کریم اللہ
بالائی چترال کے علاقہ ریشن سے تعلق رکھنے والے انجینئرنگ کے طالب علم رفیق علی کی لاش گاؤں سے دور سڑک سے کافی فاصلے پر کھیل کے میدان میں ملی تھی جس کے ساتھ موٹر سائیکل بھی گراہوا تھا۔ تاہم ذرائع کے مطابق موٹر سائیکل میں کوئی زیادہ خرابی نہیں دیکھی گئی جس سے یہ حادثہ ظاہر ہو سکے۔
اس سلسلے میں گزشتہ ایک ہفتے سے پولیس تفتیش کر رہی تھی۔ تاہم گزشتہ روز یعنی 26 اپریل کو اس وقت کیس میں بڑی پیش رفت ہوئی جب پولیس نے طویل تفتیش کے بعد اس قتل کے مبینہ ملزم اکرم نواز ولد گل نواز سکنہ ریشن گول کے خلاف دفعہ 302 کے تحت قتل کا مقدمہ درج کرکے انہیں گرفتار کر لیا۔
اس سلسلے میں تفتیشی آفیسر اور ایس ایچ او تھانہ بونی اپر چترال خلیل الرحمن نے ہمارے نمائندے کو بتایا کہ ابتدائی طور پر اس واقعے کے حوالے سے ابہام پائے جاتے تھے کیونکہ اس کو کلئیر قتل قرار نہیں دے سکتے تھے تاہم اپر چترال پولیس نے اس کیس کو مختلف زاویوں سے دیکھنے اور تفتیش کرنے کے بعد کال ڈیٹیلز ریکارڈز یعنی سی ڈی آر اور دوسرے ذرائع سے معلومات حاصل کرنے کے بعد اس قتل میں اکرم نواز کے ملوث ہونے کے کافی ثبوت ملے جس کی بنیاد پر ان کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کرکے انہیں گرفتار کر لیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ ملزم اکرم نواز سے مزید تفتیش کا سلسلہ جاری ہے اور بہت جلد اس کیس میں بڑی پیش رفت ہو گی۔
اس سلسلے میں مقتول رفیق علی کے بھائی اور دوسرے ورثاء نے اپر چترال پولیس کی تفتیش پر اعتماد کا اظہار کیا تاہم انہوں نے پولیس، قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا کہ اس کیس کو مزید جامع انداز سے تحقیقات کر کے کیس میں اگر کوئی اور بھی ملوث ہے تو ان تک پہنچنے کی کوشش کی جائے اور قاتلوں کو قرار واقعی سزا دی جائے۔
اس سلسلے میں ریشن کے سماجی حلقوں نے وفاقی و صوبائی حکومت کے انسانی حقوق کے اداروں اور ہیومن رائیٹس کمیشن آف پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بھی رفیق علی کے بہیمانہ قتل میں ملوث افراد کو سزا دلوانے میں اپنا بھر پور کردار ادا کریں۔
رفیق علی مرحوم کے خاندانی ذرائع نے بتایا کہ ان کے سر کے پچھلے حصے میں شدید زخم تھے اور ان سے بہت زیادہ خون بہنے کے باعث ان کی موت واقع ہو گئی تھی۔
یاد رہے کہ اپر اور لوئر چترال میں گزشتہ کئی سالوں سے قتل کے اندوہناک واقعات رونما ہوتے آرہے ہیں مگر شواہد نہ ہونے اور مقتولیں کے لواحقین کی جانب سے کیسز میں دلچسپی نہ دکھانے کے باعث ایسے کیسز کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوتا۔ اور اکثر واقعات کو خود کشی کا نام دے کر دبا دیا جاتا ہے۔
ایسے واقعات میں مقتولیں کے ورثاء اور سول سوسائیٹی کو بھر پور آواز اٹھانے کی ضرورت ہے تاکہ چترال کے اندر رونما ہونے والے ایسے واقعات کی روم تھام ممکن ہو سکیں۔ یہ بات بھی اہم ہے کہ رفیق علی کا قتل اپر چترال پولیس کے لئے ایک ٹسٹ کیس ہے جس کی جامع انداز سے تحقیقات کرکے اگر ملزماں کو کیفر کردار تک پہنچایا گیا تو اس سے عوام کی نظروں میں پولیس کے وقار میں بھی اضافہ ہو گا۔

