میرا پاکستان ہے یہ تیرا پاکستان ہے

محکمہ تعلیم کا ایک چمکتا ہیرا

دھڑکنوں کی زبان

محمد جاوید حیات

استاد قوم کا محسن اس وقت بنتا ہے جب وہ قوم بنانے کا صحیح حق ادا کرے۔اس کے ہاتھوں ایسے نابعہ روزگار شیروں کی پرورش ہو جو آگے جا کے شیر خدا ؓ، سیف اللہ ؓ،کشتیاں جلانے والے، صلاح الدین، اقبال اور قائد اعظم بن جائیں جو قوموں کی تقدیریں بدلیں یہ قوم کے اصل محسن ہیں۔ محسنان قوم کی فہرست لمبی ہے کسی نہ کسی دور میں ایسے اساتذہ کی ان اداروں میں تشریف اوری ہوئی جنہوں نے ایوان علم و عمل جگمگائے۔ان کی روشنی تا دیر رہی ان میں سے محمد حبیب لال ایک ہیں۔محمد حبیب لال رضا خیل خاندان کی مشہور شخصیت روشن علی خان کے خانوادے میں شیر حبیب لال کے ہاں گیارہ ستمبر 1961ء کو وریجون موڑکھو میں پیدا ہوئے۔روشن علی خان کی جائیدائیں تورکھو ریچ اور موڑکھو وریجوں میں تھیں شیر حبیب لال موڑکھو وریجون آکر آباد ہوئے وہ اپنی بذلہ سنجی اور کرشماتی شخصیت کے لحاظ معاشرے میں اپنے دور کے مشہور کردار تھے جو”دکانچی لال“ کے نام سے مشہور تھے۔محمد حبیب اپنے باپ کے اکلوتے تھے۔ناز سے پرورش پائی موضع اُجنو تورکھو ننھیال تھا آپ کا بچپن تورکھو ریچ اُجنو اور وریجون موڑکھو میں گزرا۔ بچپن سے بے مثال صلاحیتوں کے مالک تھے کھیل کے میدانوں میں ایک ناقابل شکست اور بے مثال کھیلاڑی بن کے اُبھرے۔شکار گاہ میں اچھے شکاری رہے اپنے باپ اور خاندانی روایات شخصیت میں کوٹ کوٹ کر بھر دی گھر میں مہمانوں کی بھیڑ لگتی ان کی خدمت نے سوشل بنا دیا۔محفلوں کی جان رہے ادب سے شغف رہا۔1979ء کو ہائی سکول دراسن موڑکھو سے میٹرک پاس کیا 1981ء کو پی ٹی سی استاد بن کر محکمہ تعلیم میں شمولیت اختیار کی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا ایم اے بی ایڈ تک کی ڈگریاں لیں۔1983ء کو سٹی استاد بنا 1999ء کو ایس ایس ٹی بنا اور مڈل سکول جنجریت میں بطور ہیڈ ماسٹر تعیناتی ہوئی۔2017ء کو سترہ سکیل پہ ترقی ہوئی۔گیارہ ستمبر 2021 ء کو مڈل سکول وریجون سے بطور ہیڈ ماسٹر ریٹائر ہوئے۔ لیکن ان کی شخصیت اورصلاحیت ہی ایسی ہے کہ وہ صرف ایک کلاس کے استاد ہی نہیں ہیں وہ ایک متحرک شخصیت رہے ہیں۔ وہ دس سال تک اپر چترال کے اے ٹی اے کے صدر رہے ہیں اساتذہ کے حقوق کے لیے لڑتے رہے ہیں۔ہر فورم میں ان کی نمایندگی کا حق ادا کرتے رہے ہیں۔گاؤں اور علاقے کی سطح پر فعال سماجی کارکن رہے ہیں۔علاقہ وریجون میں پانی کی قلت کو دور کرنے کے لیے منیجر ظہیر الدین کے ساتھ مل کر قاقلشٹ نہر کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔دریا سے آپاشی کے لیے پانی مہیا کرنے کے لیے سولیرایشن کی ابتداء میں بنیادی کردار ادا کرتے رہے ہیں۔کے ایل ایس او کے بنادی رکن رہے ہیں۔حبیب لال اپنے شاگردوں میں ایک مثالی استاد رہے ہیں آپ کھیلوں کے میدان میں ایک مشہور فٹبالر مانے جاتے ہیں آپ نے محکمے کے لیے کئی اعزازات جیتے۔آپ جب فٹبال کھیلنے میدان میں اُترتے تو مخالف ٹیم پر پریشر پڑتا آپ جیت کر ہی میدان سے لوٹتے۔آپ ولی بال پولو کرکٹ اور انڈور گیموں کے بھی ہیرو رہے ہیں۔حبیب لال اپنے اداروں میں ہم نصابی سرگرمیوں میں بچوں کی بہت اچھی تربیت کرتے رہے ہیں خود بڑے ادب دوست واقع ہوئے بہترین مقرر رہے آواز بھی شیرین پائی۔۔حبیب استادنے بچوں کے استاد، مربی راہنما اور سرپرست کے طور پر زندگی گزاری۔اس کے کسی طالب علم کو مالی شکلات ہوں علمی مسئلہ ہو گھریلو مسئلہ ہو حبیب استاد اس کے مسیحا کے طور پر اس کے ساتھ رہے۔ان کے دل میں بچوں کے لیے ایک درد محبت اور احترام ہے۔حبیب لال بڑے بذلہ سنج ہیں محفل میں جب بات کرنے لگتے ہیں تو محفل لوٹ لیتے ہیں۔کہاوتیں قصے کہانیاں اور لطیفے بے مثال سناتے ہیں۔بہت مہمان نواز واقع ہوئے ہیں۔دسترخوان بڑا ہے۔صاحب جائیداد ہیں ساتھ فیاض ہیں ان کی زمینوں پر کام کرنے والے معاوضے سے زیادہ فیض اُٹھاتے ہیں۔ حبیب لال ایک اچھے منتظم رہے ہیں۔اپنے اداروں کو ہر لحاظ سے بہتر بنانے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ایک فعال اور ہمہ جہت استاد کی حیثیت سے نمایان رہے ہیں۔وہ نڈر اور بیباک ہیں۔وہ کمپرومایز نہیں کرتے چیلنج قبول کرتے ہیں اور ہر رکاوٹ سے درانہ گزرتے ہیں
حبیب لال محکمہ تعلیم میں ایک خلاء چھوڑ گئے شاید اب کے بعد شاگردوں کو ایسا استاد نہ مل جائے جو ہر میدان کا مردمیدان ہو۔۔استاد کے بارے میں راے ہے کہ کبھی ریٹائر نہیں ہوتا شگردوں کے دلوں میں زندہ رہتا ہے لیکن شرط یہ ہے یہ استاد ایک ریفرینس ہو کوئی حوالہ۔۔جس سے جد و جہد کے راستے روشن ہوں۔۔۔اگر ایسا ہے تو حبیب لال مینارہ نور ہے۔۔۔۔اور ایک حوالہ۔۔۔اللہ اس کو شاد و آباد رکھے

Leave a Reply

Your email address will not be published.