Inayatullah Faizi

مہتر چترال کا دورہ شندور

داد بیداد

ڈاکٹرعنایت اللہ فیضی

مہتر چترال شجاع الملک 1914ء میں نے اپنے پہلے دورہ شندور کے مو قع پر گوپیس کے راجہ مراد خا ن اور پولو کے کھلاڑیوں کو شندور آکر چترال کے مقابلے میں پولو کھیلنے کی دعوت دی اس سے پہلے چترال کی وادی لاسپور اور مستوج کے کھلاڑی شندور میں پولو کھیلا کرتے تھے 1876ء میں برٹش افیسر کرنل ویلیم لاکہارٹ اور میجر بڈا لف گلگت سے براستہ شندور چترال آئے تو امان الملک نے اپنے بیٹے سردار نظام الملک کو لنگرکے مقام پر اپنی حدبندی میں ان کے استقبال کے لئے بھیجا

لاکہارٹ پیپرز میں اس کی تفصیل دی گئی ہے، شندور کی جھیل کے کنارے کیمپ لگایا گیا تھا، رات کو محفل موسیقی منعقد ہوئی، اگلے دن لاسپور اور مستوج کے کھلاڑیوں نے سردار نظام الملک کی سربراہی میں پولو کا میچ کھیلا لاکہارٹ نے سردار نظام الملک کی زندہ دلی کا خاص طورپر ذکر کیا ہے 1890ء میں سردار نظام الملک نے پھنڈر میں چترال اور گلگت کے کھلا ڑیوں کا شرطیہ میچ رکھا

فارسی کے شاعر معظم خان اعظم متوفی 1910نے اس میچ کے کھلا ڑیوں کی ترجمانی کرتے ہوئے رجزیہ اشعار میں اس واقعے کو محفوظ کیا ہے یہ میچ گلگت نے 12گولوں سے جیتا چترال کی ٹیم کوئی گول نہ کر سکی کھلا ڑیوں میں چترال کی طرف سے شاہ بمبور، فتح علی شاہ، مبارک شاہ اور گلگت کی طرف سے خداداد، علی داد قابل ذکر ہیں 1895ء میں شجاع الملک کی تخت نشینی ہوئی، اُس وقت انکی عمر 13سال تھی تخت نشینی کے 19سال بعد 1914ء میں شجاع الملک نے شندور کا پہلا دورہ کیا، کوغذی، برینس، ریشن، سنو غر، مستوج اور ہرچین میں پولو کھیلنے کے بعد شجاع الملک 20جولائی کو شندور پہنچے ہر چین سے انہوں نے گوپیس کے گورنر راجہ مراد خا ن کو شندور آنے کی دعوت دی 22جولا ئی کے دن شہزادہ دلارام خا ن کو گورنر گو پیس کے استقبال کے لئے اپنی حد بندی لنگر بھیجا لنگر سے شندور پہنچنے کے بعد 23جولا ئی کو گو پیس اور چترال کی ٹیموں کے درمیان شرطیہ میچ ہوا جو برابر رہا

اگلے دن پھر میچ ہوا جسے چترال نے جیت لیا، چترال کی ٹیم میں سر فراز شاہ، امیر آوی، فیروز ہ دیواں بیگی، شادونی لا ل اور شا بمبور حا کم کھیلتے تھے گوپیس کی ٹیم راجہ مراد خا ن کی کپتا نی میں کھیل رہی تھی وقاءع نویس کی حیثیت سے مرزا محمد غفران مہتر چترال کے ہمراہ تھے تاریخ چترال فارسی مطبوعہ 1920 میں اس دورے کی تفصیلات آئی ہیں مہتر چترال شجا ع الملک نے اس دورے میں شندور پو لو گراونڈ ماہو ران پاڑ کے گرد واقع ٹیلوں کے دامن میں دو فٹ دیوار تعمیر کروائی جو خشک پتھروں سے بنا ئی گئی چھوٹی جھیل کے کنا رے اپنے لئے گر ما ئی بنگلہ تعمیر کر نے کی بنیاد رکھی جو دوسال بعد تعمیر ہوئی مہتر چترال کو لنگر کے مقا م پر چترال اور غذر کی حد بندی بھی دکھائی گئی 1904 میں ٹیلیفون لا ئن بچھا تے وقت لنگر تک چترال سے دیار کی لکڑی کے کھمبے نصب کئے گئے تھے

غذر کے علا قے میں گوپیس سے لائے ہوئے سفید کے کھمبے نصب تھے شندور میں قیا م کے دوران رمضا ن کا مہینہ آیا مہتر چترال کے کیمپ میں تراویح اور ختم قرآن کا اہتما م کیا گیا شندور کی 5بستیوں میں مقیم لا سپور کی خواتین میں شاہی خلعت تقسیم کی گئی غربا کو نقد امداد دی گئی مہتر چترال کو شندور میں پہلی جنگ عظیم چھیڑ نے کی خبر ملی اس خبر کے ملتے ہی مہتر چترال نے اسسٹنٹ پو لٹیکل ایجنٹ کیپٹن ولسن کو رخصت کیا تا کہ وہ دارالخلا فہ میں بیٹھ کر گورنمنٹ کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہے خا ندان سادات کے دو بزر گ شہزادہ لیث اور سید شاہ ابو لحسن بھی مہتر چترال کے ہمراہ تھے شندور سے واپسی پر مہتر چترال نے وادی بروغل کا دورہ کیا اور قرمبر جھیل تک گئے بروغل کے مقام شوار سر میں وخا ن سے آئے ہوئے عما ئدین نے مہتر چترال سے ملا قات کی اور تر کی دُنبے بطور سلا می پیش کئے مہتر چترال نے مہما نوں کو انعا مات اور خلعتوں سے نواز کر رخصت کیا مرزا محمد غفران کے کتب خا نے میں مطبوعہ تاریخ چترال فارسی کے علا وہ سفر کا روز نا مچہ بھی محفوظ ہے شندور ایریا ڈیولپمنٹ اینڈ کنزر ویشن ار گنا ئزیشن تاریخ چترال سے شندور کا باب اور روزنامچہ اردو تر جمہ کیساتھ بہت جلد شاءع کرے گی جس میں لاسپور کے عما ئدین صوبیدار میرخان، صوبیدار سکندر خا ن، ملکی اثقال، شیر احمد خا ن، صوبیدار جانان، مراد جملدار، درویش پنا ہ، حلا وت شاہ اثقال، صوبیدار ولایت خان اور دیگر معتبرات کی خد مات کا ذکر ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.