عجب اتحاد کی غضب کہانی

تحریر: سرورکمال
ہمارے ہاں برادری، لسانی، صوبائیت، علاقائیت، مسلک کی بنیاد پر اور مذہب کو ایک کارڈ کے طور پر استعمال کر کے سیاست کی دکان چمکائی جاتی ہے۔ ہلانکہ سیاست قابلیت، خدمت، دیانتداری، اہلیت اور حب الوطنی کے تحت کرنی چاہئے۔ 30 مئی کو کے پی کے میں بلدیاتی انتخابات کرائے گئے۔ اسی طرح اس دن کو چترال میں بھی بلدیاتی انتخابات کا میدان سجایا گیا۔

حالات کی نزاکت، دوراندیشی کا مضاہرہ اور زمینی حقائق کو بھانپتے ہوئے مذہبی جماعتوں یعنی جماعت اسلامی اور جمعیت علمائے اسلام ” ف” نے اتحاد کر کے بلدیاتی انتخابات میں جیت کی صورت میں چترال کی سیاسی منظر نامے کو یکسر تبدیل کیا۔
مذہبی جماعتیں انتخابی مہم کے دوران مسجد ، منبرو محراب اور لاوڈ اسپیکرکا استعمال لاجواب طریقے سے کرکے عام لوگوں متاثر کرتے ہیں۔ دوسری سیاسی جماعتیں اس معاملے ان سے بہت کمزور پچ پر کھیلتے ہیں۔ علماے کرام جمعہ اور دوسرے ایام میں مختلف قرآنی ایات اور احادیث مبارک کا حوالہ دے کر اپنے ووٹ بینک کو شبانہ روز بڑھاتے ہیں۔اگر مسلم دنیا کا جائزا لیا جائے تو پاکستان اسلامی دنیا ایک قائدانہ اور ممتاز مقام رکھتا ہے۔ پاکستان اسلام کا قلعہ ہے ۔ پاکستان نے جب ایٹمی دھماکہ کیا تو فلسطین کے مجبور ، معصوم اور محکوم بچے اسرائیل کے فوجیوں کو للکارتے ہوئے کہ رہے تھے کہ اب تم ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتے کیونکہ اب ہم بھی ایٹم بم سے لیس ہیں اور تم کو نیست و نابوت کرینگے۔
پاکستان کے مسلمان سچے عاشق رسولﷺ ہیں ۔ وہ دین کے لئے مر بھی سکتے ہیں اور کٹ بھی سکتے ہیں ۔ اسی طرح پاکستان میں کے پی کے کے غیور عوام اسلام سے خاص محبت اور لگاؤ کی وجہ سے باقی مندہ صوبوں کے لوگوں پر سبقت لے جاتے ہیں ۔اسی سلسلے کو آگے بڑھائیں توملاکنڈ ڈویژن کے لوگ دین اسلام سے گہری وبستگی اور لگاؤ رکھتے ہیں۔ ملاکنڈ ڈویژن میں ضلع چترال کے مسلمان امن پسندی، مہمان نوازی اور اسلام سے گہری عقیدت کی وجہ سے پوری دنیا میں ایک منفرد مقام رکھتے ہیں ۔ماضی قریب کا ہم جائزہ لے لیں تو یہ حقیقت اشکارہ ہو جاتی ہے کہ دینی جماعتوں نے جب بھی کے پی کے میں اتحاد کا مضاہر ہ کیا تو انہوں نے صوبے کی سیاسی منظرنامے کو اپنے حق میں کیا ۔ متحدہ مجلس عمل نے صوبائی حکومت کا قلم دان اسی فارمولے کے تحت حاصل کیا اور صوبے کی سیاسی منظر نامے کو یکسر تبدیل کیا۔

متحدہ مجلس عمل کی پلیٹ فارم پر مختلف مذہبی جماعتیں اکھٹا تھیں۔حالیہ بلدیاتی انتخاب نے مذہبی اتحاد کی صورت میں ضلع چترال کی حد تک چترال کی سیاسی منظر نامے کو اپنے حق میں کرایا ۔ہم اُس نبیﷺ بر حق کے مانے والے ہیں ۔ کہ جس نے اپنے اعلیٰ اخلاق اور کردار سے ایک عظیم مینارہ تعمیر کیا ۔ جو رہتی دنیا تک بنی نوع انسان کے لئے رشدو ہدایت اور رہنمائی کاذریعہ بنے گا ۔ وہ محض گفتار کے غازی نہیں تھے بلکے انہوں نے اپنے عمل اور کردار سے کفار اور مشرکیں سے بھی امین اور صادق کا خطاب حاصل کیا۔
ارشاد ربانی ہے بیشک آپ ﷺاخلاق کی اعلی درجے پر فائز ہیں ۔ اور وہ لوگوں کے لئے بہترین نمونہ ہے ۔دینی جماعتوں نے الیکشن مہم کے دوران اس بات کو انتہائی شدو مد سے عوام تک پہنچانے کی کوشش کی کہ بہت سے ان دیکھی قوتیں اسلام کے خلاف سازشیں بنا رہے ہیں ۔ جیت کی صورت میں وہی ان سازشوں کا مقابلہ کر سکتے ہیں اور ان کو بے نقاب بھی کریں گے ۔بدقسمتی سے ضلع چترال کے پی کے کا شاید واحد ضلع ہوگا کہ ابھی تک ضلعی نظامت کس کے سر پے سجے اس پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے ۔ اس نظامت کے چکر میں جے یو آئی اور جے ائی نے آپس میں اکھاڑے کے اندر دنگل کا میدان سجایا ہے ۔ اس سے پہلے اسی انتخابی اکھاڑے میں انہوں نے پی ٹی آئی ، پی پی پی، مسلم لیگ (ن) اور ال پاکستان مسلم لیگ جیسی بڑی بڑی پارٹیوں کو چارں شانے چت کر دیا تھا ۔ اکھاڑے میں دنگل کی وجہ سے نہ ان ودنوں جماعتوں کا وجود دھول اور مٹی سے متاثر ہوچکا ہے بلکہ اکھاڑے سے بہت دور انکی اس دنگل کے نتیجے میں اُٹھنے والا گردو غبار اور دھول مٹی ان کے ہمدردوں محسنوں اور چاہنے والوں کو بھی متاثر کررہا ہے ۔
روز نت نئی افواہیں جنم لے رہی ہیں ۔میرا ہر گز مقصد کسی کی دل آزاری نہیں مگر بہ حیثیت مسلمان ، پاکستانی اور ایک عام شہری کی میں دونوں جماعتوں کے نظریاتی لوگوں ، چترال کے حق پرست علمائے کرام اور چترال کے دانشواروں کے سامنے بحث و مباحثے کے لئے چند نکات اور سوالات اُٹھاتا ہوں کہ مجھ جیسے نادان اور کم عقل لوگوں کی رہنمائی کریں ۔میرا س کالم کا مقصد ہر گز یہ نہیں کہ میں اپنا ہتمی رائی یا حکم اپ لوگوں پر مسلط یا نافظ کرنے کی گستاخی کروں ۔ نکات یہ ہیں ۔* چترال کی اکثریت نے دینی جماعتوں کے اسلامی نظریے کو سامنے رکھ کر ووٹ دیا ، ان کا ہر گز یہ مطلب اور خواہش نہیں کہ ضلعی نظامت پر کس جماعت کا فرد برا جمان ہو گا۔ کیا ان دونوں جماعتوں کے اکا برین اور زعما نے لوگوں کے اس مینڈیٹ کا احترام کیا ؟؟؟ انتخابی مہم کے دوران ان دیکھی قوتوں اور سازشوں کاا سلام کے خلاف بر ملا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔ اب اس خلفشار کے پیچھے موساد ( اسرائیل، را، انڈیا یا سی ائی اے امریکہ) کا ہاتھ ہے؟؟؟؟ ارشاد ربانی ہے کہ اللہ کی رسی کو مظبوطی سے پکڑے رکھو اور آپس میں تفرقہ نہ رکھو ۔ یہاں رسی سے مراد دین اسلام ہے ۔ دین اسلام قربانی، ایثار، برداشت امن اور محبت کا مرکب ہے کیاان دونوں جماعتوں نے اس آیات مبارکہ کی اصل روح کے مطابق عمل کیا ؟؟ رہی تفرقے کی بات وہ تو ہم سب لوگوں کے سامنے ہے ۔
*آج کل کا نوجوان انتہائی باخبر اور اپٹو ڈیٹ ہے ۔ہم گلوبل ولیچ اور انٹر نٹ وہ بھی 3G کے دور میں رہ رہے ہیں کیا ہم اپنے ان عمل و کردار میں واضح تضاداب کی وجہ سے نو جوانوں کو مسجد سے متنفر اور دورکرنے با عث تو نہیں بن رہے؟؟؟
*کیا آیندہ کے لئے بھی ان جماعتوں بشمول سیاسی جماعتوں کو مسجد منبرو محراب کا استعمال اسی طرح کرنے دیا جائے گا؟؟؟؟
اللہ تعالی ہمیں حق بات کرنے، سننے اور برداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائیں ۔ اللہ ہمیں آسانیاں عطا فرمائیں اور آسانیاں تقسیم کرنے کا شرف بھی عطا فرمائیں۔ امین۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.