اورنگزیب شھزاد
کہتے ہے کہ شاعر پیدا ہوتا ہے بنتا نہیں.یہ خدادا صلاحیت ہے.بندہ جتنا شاعر بنے کی کوشش کرے، میرا ناقص زہن یہ مانتا ہے کہ وہ شاعر تو نہیں بن سکتا لیکن ادب کے ساتھ کھیل واڑ ضرور کرسکتا ہے. یعنی اسکو قافیہ، ردیف کا اندازہ نہیں ہوگا. شاعری تو میں بھی کرسکتا ہوں لیکن اس میں وہ مٹھاس نہیں ہوگا جو حقیقی شاعری میں پایا جاتا ہے.
مجھے لگتا ہے کہ آبادی نے یہ خصوصا ان لوگوں کیلیے لکھا ہے جو صرف شاعری کو گل و بلبل، محبوب کے حسن جمال تک محدود کرتے ہیں.
خصوصا ہمارے چترال میں جب آپ دیکھتے ہیں تو نوجوان شعرا کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہوتا جارہا ہےاور انکی شاعری میں صرف آپ کو محبوب کی بے وفائی اور اسکی خوبصورتی کا پہلو ہی نظر آے گا.جسکو بھی دیکھو آج شاعر بن بیٹھا ہے.
مجھے اندازہ ہے کہ میرے احباب شاعروں کو یہ بات ناگوار گزرے گا لیکن حقیقت یہی ہے.
شاعری ایک وسیع کھلا میدان ہے جسمیں آپ ہر چیز کا زکر کر سکتے ہیں.لیکن آپ لوگوں کی شاعری میں مجھے صرف محبوب کی بے وفائی کا زکر ملتا ہے.
میں یہ نہیں کہ رہا کہ سب شاعر ایسے ہیں. بہت سے اعلئ درجے کی شاعر گزر چکے ہیں مثلا بابا سیر،تجمل شاہ محوی، گل اعظم خان، بابا فردوس فردوسی وغیرہ.
میں خود تو شاعر نہیں لیکن ادب کا طالب علم ہوں.میرا ارادہ کسی کی دل آزاری کرنا ہر گز نہیں ہے، میں صرف وہی بتا رہا ہوں جو سب کو نظر آرہا ہے اور یہ حال کھوار ادب کا نہیں دوسری زبانوں کا بھی ہے.
آپ جب شاعری کرتے ہیں تو تو اپنے علاقے کا جو مخصوص کلثر ہے اسکی نمائندگی کر رہے ہوتے ہیں لہذا محبوب کی بے وفائیوں سے بھی آگے بہت وسیع دنیا ہے جن پر آپ اپنی خیالات کا اظہار کر سکتے ہو.
اوپر سے آجکل کے نوجوان شعرا اسٹوڈیو جاکے کھوار ادب کا جنازہ نکالتے ہیں.پتہ نہیں یہ بھی سوچتے ہونگے کہ ہم بھی کھوار ادب کو پروموٹ کر رہے ہیں یا اسمیں کچھ نئی چیزیں ایڈ کر رہے ہیں تو آپ بالکل غلط ہیں.ایسا ہرگز نہیں.
آپ کی بے تکی شاعری کھوار ادب کے ساتھ مزاق ہے.
شاعری خداداد صلاحیت ہے یہ اکتسابی عمل نہیں بلکہ شاعر پیدا ہوتا ہے.شاعری قوت متخیلہ کا نام ہے جس کے سہارے شاعر مختلف موضوعات پر اپنی رائے کا اظہار کر سکتا ہے.
شاعری کی دنیا بہت وسیع ہے .یہ وہ سمندر ہے جسمیں غوطہ زن ہوکر خوش قسمت ہی شاعر بن سکتا ہے ورنہ بہت سے ایسے شعرا بھی ہے جو شاعر بنے کی آرزو کے باجود بھی اپنی ساکھ نہ بچا سکے.
کھوار شاعری کسی بھی زبان کے شعری ادب سے مقابلہ کر سکتی ہے ۔ماضی بعید اور ماضی قریب کے علاؤہ دور حاضر میں بھی کھوار کے مایہ ناز شاعر اس ادب کی آبیاری میں کوشاں ہیں.
لیکن حالیہ برسوں میں کچھ ایسے شاعروں کی انجمن بنی ہےجو گلگت،یاسین اور پشاور کے نام۔نہاد تجارتی سٹوڈیوز جاکر شاعری کرتے ہیں اور وہاں سے ہی اسکو چمک کے سہارے اوزار کی صورت میں سامنے لاتے ہیں.جو کسی بھی صورت میں ادبب بروئے زندگی کہلانے کا حق نہیں رکھتے.
ان شاعروں اور سٹوڈیوز مالکان نے تو کھوار اور شینا کلچر کی بنیادوں کو مہر کر رکھا ہے. یہ شاعری تو نہیں البتہ بہ زور بننے والے شعرا کی شہرت حاصل کرنے اور شاعر کہلانے کا شوق شاید پورا ہو.
بقول شاعر
شاعری میں میر و غالب کے زمانے اب کہاں
شہرتیں جب اتنی سستی ہو ادب دیکھے گا کون.

شاعر حساس طبیعت کا مالک ہوتا ہے اور اسکے محسوسات کی گہرائی اسکے الفاظ میں ظاہر ہوتی ہے۔ آپکی یہ بات درست ہے کہ کوئی اپنے زور پر شاعر نہیں بن سکتا جب تک اس میں قدرتی شاعرانہ صلاحیت نہ ہو۔ اگر عام بے حس آدمی شاعر بننا چاہے تو وہ شاعر نہیں بن سکتا البتہ تک بندی اور قافیے ملا سکے گا۔
چترال میں ہلکی شاعری کی جاتی ہے اور ہلکی رنگین اور شوخ باتوں کو سراہا جاتا ہے۔ اگر چترالی شاعری میں تصوّف اور فلسفہ بیان کیا جائے تو اسکو بالکل نہیں پسند کیا جاتا۔ یہ اس زبان اور علاقے کے لوگوں کے مزاج کی عکّاسی کرتا ہے۔
بجا فرمایا سر۔حوصلہ افزائی کیلیے شکریہ۔
Aurangzeb shahzad sahib ap nay belkul burning issue ko highlight keya hai or mufasal or jaame tehrer hai…. is may ik chez ko add karna lazem tha woh ye k Baqawlai “Gul Akbar” k machani poet ki wajah he to hai woh apnay paisai k lai har us gazal ko gaa latai hai jis may koi sense banta he nahi
Thank u for reading and sharing ur precious ideas.
I can not leave such words that can make sense as gesture towards someone. My colleagues can be offended when they read my words. Because they are too in this field with their nonsense notions. Their words only violate reputed persons’ reputation and status in society, and nothing else.
Lastly, I just want to say, “AGREED” .
You have highlighted most imoprtant issue. I agree with your words, but strongly your thoughts, and opinions. Positive, and strong thinking is also God gifted. As you have mentioned about poetry. Plato says” Poets are respected, but poetry should be banished from the real state” even he said about good poetry, because poetry drags people toward fictitious world, specially teenagers. Unfortunately our poets are not writing poetry they are just in race making albums, and followers in utube. Poetry should make sense, practicality, positive waves, and about strong goals. So we can truely educate our younger’s through our poetry, and writing. Because writing, writing poetry are the best sources to convey messages to people, and specially to youngers. Now it depends on those who trigger their pens.
Well worded dear.