Markets closed as traders join countrywide protest

CHITRAL/BOONI: Traders in Booni and Chitral on Saturday joined the countrywide protest against government decision to get commercial activity documented and increase general sales tax in the budget 2019-20 by observing a shutter-down.

The bazaars in Chitral town and Booni are completely closed on the call given by the traders’ association of KP.

In Booni, thee traders also held a walk in the bazaar and later gathered at the Booni Chowk. Addressing the gathering, the speakers rejected the sales tax announced by the government in the budget.

The traders said due to the unjustified taxes, prices of each and every item had gone up and broken the back of the common man.

The speakers, Rahim Khan, Muhammad Shafi, social worker Rehmat Salam, Mukhtar Lal, Zahiruddin Babar and others called upon the government to withdraw the sales tax otherwise the protest would be extended.–Karim Ullah

One Reply to “Markets closed as traders join countrywide protest”

  1. آج ہونے والی ہڑتال کیوں ہو رہی ہے؟
    آج تاجر ہڑتال کیوں کر رہے ہیں یہ جاننا بہت ضروری ہے
    آج سے پہلے جب ہم اپنے گھر کے لیے کوئی اے سی یا فریج کی خریداری کرتے تھے تو دوکاندار اسکا جو مرضی ریٹ بتاتا اور لیتا تھا ان چیزوں پر کسی جگہ کوئی ریٹ نہیں لکھا ہوتا تھا۔ جب کے پوری دنیا میں ایسا نہیں ہوتا- اب گورنمنٹ کی نئے فنانس بل 2019 کے تحت ہر پراڈکٹ پر ریٹ اور سیل ٹیکس لکھا ہوگا جیسا کے چائے، صابن پر لکھا ہوتا ہے۔ اس طرح ریٹ لکھے ہونے سے پرائس کنٹرول ہو پائے گا اور ناجائز منافع خوری کا بھی خاتمہ ہوگا۔ اب تاجر کو یہ مسئلہ ہے کہ ہمارا منافع اب لمیٹیڈ ہو جائے گا کیونکہ ہر پراڈکٹ پر پرائس اب لکھا ہو گا اور خریدار اِس لکھے ہوئے ریٹ سے زیادہ نہیں دے گا۔
    دوسرا مسئلہ ہے ٹیکس کا جو کے بتایا جا رہا ہے کہ دکاندار پر ایکسٹرا ٹیکس لگا دیا ہے تو ایسا نہیں ہے بلکہ پہلے دکاندار جب کمپنی سے کچھ منگواتا تھا تو وہ سارا سٹاک اپنے نام پر نہیں منگواتا تھا بلکہ کچھ اپنے بھائی کچھ اپنے ملازم کے نام پر منگواتا تھا جس سے وہ ٹیکس کی چوری کرتا تھا اب گورنمنٹ نے تمام کمپنیوں کو پابند کیا کے کے آپ کسی کو بھی سٹاک دو گے تو شناختی کارڈ پر یا این ٹی این پر دو گے تاکہ گورنمنٹ کو پتا چل سکے کے سٹاک کس دوکاندار کو جا ریا ہے اب بے شک کوئی بھائی کا شناختی کارڈ استمعال کرے یا ملازم کا اسکا رکارڈ موجود ہوگا اور اس سے ٹیکس وصول کیا جائے گا۔
    ہمیں چوری کی عادت پڑ چکی ہے اب ہمیں ٹھیک کام بھی غلط لگتا ہے ہمیں اپنے رویوں میں تبدیلی لانی چاہیئے جس طرح دنیا چل رہی ہے ہمیں بھی ویسے چلنا ہوگا ورنہ ہم بہت پہچھے رہ جایئں گے۔اللہ ہمارے ملک پر رحم کرے۔آمین

Leave a Reply

Your email address will not be published.