195 projects sent to SRSP for social mobilization: DC

1

DSC08803 اپنے دفتر میں مقامی میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ سی ڈی ایل ڈی کے یہ تمام پراجیکٹ مقامی کمیونٹی کی نشاندہی پر چنے گئے ہیں جس سے پہلے حکومت نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ ضلعے میں گزشتہ سال غیرمعمولی پیمانے پر سیلاب کی تباہ کاریوں کے پیش نظر ایک سال کے لئے سی ڈی ایل ڈی کے فنڈز کو ڈیزاسٹرسے متاثرہ انفراسٹرکچروں کی بحالی پرخرچ کئے جائیں لیکن ڈونر ادارہ یورپین یونین نے اس سے اتفاق نہیں کیا لیکن ایسے پراجیکٹ چن لینے کی ہدایت کردی جوکہ ڈیزاسٹر سے متعلق اور کمیونٹی بیسڈ ہوں جن میں سڑکیں اور پل بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہاکہ حال ہی میں 53کروڑ روپے کی سمری وزیر اعلیٰ کو منظوری کے لئے بھیج دی گئی ہے جن سے ڈیزاسٹر سے متاثرہ سڑکوں، پلوں، ابپاشی کی نہروں اور چینلائزیشن کا کام کئے جاسکیں۔ انہوں نے کہاکہ اس ماہ کی 26اور 27تاریخ کو عمران خان اور وزیر اعلیٰ پرویز خٹک چترال کے دورے پر آرہے ہیں اور صورت حال کا خود مشاہدہ کریں گے۔ اسامہ وڑائچ نے بازار سے تجاوزات ہٹانے کے حوالے سے کہاکہ چترال شہر سے نکل کر یہ پورے ضلعے میں جاری ہے اورفی الوقت چترال بونی روڈ پرواقع کوغذی اور ریشن کے مقامات پر پولو گراونڈ کو آزاد کرنے کے ساتھ درجنوں دکانات بھی جزوی طور پر مسمار کئے گئے۔ انہوں نے کہاکہ چترال بازار کے دونوں طرف ہٹائے گئے تجاوزات کی جگہ فٹ پاتھ بنائے جارہے ہیں جس سے پیدل چلنے والوں کو آسانی ہوگی اور موٹر گاڑیوں کی ٹریفک میں آسانی ہوگی۔ ڈی سی چترال نے کہاکہ وہ ترقیاتی کاموں میں تاخیر ہرگز برداشت نہیں کرسکتے اور ہر ہفتے صوبائی حکومت سے متعلقہ محکمہ جات کے ساتھ میٹنگ کرکے ہفتے کی بنیاد پر کارکردگی کا جائز ہ لیا جارہا ہے اور یہ افسوسناک امر دیکھنے میں آگئی کہ بعض بڑے پیمانے کے منصوبہ جات محض معمولی فنڈکی عدم دستیابی میں معرض التوا میں پڑے رہتے ہیں جس کا مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ڈی ایچ کیو ہسپتال میں کوڑا کرکٹ کو تلف کرنے کی مشین انسنریٹر کو نصب کرنے میں صرف ایک لاکھ درکار ہونے کی وجہ سے دو سالوں سے یہ کرڑوں روپے مالیت کی مشین بے کار پڑی ہوئی تھی جسے چالو کرنے کے لئے انہوں نے اقدامات کئے ہیں ۔ اسامہ احمد وڑائچ نے کہاکہ اس سال ممکنہ سیلاب کے ڈیزاسٹر کی تباہ کاریوں کو کم سے کم کرنے اور اس کے لئے تیاریوں پر کام کیا جارہا ہے اور گزشتہ سال کے سیلاب زدہ دیہات میں ندی نالوں کی چینلائزیشن کا کام اپریل کے اوخر تک مکمل کیا جائے گا جبکہ ضلعی انتظامیہ مختلف این جی اوز سے اس سلسلے میں رابطہ کاری میں مصروف ہے کہ وہ خیمے اور دوسرے اشیاء کی بجائے ہیوی مشینری چترال پہنچانے میں انتظامیہ کی مدد کریں تاکہ سیلاب سے دیہات کو بچانے کا اہتمام کیا جاسکے۔ اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر دروش بشارت احمد بھی موجود تھے۔ ]]>

1 Comment
  1. Anis ur Rahman says

    Respected Osama Ahamad waraich sab
    we are proud of you. Keep it

Leave A Reply

Your email address will not be published.

error: Content is protected !!