Chitral Today
Latest Updates and Breaking News

ہمدرد بنیں، سر درد نہیں

گل عدن چترال

دنیا کی آنکھ کٹا ہوا بازو دیکھ سکتی ہے اور کٹے ہوئے بازو کا درد سمجھ سکتی ہے مگر سلگتا ہوا دل نہیں دیکھ سکتی۔ تو دل کی تکلیف بھی نہیں سمجھ سکتی۔ بلند قہقہے سبکو سنائی دیتے ہیں مگر ان قہقہوں میں چھپی سسکیاں کوئی نہیں سن سکتا کیوں کہ ہم نہیں سننا چاہتے۔ کسی کے چہرے کی مسکراہٹ ہمیں دور سے نظر آتی ہے مگر آنکھوں میں آئے آنسوؤں کی نمی کھبی دکھائی نہیں دیتی کیونکہ ہمیں ہمدرد بننا نہیں سکھایا گیا بلکہ ہمییں ہمدردیاں بٹورنا سکھایا جاتا ہے۔ ہمیں دوسروں سے توقعات باندھنا اور شکوے شکایات کی گٹی پلائی گئی ہے۔

ہم مجموعی طور پر نسل در نسل ایک بیماری میں مبتلا قوم ہیں جس کا نام خود ترسی ہے۔ جی ہاں خود ترسی ہماری قومی بیماری ہے۔ اس قوم کی اکثریت خود کو حساس لوگوں میں شمار کرتی ہے لیکن ہماری حساسیت کا پیمانہ یہ ہے کہ ہمیں بس اپنا دکھ درد محسوس ہوتا ہے، ہمیں ہر حال میں اپنے آپکو مشکلات اور مصائب سے بچانا ہے چاہے اسکے لئے دوسروں کو کتنے مشکلات میں ڈالنا پڑے۔ دن رات اپنے رونا رونے میں ہم اتنے مصروف لوگ ہیں کہ دوسروں کو سننے کا نہ ہمارے پاس وقت ہے نہ ارادہ۔ ہماری خوشیاں اور ہمارے غم ‘میں’ سے شروع ہوکر ‘میں ‘ پر ختم ہوتے ہیں پھر بھی ہمارا دعوا ہوتا ہے کہ ہم حساس لوگ ہیں۔

ذرا غور کریں ہم ہمیشہ اپنے عزیزوں کو اپنے موت سے ڈراتے ہیں کھبی دوسروں کی موت کا سوچ کر خود کو نہیں ڈراتے۔۔۔ذرا سوچئے ہمیشہ اپنی بیماری سے، اپنی ناراضگی سے اپنی بد دعاؤں سے دوسرے کو ڈرانا والا بندہ حساس نہیں ہوتا بلکہ ظالم کہلاتا ہے ایسا شخص انتہائی خود غرض اور بے حس ہے جو چاہتا ہے کہ ہر کوئی بس اسکا خیال رکھے۔ اگر حساس ہونا ایک پلس پوائنٹ ہے تو واقعتا حساس یعنی درد مند بنیں۔ اگر آجکل کی ٹینشن زدہ ماحول میں اگر آپ دوسروں کے ساتھ نیکی کرنا چاہتے ہیں تو آج ہر شخص کو ایک ہمدرد ساتھ کی ضرورت ہے۔ لہذا اپنے ساتھ رہنے والوں، ملنے والوں غرض اپنے غیر ہر طرح کے لوگوں کے ساتھ ہمدردی سے پیش آئیں۔

پہلی چیز چاہے کوئی آپکو پسند ہو یا نہیں پسند، آپ ہمدردی سے پیش آئیں۔ بھلا پسندیدہ لوگوں پر بھی مہربان ہونا کوئی مہربانی ہے؟

دوسری بات: چاہے کوئی اچھا مسلمان ہو یا نہ ہو بلکہ بے شک کوئی مسلمان بھی ہو یا نہ ہو۔ تیسری اور اہم بات چاہے کوئی خوش دکھائی دے یا ہر وقت اداس رہتا ہو، آپ مہربان ہوکر ملیں یاد رکھیں آنسو دکھی ہونے کی علامت نہیں ہے اور نا ہی ہنستے چہرے خوشیوں کی ضمانت ہوتے ہیں۔ کسی نے سچ ہی کہا ہے کہ ہنسنے ہنسانے والوں کا صرف چہرہ بظاہر ہنس رہا ہوتا ہے مگر اسکے اندر کا رواں رواں رو رہا ہوتا ہے کیونکہ ہر کوئی دکھوں کا اشتہار نہیں بنتا لیکن ہماری اکثریت ہنسنے ہنسانے والوں کو حیسیات و جذبات سے محروم کوئی مخلوق سمجھتے ہیں۔

ہمیں لگتا ہے کہ انکے سینے میں دل نہیں پتھر ہیں اور ہمارا سلوک انکے ساتھ ایسا ہوجاتا ہے جیسے واقعی ان کے پاس دل نہیں بلکہ وہ پتھر دل ہوں۔ اسلئے خدارا جس کے ساتھ بھی زندگی گزارنی پڑ رہی ہے، جسکے ساتھ رہنا پڑ رہا ہے، جن کا ساتھ لکھا ہے ان سب کے لئے اپنے دلوں میں تھوڑی سی گنجائش تھوڑا سا رحم پیدا کریں۔بظاہر انکی کوئی بھی حالت ہو۔

آپ مہربانی سے پیش آئیں۔ چوتھی اور آخری بات رحمدل بنیں تو سب کے لئے بنیں آخر کب تک کسی کے لئے فرعون اور کسی کے لئے مسیحا کا کردار ادا کریں گے اور آخر کیوں ہم کسی کی زندگی کا سبب بنتے ہیں تو کسی کی موت کا؟؟ ہم سب کے لئے ایک جیسا دل کیوں نہیں رکھ سکتے؟ دل نہ سہی ایک جیسا رویہ ایک سا لہجہ کیوں نہیں رکھ سکتے؟ ہماری زندگیوں سے تفریق کا زہر کب ختم ہوگا؟؟؟ہم سب کے لئے، اپنے لئے اور دوسروں کے لئے ایک جیسا کیوں نہیں سوچ سکتے؟۔ ہمیں خود پر جتنا ترس آتا ہے دوسرے پر کیوں نہیں آتا؟ آپ سب کو پتہ ہے کہ کائنات کا پہلا گناہ نہ قتل تھا نہ غیبت تھی نہ فحاشی تھی نہ جھوٹ بلکہ پہلا گناہ تھا میں اس سے بہتر ہوں۔

اسی گناہ کے نتیجے ابلیس فرشتے سے شیطان بنادیا گیا ۔ تفرقات کا بنیاد بھی یہی گناہ ہے جو ہمارے اندر سب سے زیادہ ہے۔رحم خود پر کرنا ہے تو خود میں اور دوسروں میں ‘فرق’ دکھانے کی بے کار کوششوں سے باز آجائیں۔مان لیں کہ ہر دوسرا شخص ہمارا اپنا عکس ہے اور مت بھولیں جس رب کو ہم سجدہ کرتے ہیں اسکے صفات میں سب سے اعلی صفت رحم دلی ہے۔ جس پیغمبر کے ہم امتی ہیں اسکی سب سے اعلی صفت رحم دلی ہے اور میزان میں تولے جانے والے سب سے بھاری اعمال جن کا وزن ہوگا وہ اچھے اخلاق کے ہوں گے شرط یہ ہے کہ اگر ہمارا اخلاق ناپسندیدہ افراد کیساتھ بھی ویسا ہی ہو جیسا پسندیدہ لوگوں کیساتھ ہے۔۔ اسلئے جس سے بھی ملیں مہربان ہوکر ملیں کیوں کہ آپ نہیں جانتے کہ کون اپنے اندر کیسی کیسی جنگیں لڑ رہا ہے۔ کس کس اذیت سے گزر چکا ہے یا گزر رہا ہے کسی کے چہرے پر درد کی لکیر نظر نہ بھی آئیں آپ کسی کو اپنی تلخ رویوں کا شکار نہ کریں۔ بلکہ جس سے بھی ملیں ایسے ملیں کہ لوگ آپ سے دوبارہ ملنے کی تمنا کریں۔ کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے کہ ‘شکوہ ظلمت شب سے تو کہیں بہتر تھا ‘اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے۔۔۔۔

You might also like

Leave a comment

error: Content is protected!!