داد بیداد
ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی
ہیجان کو انگریزی میں ٹینشن کہتے ہیں یہ ایک نفسیاتی بیماری ہے جو فرد کو لاحق ہوتی ہے قوم اور ملک کو لاحق نہیں ہوتی مگر وطنِ عزیز پاکستان قومی اور ملکی سطح پر سماجی ہیجان یا سوشل ٹینشن کی لاعلاج بیماری میں مبتلا ہے۔
ملکی تاریخ کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ ہزار ہا خرابیوں اور بیماریوں کے باوجود 1970 کی دہائی تک پاکستانی قوم اجتماعی طور پر ٹینشن میں مبتلا نہیں تھی 1970 کے عام انتخابات میں سیاست دانوں نے جلسے جلوسوں میں ایک دوسرے کو موٹی موٹی گالیاں دے کر پہلی بار قوم کو ہیجانی کیفیت میں گرفتار کیا ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر سیاستدانوں کے اول فول بیانات اور حکومت کے جھوٹے موٹے دعوے سن کر پہلی بار قوم ذہنی بیماری کا شکار ہوئی 56 سال ہو گئے۔ اس بیماری میں افاقہ نہیں ہوا بلکہ “مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی” اخباروں کے آرکائیوز میں نصف صدی پہلے کےاخبارات کی فائلیں محفوظ ہیں آپ 1954 یا 1968 کے کسی اخبار کی فائل اٹھا کر دیکھیں تو اس میں صنعتی ترقی، زرعی ترقی، تعلیم کے میدان میں کامیابی سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں پیش رفت کی نمایاں خبریں نظر آتی ہیں۔
ان اخباروں کے مطالعے کے بعد آپ جولائی 2020 یا جولائی 2026 کے اخبارات سامنے رکھیں گے تو قتل، اغوا، ڈکیتی، چوری، ڈاکہ، دھماکہ اور خودکشی کے بڑھتے ہوئے واقعات کی خبریں 4 کالمی اور 3 کالمی سرخیوں کے ساتھ ہر اخبار کے صفحات پر چھائی ہوئی نظر آتی ہیں 5 سالہ بچے کو اغوا کیا گیا، 7 سالہ بچی کو ہوس کا نشانہ بنایا گیا، گونگے بچے کے ساتھ بدفعلی کی گئی بیٹے نے باپ کو قتل کیا، باپ نے دو بیٹوں کو گولی مار کر خودکشی کر لی، ماں باپ نے دو بچوں کو زہر دینے کے بعد خود بھی زہر پی کر اپنی زندگی کا خاتمہ کیا، چور نے چچا کے گھر میں ڈکیتی کی اقدامِ قتل اور منشیات فروشی کے گھناؤنے جرائم میں ملوث 10 مجرموں کو جیل سے رہا کیا گیا، بوری بند لاش ملی، اندھا دھند فائرنگ میں چار شہری جان سے گئے، کچہری میں فائرنگ، عدالت میں فائرنگ، ہسپتال میں توڑ پھوڑ، سکول میں بم دھماکہ مسجد میں نمازیوں پر خودکش حملہ اور جنازے میں شریک لوگوں پر فائرنگ کی خبریں روز کا معمول ہیں۔ پہلے ایسی شرمناک خبروں پر رونا آتا تھا اب رونا بھی نہیں آتا علامہ اقبال نے مولانا جلال الدین رومی کے مصرعے پر پوری غزل کہی ہے
دی شیخ با چراغ ہمی گشت گرد شہر
کز دام و دد ملولم و انسانم آرزوست
ایک بزرگ دن کے وقت چراغ ہاتھ میں لیےگھوم رہا تھا اور کہہ رہا تھا کہ سرکش جنات اور درندوں سے جی بھر گیا اب مجھے انسان کی تلاش ہے پشاور کے شاعر غلام محمد قاصر نے یہ بات نئے اسلوب میں کہی جنگل کو چل دیے سارے سپیرے بین لیے
بستی میں رہنے والے سانپ بڑے زہریلے تھے
چارسدہ کے غنی خان لیونے کی پیشگوئی 60 سال بعد حرف بحرف درست ثابت ہو رہی ہے
ٹول دنیا یو تور زنگل شی یو د بل بہ غوخو پائی
زناور ترے امان غواڑی چہ انسان یہ کومہ تیر شی
دنیا کالے جنگل کی طرح ہو گی لوگ ایک دوسرے کا گوشت نوچ کر کھائیں گے جس راستے پر انسان کا گزر ہوگا اُس راستے سے درندے بھی پناہ مانگیں گے اور امن و محبت کی سرزمین چترال سے امین الرحمن چغتائی کی آواز کھوار میں آتی ہے
قتل، اغوا، ڈکیتی، جھوغی، ڈاکہ، دھماکہ
ہیلو! کو رار لو دوسان! اوا پاکستانہ رسوم
شاعر کہنا ہے ایک آواز آئی، قتل، اغوا، ڈکیتی، چوری، ڈاکہ دھماکا میں نے پوچھا کہاں سے بول رہے ہو؟ اُس نے کہا پاکستان میں ہوں۔
شاعر کو لسان الغیب بھی کہتے ہیں تلمیذ الرحمن بھی کہتے ہیں
شاعر معاشرے کا آئینہ ہوتا ہے وہ حقیقت کی ترجمانی کرتا ہے سوال یہ ہے کہ پاکستانی معاشرے میں ہیجان، ٹینشن اور بدامنی کی وجوہات کیا ہیں اس کے اسباب کیا ہیں؟ نفسیاتی ماہرین کا خیال ہے کہ اس کے بے شمار اسباب ہیں جن میں غربت بھی ہے، نا انصافی بھی ہے، جہالت بھی ہے، عدم برداشت بھی ہے، ذرائع ابلاغ میں منفی رجحانات کو فروغ دینے والا ہیجانی مواد بھی ہے۔ سماجی ہیجان کے اسباب میں بڑا سبب قومی وسائل کو ذمہ دار حکام سے لیکر سیاستدانوں کے ہاتھ میں دینا بہت بڑا سبب ہے ہر محکمے کا مجاز افسر قانون پر عمل کرتا ہے سیاست دان قانون کو نہیں مانتا اپنی من مانی کرتا ہے جس سے معاشرے میں نا انصافی پھیلتی ہے احساسِ محرومی پیدا ہوتی ہے ٹینشن جنم لیتا ہے اس کے ساتھ جڑاہوا سبب یہ بھی ہے کہ عدالتوں سے کسی کو انصاف نہیں ملتا شخصی محرومیوں کو انصاف کے ذریعے دور کیا جاتا ہے جب انصاف دینے والا کوئی دروازہ نظر نہ آئے تو سماجی ہیجان جنم لیتا ہے جو تشدد کا سبب بنتا ہے۔


