بشیر حسین آزاد
چترال میں پولو صرف ایک کھیل نہیں بلکہ ایک مکمل تہذیبی شناخت اور اجتماعی جذبے کی علامت ہے۔ شندور میلے کی تیاری کے سلسلے میں چترال لوئر میں 63 پولو ٹیموں کے درمیان باقاعدہ ٹورنامنٹ کا آغاز ہو چکا ہے، جہاں ہزاروں کی تعداد میں شائقین روزانہ میچ دیکھنے کے لیے جمع ہو رہے ہیں۔
یہ صورتحال اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہے کہ اس خطے میں پولو محض تفریح نہیں بلکہ عوامی زندگی کا ایک اہم حصہ ہے۔
اسی سلسلے کی بڑی جھلک ہر سال منعقد ہونے والا مشہور شندور پولو فیسٹیول ہے، جو پہلے جولائی میں جبکہ اس سال جون میں شروع ہورہا ہے۔ یہ میدان چترال ٹاؤن سے تقریباً 6 سے 8 گھنٹے کے دشوار گزار خراب سڑکوں کے سفر کے بعد پہنچا جاتا ہے۔ سڑکوں کی خرابی، مہنگائی اور سفری مشکلات کے باوجود لوگ بڑی تعداد میں نہ صرف وہاں جاتے ہیں بلکہ کم از کم تین دن تک خیمہ بستیوں میں قیام کرتے ہیں اور پورا میلہ جیتے ہیں۔
پولو کی مقبولیت کی سب سے بڑی وجہ اس کا ثقافتی پس منظر ہے۔ چترال اور ملحقہ علاقوں میں پولو صدیوں پرانی روایت ہے، جو بہادری، مقابلے اور مقامی شناخت کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ لوگ اسے صرف کھیل نہیں بلکہ اپنی تہذیب کا جشن سمجھ کر دیکھتے ہیں۔ اسی لیے چترال لوئر میں ہونے والے ٹورنامنٹس بھی عوامی دلچسپی کا مرکز بن جاتے ہیں۔
پولو میچ دیکھنا یہاں صرف ایک سرگرمی نہیں بلکہ ایک مکمل تجربہ ہے۔ تیز رفتار گھوڑوں کی دوڑ، خطرناک موڑ، گول کرنے کی کوششیں اور میدان کا قدرتی ماحول لوگوں کو گھنٹوں اپنی جگہ پر بٹھائے رکھتا ہے۔ یہ ایسی تفریح ہے جو براہِ راست جذبات کو متحرک کرتی ہے اور ناظرین کو کھیل کے ساتھ جوڑ دیتی ہے۔
شندور کا سفر خود بھی ایک بڑی وجہ ہے کہ لوگ اس میں دلچسپی لیتے ہیں۔ پہاڑی راستے، بلند و بالا وادیاں اور قدرتی مناظر اس سفر کو محض نقل و حرکت نہیں بلکہ ایک ایڈونچر بنا دیتے ہیں۔ لوگ خاندانوں اور دوستوں کے ساتھ خیمے لگا کر رہتے ہیں، کھانا پکاتے ہیں اور ایک اجتماعی زندگی کا حصہ بنتے ہیں۔ یہی تجربہ اس ایونٹ کو عام کھیلوں سے ممتاز بناتا ہے۔
ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ پولو کے میدان میں کوئی سیاسی تقسیم نہیں ہوتی۔ یہاں نہ جلسوں جیسا اختلاف ہوتا ہے اور نہ ہی نظریاتی کشمکش۔ لوگ صرف کھیل اور اپنی ٹیم کی حمایت کے لیے اکٹھے ہوتے ہیں۔ یہی غیر جانبدار ماحول بڑی تعداد میں شرکت کو ممکن بناتا ہے۔
چترال میں پولو میچز اور شندور میلہ صرف کھیل یا ایونٹ نہیں بلکہ ایک مکمل تہذیبی روایت، اجتماعی تجربہ اور ثقافتی فخر کی علامت ہیں۔ چترال لوئر کے 63 ٹیموں کے ٹورنامنٹس سے لے کر شندور کے وسیع میلے تک، یہ سب اس بات کا ثبوت ہیں کہ جب ثقافت، جذبہ اور تجربہ ایک ساتھ جمع ہو جائیں تو لوگ مشکلات کے باوجود بھی بڑی تعداد میں اکٹھے ہوتے ہیں اور اپنی روایت کو زندہ رکھتے ہیں۔

