Urgent remedial actions for affected areas

اپر چترال کے سیلاب متاثرین کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور

چترال (محکم الدین) حالیہ سیلاب نے اپر چترال کے وسیع علاقے اور درجنوں دیہات کو ملیامیٹ کرکے رکھ دیا ہے اور لوگ انتہائی کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ سر پر چھت نہیں، زندگی بھر کی جمع پونجی سامان اور زمینات و باغات ختم ہو گئے ہیں۔ خصوصا بریپ گاوں کو سب سے زیادہ  نقصان پہنچا ہے اور لوگ مایوسی و محرومی میں زندگی بسر کر نے پر مجبور ہیں۔

سردیاں سر پر ہیں اور سر چھپانے کیلئے چھت کا نام و نشان نہیں ہے۔ انتظامیہ کی کارکردگی اتنی ناقص ہے کہ سیلاب کو گزرے پندرہ دن ہونےکو ہیں بریپ سے گزرنے والی سڑک بحال نہیں کر سکے ہیں۔ لوگوں کے سیب اور ناشپاتی کے باغات ختم ہوگئےہیں اور سالانہ لاکھوں روپے سیب کے پھل فروخت کر کے  بھاری آمدنی حاصل کرنے والے لوگ بھیگ مانگنے پر آگئے ہیں مگر ضمیر بھیک مانگنے سےروکنےکی وجہ سے ہاتھ نہیں پھیلا سکتے۔

چار بیٹوں کی ایک بوڑھی ماں نے بھرائی ہوئی آواز میں اپنی بے سرو سامانی کی داستان  بیان کرتے ہوئے کہا کہ ان کے چاربیٹوں کے الگ الگ خوبصورت چار مکانات تھے جن میں زندگی کی تمام اسائشین موجود تھیں۔ ایک  چھوٹے بیٹےکی شادی چند دن بعدہونے والی تھی لیکن سیلاب نے ان کی آرمانوں، بیٹے کی شادی کی خوشیوں سمیت  تمام مکانات و سامان  کو سیلابی ملبے کے نیچے دفن کر دیا۔ گو کہ  زندگی بچ گئی ہے لیکن خود کو بے جان محسوس کرتی ہوں۔ اب میرا پورا گھرانہ سر چھپانے کیلئے ایک رشتے دار کے کچن میں رہنے پر مجبور ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مسلسل دس دنوں تک جاری رہنے والا سیلاب انہوں نے کبھی نہیں  دیکھی جس نے ان کی بڑھاپے کی زندگی کو ایک ایسے دوراہے پہ کھڑا دیا ہے کہ کچھ سمجھائی نہیں دیتی۔ سیلاب کی تباہی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ پورے اپر چترال میں سالم نقصانات کی تعداد  تین سو تین ہے جن میں سے دو سو دو مکانات صرف مستوج سے دربند یارخون تک سیلاب سے ملیامیٹ  ہوئےہیں جبکہ بونی سمیت تورکہو موڑکہو تحصیل میں سالم نقصانات والے مکانات کی تعداد ایک سو ہے جن میں ریشن کے لینڈ سلائڈنگ کے اٹھارہ فل ڈمیج والے مکانات بھی شامل ہیں۔

اسی طرح جزوی نقصان شدہ مکانات کی تعداد نوسو سات ہے جن میں صرف مستوج سے دربند تک آٹھ سو اکتیس  مکانات کو جزوی نقصان پہچا جبکہ  ضلع کے دوسرے حصوں میں صرف چھیتر گھروں کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔  سیلاب نے جہاں لوگوں کے مکانات ملیا میٹ کرکے  رکھ دیے ہیں۔ وہاں نہروں کا نام و نشان مٹ جانے کے باعث بچ جانے والی مکئ اور دیگر فصلو ں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ رہا ہے جبکہ گندم کی فصل پہلے  ہی مسلسل بارش اور سیلاب کی وجہ سے تباہ ہوچکی ہے جس کا بھوسہ بھی جانوروں کےکھانے کے قابل نہیں ہے۔ ایک طرف سیلاب کی یہ تباہی ہے تو دوسری طرف حکومت اور انتظامیہ کی طرف سے متاثرین کیلئے ایمرجنسی بنیادوں پر بحالی کے کوئی کام نظر نہیں آتے، متاثرہ روڈز، نہریں اور واٹر سپلائی سکیمں اب بھی حکومتی امداد و فنڈز کی منتظر ہیں۔ اگر ان متاثرہن کی بحالی کیلئے سنجیدہ اقدامات نہ کئےگئے ۔ تو سیلابی مقامات میں مزید نقصانات کے خدشات موجود ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *