کابل اور ماسکو

داد بیداد

ڈاکٹرعنایت اللہ فیضی

تازہ ترین خبروں کے مطابق ماسکو میں امارت اسلامی افغا نستان کا سفارت خانہ کھل گیا ہے روس نے کابل کے نا ظم الامور جما ل گروال کے اسنا د سفارت کو قبول کر لیا ہے سفارتی اداب کے لحاظ سے روس کا یہ اقدام امارت اسلامی افغانستان کو باقاعدہ تسلیم کرنے کی طرف پہلا قدم ہے روس نے یہ قدم ایسے نا زک وقت پر اٹھایا جب یو کرین تنازعہ کی وجہ سے اس کی فوج پر دباءو ہے، امریکہ، یو رپی یونین اور نیٹو اتحا د نے روس پر معا شی پا بندیاں لگائی ہوئی ہیں بظاہر ایسا لگتا ہے کہ روس اپنے دشمنوں کے درمیاں پھنسا ہوا ہے اس کی معیشت خطرے میں پڑی ہوئی ہے اس کے اثاثے منجمد کئے گئے ہیں اس پر تجارتی اور سفری پا بندیاں لگائی گئی ہیں

دوسری طرف کابل کی حکومت کو بھی امریکہ، یورپی یو نین اور نیٹو کی طرف سے پا بندیوں کا سامنا ہے 15اگست 2021کو کا بل کی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد امارت اسلا می افغا نستا ن کی قیا دت نے افغا نستان میں حکومت سنبھا لی تو امریکہ اور اُس کے یورپی اتحا دیوں نے اس کا برا منا یا حا لانکہ امریکہ اور نیٹو مما لک نے اما رت اسلا می افغانستا ن کی قیادت کو قطر کے دارالحکو مت دوحہ میں 5سال پہلے دفتر لیکر دیا تھا اور 5سالوں سے اس بات پر قطر میں امریکی حکام اور امارت اسلا می کی قیادت کے درمیان کا بل میں انتقال اقتدار اور قیا م امن کے لئے سنجیدہ مذاکرات ہو رہے تھے فروری 2020ء میں امریکی حکام نے اما رت اسلا می کے رہنماءوں کے ساتھ ایک جا مع معا ہدہ پر بھی دستخط کئے تھے امارت اسلا می کی قیا دت کا افغا نستان میں اقتدار سنبھالنا اس معا ہدے کا حصہ تھا یہ کسی خونریز لڑائی کا نتیجہ نہیں تھا اور انتقال اقتدار کے بعد امارت اسلا می افغا نستا ن نے ملک میں قیا م امن کا وعدہ پورا کیا گذشتہ 8مہینوں میں افغا نستان کے طول و عرض میں مثالی امن قائم ہوا ہے

اپریل 1978ء سے اگست 2021ء تک کم و بیش 43سالوں کی شدید خا نہ جنگی کے بعد اگر افغا نستا ن کو امن کے چند مہینے نصیب ہوئے ہیں وہ یہی 8مہینے ہیں ان مہینوں میں بحا لی امن کی کا میا ب کو ششوں کا اعتراف دوست ہی نہیں کر تے بلکہ دشمن بھی اس کا اعتراف کر تے ہیں پر امن حکمرا نی کے 8مہینوں میں عالمی برادری پر کا بل حکومت کے 3بڑے حقوق واجب تھے پہلا حق یہ تھا کہ عالمی برادری امارت اسلا می کی حکومت کو تسلیم کرتی ، دوسرا حق یہ تھا کہ امریکہ میں اس تبا ہ حال اور جنگ زدہ ملک کے جو اثا ثے رکھے گئے تھے ان اثا ثوں کو امارت اسلا می کے حوالے کیا جاتا رپوٹوں کے مطا بق ان اثا ثوں کی ما لیت 9ارب ڈالر ہے تیسرا حق یہ تھا کہ عالمی برادری کا بل کی حکومت کو افغا نستا ن کی تعمیر نو کے لئے ما لی ، فنی ، تکنیکی اور اخلا قی مدد فراہم کر تی لیکن عالمی برادری اپنی ذمہ داری پوری کرنے میں بری طرح نا کا م ہوئی

عالمی برادری نے امارت اسلا می افغا نستا ن کی حکومت کو تسلیم نہیں کیا و جہ یہ تھی کہ امریکہ تسلیم کرنے کے حق میں نہیں ہے اور دوسرے ملکوں کو امریکہ کی دشمنی مول کر کا بل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے کی ہمت نہ ہوئی 57مما لک پر مشتمل مسلم ممالک کے بلا ک سے توقع کی جا رہی تھی کہ بلا ک امارت اسلا می کی حکومت کو تسلیم کرنے میں پہل کرے گا لیکن اس بلا ک میں کوئی ایسا لیڈر سامنے نہیں آیا جو جابر سلطان کی اجا زت کے بغیر جا بر سلطان کے سامنے کلمہ حق بلند کر تے ہوئے اما رت اسلا می افغانستا ن کے حکومت کو تسلیم کرتا دوسری طرف امریکہ نے منجمد کیے گئے واپس کرنے سے انکا ر کیا، اقوام متحدہ کے ذیلی اداروں نے افغا نستان کے اندر قحط ، بے روز گا ری اور انسا نی بحران کی طرف باربار تو جہ دلا ئی لیکن کسی کے کا نوں پر جوں تک نہیں رینگی ان حا لا ت میں ما سکو کی طرف سے افغا ن نا ظم لامور کے اسنا د سفارت کو قبول کرنا بہت خوش آئیندہے اب برف پگھل چکی ہے اُمید ہے امریکی دباءو سے آزاد مما لک کا بل کے ساتھ سفارتی تعلقات استوار کر ینگے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.