چترال کا پر اسرار مجاہد

تحریر:شمس الحق قمرؔ بونی ۔حال گلگتshams
جولائی کی تپتی دھوپ میں اُس کے نیم عریاں جسم کے ساتھ ایک پتھر باندھ کے چترال کے پریڈ گراؤنڈ میں دوڑایا گیا جب وہ تھکاوٹ سے ہا نپنے لگا تو اُس سے پوچھا گیا کہ ، کیا اب بھی تمہارا وہی مؤقف ہے ؟ انہوں نے ڈٹ کے جواب دیا کہ تم لوگوں نے تو میرے جسم کے ساتھ صرف ایک من پتھر باندھ کر مجھے دوڑایا ہے میں تو زندگی بھر ہزاروں من لوہا اپنے جسم کے ساتھ باندھوانے کی سزا قبول کروں گا لیکن ظلم اور جبر کے سامنے اپنا ماتھا قیامت تک نہیں ٹیکوں گا ۔ مہتر چترال کی عدالت میں فیصلہ ہوا کہ اس سے پہلے کہ چترال کے سادہ لوح عوام اس نا فرمان باغی کے حلقہ ارادت میں آجائیں اِسے زیدان خانے میں پھینکا جائے تاکہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اُسے اور پوری چترالی قوم کو یہ سبق ملے کہ میتار کے خلاف بغاوت کا انجام کیا ہوتا ہے ؟ اُس زمانے میں قید خانے شاہی قلعوں سے منسلک ہوا کرتے تھے ۔ اُن قید خانوں کا نقشہ کچھ اس طرح ہوا کرتا تھا کہ گرمیوں کے موسم میں سورج جب سوا نیزے پر ہوتا تو قیدیوں پرتپتی دھوپ کی جھلسانے والی شعاعیں چھوڑی جاتیں اور سردیوں میں اُن قید خانوں میں پانی بھر دیا جاتا تھا اور روشنی مکمل طور پر بند کر دی جاتی تھی۔ مشقت کی تصویر یہ تھی کہ قیدیوں کے ناخن دیسی اَوزاروں سے کھینچ کر نکالے جاتے ، دانت اُکھاڑے جاتے اور تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ قید خانے کی چھت پر سے اُن قیدیوں پر پیشاب بھی کیا جاتا۔ جیسے کسی قیدی نے اُس جیل کی اس طرح تصویر کشی کہ ہے : ؂
زیدان خانائی خدایار غیر کا پشیر
سنگینین مہ دیور مہ ژان اسقانہ اہی نیسیر
دواہتا قلف شیر نسین سنگینین پیرادار
مہ سورو مینیان ہمیت کانگریسو وفادار زیدانی دونیان مہ کھل بیروان سوم کوری
سوت پوشتہ نو کوم میتارو قومہ چھیر موژی
میرا راوی دوست بتاتا ہے کہ ٹھیک ایک سال تک جیل کی تمام صعوبتیں جھیلنے کے بعد اُس باغی قیدی کو دوبارہ عدالت کے سامنے پیش کیا گیااور وہی سوال دھرایا گیا کہ اب تمہارا مؤقف کیا ہے ؟ باغی نوجوان جیسے اپنا خُو کبھی بھی نہ بدلنے کی قسم کھائی تھی ، مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ ’’ تم لوگوں نے صرف ایک سال تک مجھے اذیتیں دی ہیں میں تو زندگی بھر ہر مصیبت اور اذیت کوگلے لگاؤں گا لیکن ظلم کو مسجود اور جبر کو معبود نہیں بناؤں گا ۔ باغی قیدی سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح ڈٹ گیا تھا ۔ چترال کے مضافاتی علاقوں تک اس نوجواں کی بہادری اور دلیری کی لہریں پہنچ چکی تھی اور مہتر چترال کے ظلم اور بر بریت کے خلاف بغاوت کی چنگاری کو ہوا ملنے کا خدشہ صاف ظاہر تھا۔یہ باغی نوجوان دنیاوی تعلیم میں کوئی خاص پڑھا لکھا نہیں تھا البتہ دینی تعلیم حاصل کی تھی اور اسلامی تعلیمات سے اچھی طرح خبردار تھا۔ یہ اُس زمانے کی بات ہے جب تحریک پاکستان زوروں پر تھی قائد اعظم اور اُن کے رفقأ اس خطے کے مسلمانوں کو ہر قسم کی غلامی سے آزاد کرنے کی جنگ لڑ رہے تھے اور اِدھر اس باغی نوجوان کو تحریک پاکستان کے نکات کا علم ہوا تھا جو کہ اسلامی نظام حکومت کے اصولوں سے میل کھاتے تھے یہی وجہ تھی کہ مہتر چترال کا رعایا پر ظلم ، تشدد ، بر بریت اور جبر اُس نوجوان کی نظر میں اسلامی طرز حکومت کے زریں اصولوں سے متصادم معلوم ہوئے لہذا اس نوجوان نے اپنی پوری زندگی داؤ پر لگا کے بغاوت کا آغاز کیا ۔ تمام کشتیاں جل چکی تھیں ا ور باغی نوجوان کے ذہن میں ایک ہی بات تھی’’ آر یا پار ‘‘۔ قصہ مختصر یہ کہ فرد واحد کو مجازی معبود گرداننے کے بجائے نوجواں کے زندگی بھر کے لئے جیل کی اذیتوں کو برداشت کرنے کے پختہ ارادے کو دیکھ کر اُس پر ذہنی معذور کا لیبل لگا کر چھوڑ دیا گیا ۔ کیوں کہ اُس جوان کے مصمم ارادوں کو دیکھ کرمہتر چترال اور تمام درباری یہ جان چکے تھے کہ اس نوجوان کو مزید جیل میں رکھنے سے پورا علاقہ اس تحریک کی بھڑکتی ہوئی آگ کے لپیٹ میں آ سکتا ہے لہذا ذہنی معذوری کے بہانے اُسے رہا ئی دی گئی تاکہ دوسرے لوگ بھی اُسے پاگل سمجھ کر اُس تحریک کی طرف توجہ نہ دیں۔
کہانی یہاں تک پہنچی تو میں دخلِ در معقوالات بن کے اپنے راوی دوست سے پوچھا کہ جو کہانیآپ بتا رہے ہو یہ کہانی آپ نے کس سے سنی ہے ؟ میرے راوی دوست نے کہا ’’ ارے بھائی بتاتا ہوں ‘‘ لیکن اُس نے اپنی بات چیت آگے جاری رکھی : یوں باغی نوجواں کو رہائی ملنے کے بعد تحریک میں تیز ی آگئی۔ شروع شروع میں عام لوگ آزادی کی اس تحریک کی چھتری کے نیچے آگئے لیکن بعد میں خوش وقت الملک جیسی اہم شخصیات بھی اس تحریک کی صفِ اول میں استادہ نظر آئے ۔ یہ بنیادی طور پر مسلم لیگ اور چترالی قوم کی آزادی کی ملی تحریک تھی ۔ میرے دوست راوی نے فرمایا کہ ’’ ہماری قوم احسان فراموش ہے ‘‘ مجھے میرے راوی دوست کے اس بے تُکی بات پر بہت افسوس ہوا میں نے کہا ایسے بے سرو پا بیان دینے سے پہلے خوب سوچنا چاہئے اور دلیل کے ساتھ بات کرنی چاہئے! میرے راوی دوست کے چہرے پر ایک معنی خیز تبسم کھل اٹھی اور بوڑھے انگیزوں کی طرح دونوں شانے اُوپراُٹھاتے ہوئے فرمانے لگے کہ جناب جو بات میں کہہ رہا ہوں وہ انتی مستند ہے جیسے پتھر پہ لکیر، کیوں کہ یہ کہانی مہتر چترال کے خاندان کے ایک چشم و چراغ نے خود اپنی زبانی مجھے بتائی ہے ۔ قصہ یوں ہوا کہ ایک دن مجھے مہتر چترال کے اُس چشم و چراغ سے نشست کا اتفاق ہوا ، باتوں باتوں میں ، میں نے صاحب موصوف سے کہا کہ ’’ جناب آپ گزشتہ کئی عشروں سے چترال کی سیاست کے آسمان کا تارا بنے ہوہئے ہولیکن لوگوں کا کہنا یہ ہے کہ آپ نے اس قوم کے لئے کچھ بھی نہیں کیا، یہ بات کہاں تک درست ہے ؟‘‘ آن جناب کو غصہ بہت آیا چونکہ یہ جہان دیدہ آدمی تھا اُس نے ضبط کیا۔ اُن کی جگہ کوئی اور ہوتا تو مجھے سیدھا سیدھا تھپڑ رسید کرتا بہر حال اُس نے میرے سوال کے جواب میں مذکورہ کہانی سنائی اور اس کہانی کے ساتھ ایک اور جملہ کس دیا کہ’’ یہ قوم احسان فراموش ہے ‘‘ باغی نوجوان کی یہ ساری کہانی اُس وقت کی ہے جب شاہی خاندان کا یہ صاحب موصوف ابھی بہت چھوٹے تھے ۔ موصوف نے اُس باغی نو جواں کو اپنی آنکھوں کے سامنے سزا بھگتتے اور ذہنی و جسمانی اذیتوں کو قوم کے بہبود کے لئے سہتے دیکھا تھا۔ باغی نوجوان کے بارے میں بتاتے ہوئے عجیب گفتگو فرمائی۔ آپ نے کہا کہ باغی نوجوان کا تعلق بکر آباد کے ایک معزز خاندان سے تھا نام نور شاہد الدین تھا جوکہ مولانا نور شاہدالدین کے نام سے زیادہ مشہور تھے ۔ تحریک کامیابی سے ہمکنار ہونے کے بعد بہت سارے اور لوگ بھی اس تحریک میں داخل ہوئے یوں مولانا نور شاہد دین صاحب کے اُس صاف و شفاف تالاب میں کچھ ایسی موقعہ پرست مچھلیوں کا ادخال بھی ہوا جس کی وجہ سے مولانا صاحب کو اس تحریک سے آہستہ آہستہ دور رہنا پڑا ۔ اس دوری کی ایک وجہ مولانا صاحب کی عمر اور صحت کی خرابی تھی۔ یوں مولانا صاحب چترال کے اندر کسی نامعلوم مقام پر جاکے گوشہ نشین ہوئے ۔ اب لوگ مہتر چترال کے شکنجے سے آزاد ہوئے تھے پاکستان بنا تھا ، لوگ سیاسی فائدے بھی دھڑا دھڑا اُٹھا رہے تھے لیکن مولانا نور شاہد الدین کے نام کو چترال کی سیاسی لغت میں کہیں بھی جگہ نہیں ملی ۔یہ پراسرار غازی مولانا نور شاہد الدین ضعف عمر کی وجہ سے جسمانی کام نہیں کرسکتے تھے جس مسجد میں وہ نماز پڑھنے جاتے تھے اُس مسجد میں دستور یہ تھا کہ جائے نماز کو نرم رکھنے کے لئے دری کے نیچے گھاس پھوس بچھا کر اُوپر نماز کی صفیں بچھائی جاتیں۔ اس گھاس کا کھوار نام ’’ بروزی ‘‘ ہے ۔ دستور یہ تھا کہ ہر نمازی تھوڑا تھوڑا ’’ بروزی ‘‘ لاتا اور پوری جماعت مل کے فرش تیار کرتی ۔ ایک دن معلوم ہوا کہ جسمانی کمزوری اور نقاہت کی وجہ سے مولانا صاحب اُس سال ’’ بروزی‘‘ لانے سے قاصر رہا تھا اسی غلطی کی پاداش میں باقی نمازیوں نے اُس کے نیچے سے ’’ بروزی ‘‘ نکال کے اُس کے نیچے زمین سخت بنا لی تھی ۔’’ اگر قوم اپنے ایسے محسن’’بروزی ‘‘ کی فرش بھی چھین لیتی ہے تو اُن کی نظر میں میری عشروں پر محیط ناقص کام کی کیا وقعت ہو سکتی ہے ‘‘ مہتر چترال کے چشم و چراغ نے جواب دیا ۔

One Reply to “چترال کا پر اسرار مجاہد”

  1. May I request that urdu mail should please be written and given here with clear and readable letters and not like that given above about Chitral great leader Moulana Noor Shahidin of Chumurkhun known and famous as Chomurkhuno Moulai. We the people of Chitral and our generations should remember him in our hearts. He and many others mostly Ulemas started movement for making the people of Chitral and Chitral a free state forming Chitral Muslim League that most of the people of Chitral very much know and remember. Here I suggest that we the people of Chitral now should start movement to build Chitral a welfare state (District) of KPK Pakistan. Finally I should appreciate Mr. Qamar to pend down about this Muhahid and refresh the minds and memories of people of that age and that of us all. Well done Qamar.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *