں کہ جہاں پولیس کا پہر ہ ہے اس دکان سے لے لو اور دکان کے سامنے ٹریفک یا کسی اہم ادارے کی سیکورٹی پر مامور پولیس کھڑا ہوتا ہے اندر دھند ہ چلتا ہے تجربہ کار سمگلروں کا مصدقہ قول ہے کہ مال کی بڑی کھیپ کے لئے ایسی گاڑی استعمال ہوتی ہے جس کی تلاشی نہ لی جاتی ہو یا تو پولیس کی اپنی گاڑی ہو یا کسی وی آئی پی شخصیت کے نام کی سبز تختی اُس پر لگی ہو یہ سب سے محفوظ راستہ ہے

اب یہ راز کی بات نہیں کسٹمز،نیب ، انٹی کرپشن اور دیگر محکموں کے اعلیٰ و ادنیٰ حکام کو اس کا علم ہے اور علم بھی معمولی نہیں اخباری اصطلاح میں ’’ بخوبی علم ‘‘ ہے پنجاب پولیس نے جوگاڑی پکڑی وہ سرکاری نہیں ہے البتہ ہیر وئین کی بڑی کھیپ کے ساتھ جو بند ہ پکڑا وہ سرکاری بند ہے ہے پشاور کے ایک پولیس سٹیشن کا یڈیشنل ایس ایچ او ہے بنوں جیسے مردم خیز شہر کا باشند ہ ہے اور یہ پنجاب پولیس کا پہلا ناکہ نہیں اس سے پہلے اسی سال ایک ماہ پہلے اسلام اباد کیپیٹل پولیس نے خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع میں جنم لینے والے نامور سپوت کو اسلحہ اور شراب کے ساتھ پکڑ لیا تھا بعد میں پتہ لگا کہ شراب کے بوتل میں اصلی شہد تھا اب وہ ’’ بلیک لیبل ہنی ‘‘ کے نام سے مشہور ہو گیا ہے ہم نے پنجاب پولیس یا اسلام اباد کیپٹیل پولیس کے نا منا سب رویے کی باقاعدہ شکایت درج کر وائی ہے وزیر داخلہ چوہدری نثا ر علی خان کو بھی چیلنج کر دیا ہے اس کے اچھے نتائج برآمد ہونگے آئیندہ ہمارے صوبے کے نامور لوگوں کی مزید بے عزتی نہیں ہوگی تاہم اسلام اباد کیپٹل پولیس اور پنجاب پولیس کی لاعلمی پر ہمیں افسوس ہے پنجاب پولیس کے ریکارڈ میں شاید یہ بات نہیں لائی گئی کہ پڑوسی صوبہ خیبر پختونخوا میں تبدیلی آگئی ہے اٹھا رویں صد ی میں خو شحال خان خٹک نے مغل حکمران اور نگ زیب عالمگیر کو یہاں ناکوں چنے چبوائے تھے تبدیلی کے نتیجے میں خیبر پختونخوا کے اندر خٹک قبیلہ کی جگہ مغل شہزادوں کی حکومت آگئی ہے اور مغل شہزادے کچھ بھی کرسکتے ہیں ان کا دورہ اسلام اباد ہمیشہ تبدیلی کا آئینہ دار ہوتا ہے وہ کالے لیبل والا شہد بھی لاسکتے ہیں وہ سفید پاوڈر بھی لاسکتے ہیں وہ اسلحہ بھی لاسکتے ہیں وہ مہلک جیکٹ بھی لاسکتے ہیں اُن کے ہاتھ آزاد ہیں ویسے خدا لگتی کہیے تو پنجاب پولیس کی ریشہ دوانیوں سے بچنے کا ایک نسخہ موجود ہے تبدیلی کے بعد ہمارے تمام بڑے بڑھے ٹھیکے پنجاب کے بڑے بڑے گروپوں کو دید یے گئے ہیں نسخہ یہ ہے کہ خیبر پختونخوا میں سیکورٹی ،لاء اینڈ آرڈر اور پو لیسنگ کا ٹھیکہ بھی پنجاب پولیس کو دید یا جائے ا سطرح ہماری حکومت اور پولیس مزید بد نامی سے بچ جائیگی

11 Replies to “پولیس کا دھندہ”

  1. The right to freedom of expression is available to everyone – if one exercises this right to make a statement in public, the other one can also use the same right to disagree with that statement. However, disagreement with the statement is NOT a disrespect to the one who made the statement. I disagree with my brother on many things but that does not mean I do not respect and love him. My respect for Professor Faizi can never be shattered by my disagreement with his some of his views. As some learned people say, disagreement with ideas and views is the beauty of an intellectual discussion.
    As for the issue under discussion, the roots of drug trading and corruption go beyond the reach of police. The people involved in these crimes are far more powerful than police because they are protected by the people in power. For example, the biggest drug dealer in Chitral was raided and arrested by Police several times in the past, but he managed to get free every time because of his connections in the Centre. The recent example of IG Sindh confirms this further. As a honest officer, he stood against corruption, but was kicked out of his job by the political leadership in Sindh. We need to understand the gravity of this issue as well as other issues in our society. If the king himself is a thief, the followers cannot be angels.

  2. ڈاکٹر فیضی بہت ہی خوب. ھمارے معاشرے کا المیہ رھا ہے کہ یہاں طاقت کا استعال ھمیشہ غلط کاموں کے نگرانی کے لئے ھوتا آراھا ہے. اس سے بھی بڑے ستم ظریفی کی بات یہ ہے کہ ھمارا تعلیم یافتہ طبقہ یہ تمیز نہین کر پا رہی ہے کہ ڈرگ مافیا اور بچوں کو ٹیویشن پڑھانا دو الگ الگ چیزین ھیں. منشیات کے کاروبار ،نگرانی اور اساتزہ کا پرائیوئٹ سکول میں جاکے پڑھانے میں ذمین آسمان کا فرق ہے. کرپشن کے ناپ تول کا عجیب پیمانہ مقرر کر لی. منشیات کا کاروبار اور اس کی نگرانی ضرور اس معاشرے کے لیے نقصان دہ ھو سکتا ھے لیکن بچوں کو ٹیوشن پڑھانا اور پرائیویٹ سکولوں میں پڑھانا ہم نے نہین دیکھا ہے کہ نقصان دہ ھوسکتا ہے. منشیات کا کاروبار اور نگرانی معاشرے کی تباھی ھے اور تعلیم بہبودی. اس لئے تو لوگ کہتے ھیں کہ سوچ بدلیں.

  3. Two things are infinite: the universe and human stupidity; and I’m not sure about the universe.
    ― Albert Einstein
    Sir Faizi! you pin on the right point. Without any justification and stupidity i agreed. Freedom of expression on social media is the beauty and beautification of today’s democracy, but it’s really shocking to read some one to two comments on your write up; Beyond cultural loftiness and magnanimity, which reflect a poor and negative thinking of our community.

  4. Excellent Dr.Faizi for such a nice and superb-bold write-up regarding the genuine problem. I wonder ( it would be better to say; the whole community wonder) how the drugs Mafia nourished in the district chitral under the super-vision of so-called Police Deptt/. Why the culture of drugs is so common if only black-ships in the deptt.? why not the Clean police officers become dominant on the blac-ships?. Dear Fida and Dedar dont defend such a non-sense which is more dangerous for our society then its betterment.

  5. @ didar
    it’s another cup of tea that whats my deptt. doing and does. Don’t drop the real essence of the topic which is tecaher incompetency and salary. with due apology , its really very easy to say that teachsers of incompetent. brother i think you have the habit and disease of blaming the community without any logic and reseaons. You also mean that the entire country lack the competent teacher. look brother never talk without fact and figures. peshwer the capital of KPK consit of 1000 of acedemy and tuituion centers. islamabad and other part of the country consist of thousands of acedemy in which very less ( not more then 1%) chitrali students are learning, while the remainings are from the city.
    iss ka matlab hargeez ya nahe hay k wahan b incompetent teachers hain. wahan tu islamia colloge , govt college peshwer, UPS, islamia collegate, amna degree college k students tution k liya atai hain. iss ka app ya matlab nikalain gay wahan k taecher b nalaiq hain…. brother app ko sirf tanqeed karna jis ki app ko puri puri ijazat hay app kar saktay hain lakin kuch zabta iklaqq b hotai hain….

  6. With due respect, I beg to disagree with Professor Faizi sahib that the act of an individual cannot and should not be generalised to the whole department of Police and to an entire province. There are both corrupt and honest people in every department including education. There are thousands of very honest policemen in KP whose integrity and professional dispositions cannot be challenged because of the one policeman found guilty. We may disagree with the Change Slogan of PTI government in KP, but we must accept that there is a positive change (however small or big it is) in the police department and this change is quite visible in Chitral Police as well and we can see it if we look at it from a neutral eye. Certainly, much more needs to be done to completely revamp the police system and that takes time.

  7. Very true. People of upper Chitral stopped charas cultivation over 35 years ago and today you cannot find even a single plant of charas in whole area. But lo and behold, charas is available more abundantly in each village.
    Where does it come from? I have friends who regularly purchase the drug from special points along with desi sharab. The charas is supplied to them mostly by pashtoon chicken sellers who roam about the villages in their typical Datsuns.
    But the question here is do the police do not know where the drug cones from and who are selling and using them?

  8. Hum Na hotay tu kisi aur kay charchay hotay
    khelqatay sehar tu kehnay ko fasanay mangay.
    My Dear Didar! Be practical and promote the concept of to be practical. I don’t know in which Deptt. you serving the nation but i m working in civil court. I m totally against your words and idea about teacher and their tutions.
    bhai maray hamary bachay hazaroon rupay kharcha ker k peshawer etc jatay hain aur wahan b govt college k teacher say tutions partay hain tu kia ya behter nahe hay k yahe taecher yahan hamary sisters brothers ko apnay hey alaqay may perhatay hain. bhut afssos ki baat hay k hamain sirf tanqeed karna ata hay jub kay shabah daina hamari fitrat he nahe… wah chitrali sooch.

    1. Dear, I am working as an expat in Gulf & I hope this suffice your query. Coming to your argument, interestingly, the answer lies within question. If the teachers were performing their duties honestly then why would you have to do “Hazaroon rupay ka Kharacha” to go for tuition of your “brother and sister” and sons in Chitral and in Peshawar? Yes, this is because of the incompetence and misplaced priorities of some the teachers, lecturers and professors who deliberately no teach properly at their respective school and colleges and pave way for their extra business of tuition and academies. I am not blaming all of the them & expect that the author of this write up should also not blame all of the police department because of presence of some black sheep. And can you say this to the writer too K “tanqeed krna aata hai shabasha dena nai”. My brother is Police Officer and i know in what condition this department is working. They have rented Police building, no accommodation, multiple pressure and interference from various quarters and still they are able to do good thing which Columnist like this one ignore. Lastly you said you work in civil court, give me estimate that how many years a simple civil case regarding ownership of property takes to be decided by your department, starting from Civil Judge to Supreme Court and appeals etc. If it is not taking a whole generation to fight the case, then your department is not corrupt and justice is being delivered. Regards–

  9. سمگلنگ پاکستانیون کے لیے کویی نئیا چیز نہیں اس میں کسی کو ایک صوبے والون کو نشانہ بنانا ٹھیک نہیں۔ بلوچی سندھی اور پنجابی بھی کسی سے پیچھے نہیں۔۔ پی ٹی آی کی دشمنی میں سوچو تو اپنے آپ کو گالیان دے رہے ہو۔۔۔ اور پنجاب پولیس کی اوقات ہم کو بھی پتہ ہے ۱۰ روپے کی مارہیں ے۔۔

  10. Actually our societal set up is such that anyone who has whatever opportunity to indulge in corruption never misses it. Police being one such kind, where there are ample opportunities of earning illegal money. The writer would agree with the fact that even teachers are involved in corruption too. Though their one is somewhat sophisticated. Although they don’t smuggle narcotics as our police friends are doing, but what would you call a teacher who while being employed by government college, goes to teach in private colleges, tuition centers at the expense of his college students, who work with NGOs while totally ignoring their duty, goes attending NGO funded workshops in the length and breadth of a country while the student suffer and carry out businesses without any iota of shame and so on. Same is the case with other departments too. No one lets go a single penny which he can earn, and the only difference is avenues to earn money. Some have more, others have less, while we all exploit those avenues to the fullest. Lastly, the should also highlight the coordinated way in which some of his favorite institutions are involved in timber smuggling out of Chitral making the problem of deforesting from bad to worst for the district. Perhaps that is as severe as the problem of narcotic smuggling into Chitral is. Regards– Didar Ali

Leave a Reply

Your email address will not be published.