داد بیداد
ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی
مقتدرہ فروغ تجارت کو دفتری زبان میں ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (TDAP) لکھا جاتا ہے۔ مقامی مصنوعات اور دستکاریوں کی نمائش کو ایکسپو (Expo) کا نام دیا جاتا ہے۔ چترال میں مقامی صنعت و حرفت اور دستکاریوں کی تیسری نمائش کے موقع پر ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان، خیبر پختونخوا کے ڈائریکٹر جنرل نعمان بشیر اور چترال چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر انجینئر فہد اعظم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ چترالی دستکاروں اور ہنرمندوں کو آنے والے دور میں ملک کے بڑے شہروں کے اندر ہونے والی نمائشوں میں اپنی مصنوعات کو متعارف کرانے کے وسیع مواقع دیے جائیں گے اور چترالی مصنوعات کی انفرادیت کو اجاگر کیا جائے گا۔
چترال میں اپنی نوعیت کی یہ تیسری نمائش تھی۔ اس سے پہلے ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان نے 2024ء اور 2025ء میں چترال چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے اشتراک اور تعاون سے دو کامیاب نمائشوں کا اہتمام کیا تھا۔
نمائش کے لیے دریائے چترال کے کنارے مقامی ہوٹل کے وسیع و عریض صحن میں، چنار کے دیوہیکل درختوں کے حسین نظاروں کے بیچ، شامیانوں کے نیچے 70 اسٹال لگائے گئے تھے۔ 59 اسٹالوں میں مقامی دستکاریاں نمائش میں رکھی گئی تھیں۔ 11 اسٹال انواع و اقسام کے مقامی اور ملکی ماکولات اور مشروبات بیچنے والوں کے تھے۔ ہوٹل کے ہال کو گفت و شنید کے لیے مزین کیا گیا تھا۔
چترال اسکاؤٹس کے کمانڈنٹ کرنل ارسلان عبدالمجید نے نمائش کا افتتاح کیا۔ ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان، خیبر پختونخوا کے ڈائریکٹر جنرل نعمان بشیر نے خطبۂ استقبالیہ میں چترالی مصنوعات کی تیسری نمائش کے اغراض و مقاصد بیان کرتے ہوئے چترال کے دستکاروں اور ہنرمندوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ چترال میں پہلی نمائش ہوئی تو دور دراز علاقوں سے دستکاروں اور ہنرمندوں نے اپنی مصنوعات کے اسٹال لگائے۔ ان کا ہنر دیکھ کر ہمیں بے حد خوشی ہوئی، اس لیے ہنرمندوں کو مواقع دینے کے لیے ہم نے نمائشوں کا یہ سلسلہ آگے بڑھایا اور اس کے حیرت انگیز نتائج برآمد ہوئے۔
چترال چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر انجینئر فہد اعظم نے چترال میں صنعت و حرفت اور تجارت کو فروغ دینے کے لیے نعمان بشیر اور ان کی ٹیم کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ چترال میں ٹیلنٹ موجود ہے، تخلیقی صلاحیت ہے، مگر وسائل میسر نہیں ہیں۔ اس وجہ سے ٹیلنٹ منظر عام پر نہیں آتا۔ چترال چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری، TDAP کے تعاون سے چترال کے دستکاروں اور ہنرمندوں کو ملکی سطح پر اور بیرون ملک بھی متعارف کرانے کے مواقع تلاش کرے گا۔
جس طرح چترال کی اونی پٹی، چترالی چغہ اور چترالی پکول نے مارکیٹ میں اپنی جگہ بنائی ہے، سینگوں سے بنی ہوئی انگوٹھیوں کی مانگ بڑھتی جا رہی ہے، اسی طرح ہمارے ہنرمندوں کی دوسری مصنوعات بھی جگہ بنائیں گی۔ خواتین کی دستکاریوں کو متعارف کرایا جائے گا، کالاش دستکاروں کو متعارف کرایا جائے گا۔ یہاں لکڑی کا باریک کام ہوتا ہے، آلات موسیقی بنتے ہیں، ریشمی تاروں سے سلائی کڑھائی کا نازک کام ہوتا ہے۔ یہاں خواتین کی مصوری اور خوش خطی کے شہ پارے دیکھنے کو ملتے ہیں۔ ایسی سینکڑوں مصنوعات ہیں جن کے لیے مارکیٹ کی ضرورت ہے۔ آپ کے تعاون سے ملکی اور بین الاقوامی سطح پر چترال کے ہنرمندوں کی حوصلہ افزائی ہوگی۔
مہمان خصوصی نے تجارت کے فروغ اور مقامی دستکاروں کی حوصلہ افزائی کے لیے چترال چیمبر آف کامرس اور TDAP کی سرگرمیوں کو سراہا۔
دو روزہ نمائش میں دستکاروں اور ہنرمندوں نے دو ملین روپے کمائے اور آن لائن کاروبار کے سینکڑوں آرڈر حاصل کیے۔ وولن ویز، سی سی ڈی، نارتھ ٹریڈرز، شاہ ٹریڈرز، دبئی کیفے، ٹیکنیکل اور ووکیشنل ٹریننگ کالج سمیت کئی اسٹالوں پر دن بھر لوگوں کا رش رہا۔ خواتین دستکاروں میں منصورہ شمس کے آن لائن کاروبار کو سراہا گیا۔ عطا الٰہی اوان کی ٹیم نے “نیا جیپیا” کے پلیٹ فارم سے ویب ڈویلپمنٹ اور اے آئی کی ڈگری، کالج چترال کے دو طلبا اویس زمان اور جواد احمد نے مصوری اور خوش خطی سے لوگوں کو محظوظ کیا۔ اسی طرح مادام آنہا ضیا کی مصوری اور خوش خطی کا بڑا چرچا دیکھنے کو ملا۔ مادام زہرا کی آرٹ گیلری نے سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کیے رکھا۔ فرحان بشیر کی فوٹوگرافی نے نمائش کو چار چاند لگا دیے۔ کالاش خواتین کے اسٹالوں پر لوگوں کا رش دیدنی تھا۔
سرحد رورل سپورٹ پروگرام کے طارق احمد، ریجنل کوآپریٹو ڈویلپمنٹ موومنٹ کے عنایت اللہ اسیر، چترال چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے ایگزیکٹو ممبر محمد نایاب فارانی اور چیمبر کے سیکرٹری سلطان احمد بیگ نے اپنی ٹیم کے ساتھ رات دن محنت کرکے نمائش کو کامیاب بنایا۔
علامہ اقبال نے سچ کہا ہے:
نہیں میری نظر سوئے کوفہ و بغداد
کریں گے اہلِ نظر تازہ بستیاں آباد۔

