داد بیداد
ڈاکٹرعنایت اللہ فیضی
اخبارات میں خبر لگی ہے کہ ماہرین نے اگلے دو سالوں کے لئے مزید مہنگائی کی پیش گوئی کی ہے ما ہرین کا کہنا ہے کہ دو سالوں کے بعد کسی اور مہنگائی کی لہر نہیں آئے گی تا ہم مہنگائی کی موجودہ صورت حال بر قرار رہیگی مہنگائی کیا ہے اس کی جامع تعریف کسی ماہر معاشیات نے نہیں کی اس کی سب سے بہتر تعریف ایک بھارتی گاوں میں رہنے والی 90سالہ خاتون نے کی ہے
خاتون سے سوال پوچھا گیا مہنگائی کے بارے میں تم کیا کہنا چاہتی ہوں اُس نے کہا زمین سے پیداوار آتی ہو ، گھر میں مال مویشی پالے جاتے ہوں، سبزی، مرغی، انڈے، پھل گھر کی پیداوار سے آتے ہوں تو کوئی مہنگائی نہیں ہے 80سال پہلے میں 10سا ل کی تھی میں ایک سیر، گندم جوار یا ایک مرغی یا درجن انڈوں کے عوض جتنی چائے، چینی بازار سے لاتی تھی آج 80سال بعد میری 10 سالہ پوتی انہی جنسوں کے بدلے اُس مقدار میں سودا لیکرآتی ہے خاتون کی بات میں کوئی فارمولہ نہیں کوئی فلسفہ نہیں خاتون کا تجربہ ہے اور سیدھی سی بات ہے اگر بازار کے نرخ آسمان کو چھو رہے ہیں تو گھریلو پیداوار کی قیمتیں بھی اس حساب سے بڑھ چکی ہیں
مہنگا ئی سے تنگ آنے والے ممالک نے خود کفالت اور خود انحصا ری کے مختلف طریقوں کوازما لیا ہے اور یہ تجربے کامیاب ہو چکے ہیں خو د کفا لت اور خود انحصاری کے حوالے سے ہمارے بزر گوں کا طرز عمل بہت کا میاب تھا ہمارے بزرگوں نے امریکہ، آسٹریلیا، پنجا ب اور سندھ سے آنے والا گندم یا آٹا نہیں دیکھا تھا، ان کے زما نے میں چینی یا کھانڈ گھروں میں نہیں لائی جا تی تھی، ان کے زمانے میں ڈالڈا کا رواج نہیں تھا بنا سپتی گھی اور کو کنگ آئیل بازار سے لانے کا کوئی دستور نہیں تھا، باسمتی، اری۔ 6، ڈگرہ، دوبار، سلہ چاول کے لئے بازار جا نے کا کوئی رواج نہیں تھا شیمپو، صابن، ٹیشو پیپر اور دیگر چیزوں کا نام کسی نے نہیں سنا تھا مہینے میں 10جو ڑے کپڑے بنا نے کا دستور نہیں تھا، سال میں ایک جو ڑا کپڑا بنایا جاتا تھا پاوں میں جو تے بھی ایسے ہی ہو تے تھے مندر جہ بالا 10جملے پڑ ھ کر ہ میں حیر ت ہو تی ہے تعجب ہو تا ہے کہ پھر لو گ کیسی زند گی گذار تے تھے ان کی زندگی خود کفالت اور خود انحصا ری کی زند گی تھی، شانگلہ، کالام ، براول بانڈہ، چترال اور ڈی آئی خا ن کے دیہات میں لو گوں کی چھوٹی چھوٹی زمینا ت تھیں
ان زمینات پر گندم، جوار، باجرہ، جو، مٹر، لو بیا، اور سات اقسام کی دیگر دالیں کاشت کی جا تی تھیں سبزیوں کی محدود پیداوار ہو تی تھی جس میں کچھ حصہ خشک کر کے سر دیوں کے لئے بھی ذخیرہ کیا جاتا تھا، چھوٹے پیما نے پر مویشیاں پالی جاتی تھیں، اون سے کپڑے ، کمبل اور بالوں سے نمدے بنائے جا تے تھے چمڑے سے جو تے بنا تے تھے اور چر بی سال بھر سالن میں کا م آتی تھی 1940ء میں بازار سے صرف نمک اور چائے خریدا جا تا تھا اس لئے ایک بکرا، دنبہ یا بیل فرخت کیا جاتا تو سال بھر کی ضروریات کے لئے کا فی ہوتا تھا جوار، جو اور با جرے کی روٹی صحت مند غذا تصور کی جا تی تھی جدید سائنسی اور طبی تحقیق سے ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ نصف صدی پہلے بیما ریاں کم تھیں، لوگ صحت مند تھے آج بھی معدے، پھیپھڑے، جگر اور گردے کی بیماریوں کے لئے جو، باجرہ اور اور جوار کو بطور خوراک تجویز کیا جاتا ہے ہمارے بزرگوں کے پاس علم نہیں تھا ڈگریاں نہیں تھیں مگرعقلمندی بہت تھی، ہوشیا ری بہت تھی، سلیقہ شعاری بہت تھی، کفا یت شعاری بہت تھی تجربہ بہت تھا
عالمی سطح پر گذشتہ کئی دہا ئیوں سے غربت کو نا پنے کے لئے ڈالر میں روزانہ کمائی کو معیار بنایا گیا تھا اب معیشت دانوں کا خیال ہے کہ اگلی دہائی سے ڈالر کا پیمانہ ختم ہوگا غربت کو ملکیتی زمین کے پیما نے سے نا پا جا ئیگا، جس کے پاس زمین نہیں ہو گی گویا اس کے پا س پیداوار کا کوئی ذریعہ نہیں وہی سب سے زیا دہ غریب ہے آج با زار پر انحصار کرنے والے صارفین مہنگا ئی کا رونا رو رہے ہیں مگر جن کے پا س پیداوار کے ذراءع ہیں ان کو مہنگا ئی سے زیا دہ فر ق نہیں پڑتا یہی خود کفا لت ہے گھریلو پیداوار پر انحصار شہری کو بھی خود کفیل بنا تا ہے ملک اور قوم کو بھی خو د کفیل بتا تا ہے بازاری معیشت کا کوئی اعتبار نہین، ایک جھٹکے میں شہری کو آسمان سے زمین پر دے مار تا ہے قوم اور ملک کو بھی کنگال کر دیتا ہے۔

