داد بیداد
ڈاکٹرعنایت اللہ فیضی
خبر آئی کہ حکومت نے سر کا ری سکولوں کے لئے لیڈر کی ڈھا ئی ہزار آسا میاں منظور کی ہے تاکہ تعلیم کے معیار بہتر سے بہتر کرنے کا پیمانہ مقرر ہوتاریخ میں 1837ء کا سال تھا امریکی حکومت نے معیار تعلیم کا پیما نہ مقرر کر کے اس پیما نے پر سکو لوں کو جا نچنے اور پر کھنے کے لئے سکول کے سر براہ کو لیڈر کاعہدہ دیا اور اس کی ذمہ داریوں میں 5اہم کا موں کا اضا فہ کیا سکول کا سربراہ بیک وقت طلبہ کے لئے مثا لی استاد، اساتذہ کے لئے رہبر یا رہنما یا تر بیت دہندہ بنا یا گیا، اس کی ذمہ داری لگا ئی گئی کہ سکول کے ساتھ تعلق رکھنے والی برادری (کمیو نیٹی) کو تعلیمی عمل کے بارے میں آگا ہی دے کر تعلیم و تدریس کے عمل میں شریک کر ے اس کو یہ بھی ذمہ داری دی گئی کہ طلبہ کے وا لدین یا سر پرستوں کو تعلیمی عمل میں شریک کر کے گھر کے ما حول کو علم دوست ما حول میں بدل دینے کے لئے کر دار ادا کرے،
اس کی یہ بھی ذمہ داری لگا ئی گئی کہ وہ سال بہ سال آئیندہ کے اسباق اور نصا بی سر گر میوں کے ساتھ ہم نصا بی کا موں کی منصو بہ بندی کر کے ان منصو بوں پر عملدر آمد کے کا م کی مو ثر نگرا نی کرے بیسویں صدی میں تدریس اور تعلیم کا یہ طریقہ مقبول ہوا یورپ میں بھی اس کو اپنا یا گیا ، 1940ء تک ہمارے مشرقی مما لک نے بھی اس طریقہ تدریس کو اپنا یا اب یہ طریقہ دنیا کا مقبول طریقہ بن چکا ہے اس وجہ سے سکول کے سر براہ یا لیڈر کا نا م سکول سے زیادہ مشہور ہوتا ہے لو گ سکول کا نا م لینے کے بجا ئے سکول لیڈر یا سربراہ کا نام لیتے ہیں اس لئے کہا جاتا ہے کہ سکول کا لیڈر یا سر براہ ہر روز نیا کچھ سیکھتا ہے، سکول کی سر براہی سیکھنے کے عمل کو کہتے ہیں وطن عزیز پا کستان میں آغا خان یونیور سٹی ایجوکیشن بورڈ کے ساتھ ملحقہ سکولوں میں پرنسپل کو لیڈر کا کر دار دیا جا تا ہے وہ ہر روز طلباء اور طا لبات کی چھٹی کے بعد اساتذہ اور استا نیوں کے ساتھ ٹریننگ سیشن لیکر اس روز کی غلطیوں کا ازالہ کر تا ہے اگلے دن کے لئے منصو بہ عمل بنا تاہے یہ منصو بہ عمل ہر روز بنتا ہے اور روبہ عمل آتا ہے یہ طریقہ یا اس سے ملتا جلتا طریقہ تھوڑے سے فرق کے ساتھ خیبر پختونخوا کے سر کا ری سکولوں میں راءج کیا گیا تو تعلیم کے معیار میں انقلا بی تبدیلی آئیگی اس منصو بے کے تحت سکول لیڈر ز کی 2500آسا میاں مشتہر کی گئی ہیں ، ابتدا میں کا میاب اُمیدواروں کو سکیل16،سکیل17اور 18 میں کنٹریکٹ کی بنیاد پر 3سالوں کے لئے بھر تی کیا جائیگا اس منصو بے کے بلیو پرنٹ میں یہ بات کہی گئی ہے کہ لیڈر 6سے لیکر 8سکولوں تک ذمہ دار ہو گا، ہر لیڈر کے کا م کو دیکھنے کے لئے سینئر لیڈر ہو گا، ہر لیڈر کے کا م کو دیکھنے کے لئے سینئر لیڈر ہو گا جو 18سے 25تک سکولوں کی نگرانی کرے گا، اس سسٹم کا اعلیٰ افیسر ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجو کیشن افیسر کہلا ئے گا
وہ سینئر لیڈروں کی نگرا نی کے ساتھ پورے سسٹم کی دیکھ بھا ل، فعالیت اور بہتری کا ذمہ دار ہو گا تاریخ کے وسیع تر تنا ظر میں دیکھا جائے تو سکول لیڈر شپ کا یہ تصور پا کستا ن کے کسی صو بے میں پہلی بار آیا ہے اگر یہ کا میاب ہو گیا تو خیبر پختونخوا کو با نی مبا نی یا کا در جہ حا صل ہوگا اس منصو بے کی خصو صیت یہ ہے کہ اس منصو بے میں ہیڈ ٹیچر، انچارج ٹیچر، ہیڈ ما سٹر یا پر نسپل کو لیڈر شپ کا کر دار نہیں دیا گیا ہیڈ ٹیچر یا پر نسپل کی مدد کے لئے الگ لیڈر رکھا گیا ہے جو کمرہ جماعت کے اندر طلباء یا طا لبات کی مدد کرے گا، کمرہ جماعت سے با ہر اساتذہ اور استا نیوں کی تر بیت کا فریضہ انجا م دے گا طلباء اور طا لبات کی چھٹی کے بعد اساتذہ اور استا نیوں کے لئے الگ تر بیتی دَور چلے گا یہ ڈیڑھ، دو گھنٹے کا سیشن ہو گا جس میں اگلے دن کے اسباق کی تیار ی کی جائیگی اس سسٹم میں استاد ہو یا استا نی، وہ کل وقتی استاد کا فریضہ انجا م دینے کا پا بند ہوگا طا لب علم یا طا لبہ بھی کل وقتی متعلم کا کر دار نبھا ئے گا سکول کی نصا بی اور ہم نصا بی سر گر میوں میں یہ بات لا زم ہو گی کہ ہر استاد اور ہر طا لب علم کو سامنے آکر نمو نہ پیش کرنے کے قا بل بنا یا جا ئے نتیجہ کے لئے سال کا انتظار کرنے کے بجا ئے ہر روز اور ہر ہفتے قابل یانا لائق کا نتیجہ سامنے لاکر کمزور اور نا لا ئق کو آگے بڑھنے کے قا بل بنا نے پر محنت کی جائیگی پرو گرام کے مطا بق سکول لیڈر ز کی بھر تی اور تر بیت کے بعد اگلے تعلیمی سال سے اس پر عملدرآمد کا آغاز ہو گا۔

