احتشام الرحمان
بے باک اسماعیلی مسلک کے روحانی امام، پرنس کریم آغا خان سے میرا پہلا تعارف اپنے گاؤں کے ایک دلچسپ واقعے سے ہوا۔ اس وقت میری عمر شاید پانچ برس ہو گی، جب گاؤں میں یہ خبر پھیلی کہ آغا خان فاؤنڈیشن کا ہیلی کاپٹر موردیر میں اترے گا۔ میں دوڑتا ہوا گھر آیا اور جوش سے اپنے والد صاحب سے کہا: ”ابو! فاؤنڈیشن کا جہاز اترنے والا ہے۔“
میرے والد نے بڑی شفقت سے میری اصلاح کی اور فرمایا: ”ایسا نہیں کہتے ہیں۔ اگر کہنا ہے تو یوں کہو کہ ہز ہائنیس کا ہیلی آیا ہے یا پھر امامی ہیلی بھی کہہ سکتے ہو۔“ میرے والد امام کے اداروں کو ”تھباروکی“ کہتے ہیں، جو ”تبرک“ کے قریب ہے۔ جب بھی امام کا ذکر آتا، وہ احترام سے ”ہز ہائنیس“ کہہ کر ان کی معاشی، معاشرتی، سماجی اور تعلیمی میدان میں خدمات گنواتے ہیں۔
اس وقت مجھے والد صاحب کی یہ بات پوری طرح سمجھ نہیں آئی، کیونکہ ہمارے معاشرے میں امام کے اداروں کو عمومی طور پر ”فاؤنڈیشنی ادارے“ اور گاڑیوں کو ”فاؤنڈیشنی گاڑیاں“ کہا جاتا تھا۔ بعد میں احساس ہوا کہ یہ صرف ایک لفظ کا فرق نہیں تھا۔ وقت کے ساتھ یہ احساس بھی پیدا ہوا کہ ”فاؤنڈیشن“ کا لفظ اس نسبت کو محض ایک ادارہ جاتی شناخت تک محدود نہیں کرتا ہے، بلکہ خاص حلقوں میں یہ تضحیک کا پہلو اختیار کر لیتا ہے۔
کہتے ہیں کہ کسی روحانی شخصیت کی تعلیمات کے اثرات دیکھنے ہوں تو اس کے پیروکاروں کو دیکھو۔ اپنے والد اور تایا ابو سے خاندان کے بڑوں، لیفٹین صاحب اور صدر صاحب کے ناموں اور ان کے اعلیٰ اخلاق کی مثالوں کے ذریعے سے شناسائی ہوئی۔ بعد ازاں سابق رکن صوبائی اسمبلی زین العابدین صاحب کی زندگی کو قریب سے دیکھا اور سیکھنے کا موقع ملا۔ پھر چترال آ کر امام کی تعلیمات، رواداری، محبت اور بھائی چارے کو خاندان جیسی محبت کرنے والے ہمسایوں کی صورت میں محسوس کیا۔ چاہے وہ بابائے لاسپور کے بیٹے محبوب صاحب کا خاندان ہو، یا اسرار احمد صاحب کا خاندان، یا وکیل صاحب (پاسومو لال) کا خاندان، ہر جگہ امام کی تعلیمات کی روشنی نمایاں تھی۔
والدین جیسی محبت کرنے والے بڑوں اور بھائی، بہنوں سے یہ محبت بھرا رشتہ آج بھی قائم ہے۔اگر چترال اور گلگت کی جدید تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ اس خطے کی ترقی میں پرنس کریم آغا خان کے ویژن کا کردار نہایت گہرا اور ناقابل انکار ہے۔ ان کی دوراندیشی، دانشمندانہ قیادت اور فلاحی سوچ نے چترال جیسے دور افتادہ اور دشوار گزار خطے کو ترقی کے ایک نئے سفر سے روشناس کرایا۔
آغا خان ترقیاتی نیٹ ورک اور اس کے ذیلی اداروں نے صحت، تعلیم اور رفاہ عامہ کے میدان میں وہ خدمات انجام دیں جنہوں نے لاکھوں زندگیوں کو متاثر کیا۔ معیاری تعلیم کو دور دراز وادیوں تک پہنچایا گیا، جدید طبی سہولتیں عوام کی دسترس میں آئیں، جبکہ غربت کے خاتمے، دیہی ترقی، خواتین کی خودمختاری اور مقامی معیشت کی بہتری میں تاریخی کردار ادا کیا گیا۔یہ سب کسی ایک منصوبے یا ادارے کی کامیابی نہیں بلکہ امامت کے اس تصور کی عملی تعبیر ہے جس میں روحانیت کے ساتھ انسانیت کی فلاح کو بھی بنیادی اہمیت حاصل ہے۔
حاضر امام اپنے زمانے کے تقاضوں اور حالات کو سامنے رکھ کر فیصلے کرتا ہے، اور اس کے فیصلے دوراندیشی اور حکمت پر مبنی ہوتے ہیں۔ اس کی روشن مثال ہمیں اس تاریخی فیصلے میں ملتی ہے جب آغا خان سوم، سلطان محمد شاہ، نے ایک غیر معمولی فیصلہ کرتے ہوئے اپنے بیٹے کے بجائے اپنے پوتے کو امامت کے منصب پر فائز کیا۔
وقت نے ثابت کیا کہ یہ فیصلہ کس قدر بصیرت افروز تھا، کیونکہ پرنس کریم آغا خان نے امامت کے ادارے کو نہ صرف جدید دنیا کے تقاضوں سے ہم آہنگ کیا بلکہ اسے عالمی سطح پر ترقی، تعلیم، صحت اور ثقافت کے فروغ کا ایک موثر ذریعہ بنا دیا۔آج پرنس رحیم الحسینی منصب امامت پر فائز ہیں۔ ابھی ان کی قیادت کے بارے میں کوئی حتمی رائے قائم کرنا قبل از وقت ہو گا، لیکن امامت کی تاریخ اور اس کے تسلسل کو دیکھتے ہوئے امید یہی کی جا سکتی ہے کہ وہ اپنے والد اور اپنے پردادا کی عظیم روایت کو نہ صرف برقرار رکھیں گے بلکہ اسے مزید وسعت بھی دیں گے۔
امامت سنبھالنے کے بعد ان کا چترال اور گلگت میں دیدار نہ صرف جماعت کے افراد کے لئے روحانی تسکین کا باعث ہو گا بلکہ خطے کی ترقی کے لئے بھی ایک نئی امید ثابت ہو سکتا ہے۔پرنس کریم آغا خان کی رحلت کے موقع پر دنیا بھر میں ان کے ماننے والے لوگ غمزدہ تھے۔ اس لمحے میرے ذہن میں ایک ہی خیال تھا کہ امام ہمیشہ اپنے زمانے کا امام ہوتا ہے۔ وہ اپنے دور کے تقاضوں کے مطابق اپنی جماعت کی رہنمائی کرتا ہے۔
امامت قائم رہنے والی چیز ہے۔ نیا امام نئی سوچ اور نئی فکر لے کر آتا ہے۔ جس طرح پرنس کریم الحسینی نے اپنے عہد میں یہ ذمہ داری نبھائی، اسی طرح امید ہے کہ پرنس رحیم آغا خان نہ صرف اپنی جماعت بلکہ وسیع تر انسانیت کو ساتھ لے کر چلیں گے، کیونکہ یہی ہر امام کا روحانی پیغام رہا ہے: انسان کی خدمت، معاشرے کی ترقی اور انسانیت کی بھلائی۔
یہ ایک نادر موقع ہے۔ اسے صرف روحانی فیض تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ اس سے سماجی اور ترقیاتی فوائد بھی حاصل کیے جانے چاہئیں۔ چترال کو گلگت اور کراچی کی طرح نہیں دیکھا جا سکتا، کیونکہ اس کی اپنی جغرافیائی، معاشی اور سماجی پیچیدگیاں ہیں۔ مقامی ذمہ داران یہ بات حاضر امام تک پہنچائیں کہ رعایتی تعلیم اور صحت تک ہر فرد کی رسائی ممکن بنائی جائے۔ ان دونوں شعبوں کو محض سرمایہ دارانہ زاویے سے نہیں بلکہ پرنس کریم آغا خان کے اس ویژن کے مطابق دیکھا جائے جس میں انسان کی عزت اور بنیادی ضروریات کو اولین حیثیت حاصل تھی۔ امید ہے کہ پرنس رحیم آغا خان اس ویژن کو مزید وسعت دیں گے تاکہ تعلیم اور صحت واقعی ہر ایک کے لئے قابل رسائی ہو سکیں۔

