Private institutes bound to pay compensation to police for security

چترال (بشیر حسین آزاد) ڈی پی او چترال عباس مجید مروت نے کہا ہے ۔ کہ صوبائی حکومت کے احکامات کے مطابق اُن اداروں کو پولیس کی سیکیورٹی فراہم نہیں کی جائے گی ۔ جو سیکیورٹی کے عوض ادائیگی نہیں کریں گے ۔اور سیکیورٹی کے حوالے سے پرائیوئٹ تعلیمی اداروں سمیت دیگر ادارے ، میگا پراجیکٹس سائٹس صوبائی احکامات کے پا بند ہوں گے ۔

عباس مجید مروت کی زیر صدارت اُن کے آفس میں منعقدہ سیکیورٹی سے متعلق غیر معمولی اجلاس میں ایم پی اے چترال فوزیہ بی بی ،گولین ہائیڈل پراجیکٹ کے واپڈا حکام خان محمد ، میر فرمان ،سیکیورٹی کنسلسٹنٹ کرنل (ر) سردار محمد خان ، انچارج آئی ایس او طاہر محمد، ائرپورٹ منیجر وقاص خان اور پرنسپل دی لینگ لینڈز سکول اینڈ کالج محترمہ کیری نے شرکت کی ۔ ڈی پی او نے صوبائی حکومت کی طرف سے سیکیورٹی سے متعلق احکامات پر روشنی ڈالی ۔ اور کہا ۔ کہ صوبائی پولیس آفیسر خیبر پختونخوا کے احکامات کے مطابق چترال کے پرائیویٹ تعلیمی ادارے اور دیگر ادارے جہاں پولیس کی طرف سے سیکیورٹی فراہم کی گئی ہیں ۔ پولیس ڈیپارٹمنٹ کو معاوضہ ادا کرنے کے پا بند ہوں گے ۔ بصورت دیگر پولیس سیکیورٹی فراہم نہیں کرے گی ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ جن اداروں کو سیکیورٹی کی ضرورت ہے ۔ وہ پولیس کے ساتھ باقاعدہ کنٹریکٹ پر دستخظ کریں گے ۔ اور کنٹریکٹ کے مطابق سیکیورٹی کے افراد کو تنخواہیں اور دیگر مراعات دینے کے پابند ہوں گے ۔ ڈی پی او نے کہا ۔

چونکہ ریگولر پولیس کے اخراجات زیادہ ہیں اس لئے صوبائی پولیس حکام نے چھ ہزار ایکس سروس مین بطور سیکیورٹی گارڈ بھرتی کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ جو مختلف اداروں کی ڈیمانڈ کے مطابق سیکیورٹی خدمات انجام دیں گے ۔ ڈی پی او نے کہا ۔ کہ نیشنل بینک آف پاکستان واحد ادارہ ہے ۔ جو سیکیورٹی کے لئے معاوضہ ادا کرتا ہے ۔ جبکہ دیگراداروں کو بھی اس کی تقلید کرنی چاہیے ۔ ایم پی اے چترال فوزیہ بی بی نے کہا ۔کہ چترال کے میگا پراجیکٹس میں سیکیورٹی کی فراہمی ہماری ذمہ داری ہے ۔ کیونکہ صوبے میں ایک جنگی صورت حال ہے ۔ ایسے میں انسانی جانوں کا تحفظ بنیادی اہمیت رکھتا ہے ۔

گولین ہائیڈل پراجیکٹ سے متعلق واپڈا حکام نے کہا ۔ کہ واپڈا بیرونی قرضوں پر مختلف میگا پراجیکٹ پر کام کر رہا ہے ۔ ایسے میں پولیس سیکیورٹی کیلئے ڈونر ایجنسیز اور قرض خواہوں کو مطمئن کرنے میں بہت زیادہ وقت لگ سکتا ہے ۔ جبکہ ائیر پورٹ منیجر چترال نے سیکیورٹی کے نام پر آدائیگی کو انتہائی مشکل قرار دیا ۔ اور کہا ۔ کہ پی آئی اے کو پہلے سے ہی بڑے پیمانے کے خسارے کا سامنا ہے ۔ اب سیکیورٹی کے نام پر مزید اخراجات کا پی آئی اے متحمل نہیں ہے ۔ تاہم بالائی حکام کو اس حوالے سے آگاہ کریں گے ۔

CHITRAL: The police will not provide security to any private organisations, including educational institutes, if they will not pay the department for its services, said Chitral DPO Abbas Majeed Marwat on Friday. He was addressing a meeting in his office regarding the security of privately-run organisations. Chitral MPA Fouzia Bibi, officials of Golain Hydel Project, security consultant Colonel (retd) Sardar Muhammad Khan, Chitral Airport Manager Waqas Khan and the principal of Langlands School and College participated in the meeting. Marwat said that on the directives of the provincial government, the district police has been providing security to private educational institutes and other organisations, but these establishments are bound to pay a fee to the police department for its services. According to Marwat, organisations that need security are required to sign an agreement with the police. “The National Bank of Pakistan is the only department which is currently paying a fee to the police and all other departments should follow suit,” said the DPO. He added the provincial government has decided to recruit 6,000 ex-servicemen as security guards to fulfil the security needs of all organisations that request for it. Officials of the Golen Hydel Project told Marwat the Water and Power Development Authority is running several projects with the help of foreign loans and it will take time for it to get donors to agree to pay the additional security costs. “Providing security to mega projects in Chitral is our responsibility,” said MPA Fouzia. Similarly, Chitral Airport Manager Waqas Khan said PIA is already suffering financial hardships and cannot afford any additional expenses. However, he assured the DPO he will let his seniors know of the police department’s request.

]]>

One Reply to “Private institutes bound to pay compensation to police for security”

  1. What an innovative Idea? The same procedure should be replicated by rest of the 3 provinces as well. I think the policy makers did not read the constitution of Pakistan before drafting the policy….

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *