گل عدن چترال
کہنے کو یہ دنیا بہت بڑی ہے بہت وسیع ۔۔ لیکن عورت چاہے مغرب کی ہو یا مشرق کی۔ اسکے لئے دنیا بہت چھوٹی پر جاتی ہے۔ اس بڑی دنیا میں نوے فیصد عورتیں نا صرف عام گھریلو عورتیں بلکہ اعلیٰ تعلیم یافتہ عورتیں بھی گھٹ گھٹ کے جیتی ہیں۔۔لیکن اگر عورت نے خاص طور پر مشرقی عورت نے پسند کی شادی کا جرم کر لیا ہے تو پھر اس کا اس دنیا میں سر اٹھا کر جینے کا آزادی سے سانس لینے کا ہنسنے بولنے کا حق تقریباً ختم ہو جاتا ہے۔۔یہ ملک نہیں جنگل ہے جہاں درندے ایک دوسرے کو چیرتے پھاڑتے ہیں نہ کوئی انہیں روکنے والا ہے نہ ہوگا۔
ابھی پچھلے دنوں ایک کم عمر بچی روبینہ خالد کا قتل ہوا۔ پسند کی شادی کرتی ہے جسکے کچھ عرصہ بعد میکے سے صلح کی نوید پاکر رہنے آجاتی ہے ۔دن کی روشنی میں جھوٹے منہ کیساتھ بیٹی کا استقبال کرنے والا باپ رات کے اندھیرے میں اسے گھر سے باہر ویرانے میں لے جاکر اپنے علاقے کے چالیس پچاس غیرت مندوں کے سامنے بیٹی کو گولیوں سے بھون ڈالتا ہے۔ وہ بیٹی کس دل سے میکے آئی تھی۔۔اور کس دل سے رات باپ کے ساتھ گھر سے قربان گاہ کی طرف روانہ ہوئی یہ سوچنے کی فرصت اور ضرورت کسی کو نہیں ہے۔۔
تصویر میں آپ دیکھ سکتے ہیں روبینہ خالد کی آنکھیں اسکے قاتل باپ پر ٹکی ہوئی ہیں ‘وہ باپ جس سے بیٹی کی خوشی برداشت نہیں ہوسکی۔ وہ باپ جس سے بیٹی کی “مرضی” ہضم نہیں ہوسکی۔ وہ باپ جس کے لئے خاندان کے گمراہ رشتے داروں کی خوشی اور رضا مندی اسکے اولاد کی جان سے زیادہ پیاری تھی۔
یہ اپنی نوعیت کا نہ پہلا واقعہ ہے نہ آخری صدیوں سے یہ ریت چلی آرہی ہے۔ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں بیٹیوں کی جانیں ان غیرت مند مردوں کی غیرت کے بھینٹ چڑھیں ہیں ۔غیرت کی یہ داستان شروع کہاں سے ہوئی ہے اور کہاں جاکر ختم ہوگی ہم نہیں جانتے۔ مگر المیہ یہ ہے کہ یہ غیرت صرف ان پسماندہ علاقوں کے جاہل طبقے میں نہیں پائی جاتی بلکہ اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد میں بھی یہی غیرت من و عن ایسے ہی پائی جاتی ہے۔تعلیم یافتہ اور بظاہر معزز گھرانے بھی آج تک بیٹی کو پسند کی شادی کا حق نہیں دےپائے۔ جو حق اسلام نے دیا وہ انسان نہیں دے پارہا اور یہی اس زمین پر فساد کی جڑ ہے۔
عورت عورت ہونے کی سزا اپنی پیدائش کے ساتھ ہی جھیلتی آئی ہے۔ دنیا اس سے بیٹی بہن ماں بیوی بہو ہر روپ میں صرف قربانی مانگتی ہے۔اسے ہر رشتے کو بچانے اور نبھانے کے لئے ہر قدم پر اپنا من مارنا پڑتا ہے۔وہ باپ کے گھر میں ہو شوہر کے یا بھائی کے گھر میں وہ ہر جگہ صرف زمہ داریاں نبھا رہی ہے۔ وہ شادی والدین کی پسند سے بھی کرے تو اس شادی کو نبھانے کی تمام تر ذمے داری صرف عورت پر ہوتی ہے۔اور اپنی پسند سے کرے تو وہ ایک مجرم ہے نہ اسے سسرال میں عزت ملتی ہے نہ میکے میں نہ اس دو ٹکے کے معاشرے میں۔ وہ معاشرہ جسکی غیرت مردوں کی بے راہ روی پر کھبی نہیں جاگی۔ بیٹا شراب پیے ۔اوارگی کرے بے دین ہو جائے باپ کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔لیکن بیٹی نے اپنی مرضی سے نکاح کیا پورا علاقہ اسے نیچے دکھانے اسے غیرت دلانے آپہنچا۔۔ سچ تو یہ ہے کہ لا الہ الااللہ کے بنیاد پر جو ملک حاصل کیا گیا ہے اس ملک میں دین کی ایک فیصد بھی کسی کو سمجھ نہیں آئی نہ اسے سمجھنے سمجھانے کی ضرورت محسوس کی گئی۔
جہالت کے اندھیرے میں ڈوبا ہوا یہ ملک مذہب کو صرف کارڈ کے طور پر استعمال کرتا ہے۔
اسلام اتنا تنگ نظر مذہب نہیں ہے کہ شرابی اور زانی بیٹے کو کھلا عام چھوڑنے کا حکم دے اور نکاح کرنے والی بیٹی کو سنگسار کرنے کا۔ میں نے ان بیٹیوں کی آنکھیں دیکھی ہیں جنہوں نے پسند سے شادی کی اور میں نے ان کے ساتھ مجرمانہ رویہ رکھنے والے بظاہر بڑے نیک بڑے مہذب پانچ وقت کے نمازی دین دار اپنے تئیں کنفرم جنتیوں کو بھی دیکھے ہیں۔لیکن میرا موضوع مذہب نہیں ہے کیونکہ مذہب کے ٹھیکیدار انشاء اللہ بروز قیامت جواب دہ ہونگے کہ انہوں نے “کس دین “کی تبلیغ کی۔
یہ واقعہ پہلا یا آخری نہیں ہے پھر بھی جب ایسے واقعات ہوتے ہیں تومیرا جی چاہتا ہے میں جا کر اس باغیرت باپ کو شاباشی دوں اسے کہوں کہ اچھا کیا تو نے اسے مار دیا جسکی زندگی پہلے ہی مردوں سے بدتر ہوچکی ہے۔ایک زندہ لاش کو آخر ٹھکانہ تو لگانا تھا اور لاش کو ٹھکانے اپنے ہی تو لگاتے ہیں۔۔سو اچھا کیا جو اسے مار دیا۔

