ڈپٹی کمشنر کا ظلم

آج سے چھبیس سال پہلے پرکوسپ سب ڈویژن مستوج چترال سے تعلق رکھنے والا شمس الدین روزگار کی تلاش میں پشاور آیا اور قصہ بازار میں موجود ایک چترالی بھائی کی سفارش پر مہمند ہاوس واقع مہمند ایجنسی موجودہ ضلع مہمند میں چپڑاسی کی عارضی ملازمت ملی اور اس وقت سے لیکر آج تک وہ عارضی ملازمت کرتا رہا۔ اس بات سے ہم سب اگاہ ہیں کہ پچیس سال کی نوکری کے بعد بندے کو پینشن دیکر فارغ کیا جاتا ہے مگر عارضی ملازمین کے ساتھ یہ ظلم اکثر ہوتا آیا ہے کہ انہیں بےغیر کسی ریورڈ کے فارغ کیا جاتا ہے مگر چترال کے ان مظلوم باسیوں کے ساتھ وہ ظلم ہوا جو میرے حساب سے کربلا کے بعد کا سب سے دلخراش واقع ہے۔

ہوا یوں کہ گذشتہ بکرا عید کے دوسرے روز مہمند ہاوس میں مقیم ڈپٹی کمشنر مہمند محمد واصف سید کی والدہ محترمہ نے رات کے بارہ بجے گھر کے ملازمین کو بلا کر حکم دیا کہ کل صبح ہم نے سیر و تفریح  کی غرض سے بلانغار زیارت جانا ہے تم لوگ کل کے لئے بروسٹ، چپلی کباب اور کھانا تیار کرو۔ اس بے بعد دن بھر کام کرکے آرام کی غرض سےلیٹے ہوئے یہ مزدور دوبارہ اٹھ گئے اور کھانا بنانا شروع کئے اور جو مصالحہ جات موجود تھے اُس  حساب سے انہوں نے بروسٹ، چپلی کباب اور سالن تیار کئے اور صبح کے لئے ناشتہ بنانا شروع کئے۔ ناشتے کے بعد صاجب لوگ سفر پہ روانہ ہوئے اور شام کو ڈپٹی کمشنر دوستوں کے ساتھ وہاں رکھ گئے اور ان کی والدہ واپس مہمند ہاوس آئی اور اسی وقت ملازمین کو بلا کر کہا کہ تم لوگوں نے کھانا کم کیون بنائے تھے اور ملازمین نے موقف اپنائے کہ میڈم ہم لوگ کیا کریں جو کچھ موجود تھا ہم نے بنائے تھے۔  چکن موجود نہیں تھے اسلئے چکن بروسٹ نہ بنا سکے۔ ہم نے سارا دن اور ساری رات بلکل بھی آرام نہیں کئے تھے۔ اس کے بعد محترمہ طیش میں آئی کہ ملازمین اسے جواب کیسے دیئے اور فورا حکم دئیے کہ تم لوگ اسی وقت نوکری سے نکل جا ئو اور گارڈ کو بلا کر دونوں ملازمین کو گھر سے باہر کر دیا، (دوسرا ملازم سردار تھا جو چنار مستوج کا رہائشی ہےاور پچھلے بیس سالوں سے وہ بھی اسی جگہ ملازم تھا) اور فون پر اپنے بیٹے یعنی ڈپٹی کمشنر کو بتایا کہ دونوں ملازمین کو فارغ کیا ہے تو کمشنر کو اور غضہ آیا کہ ان کی یہ مجال کہ میری ماں کو جواب دئیے۔ انہوں نے اپنے گارڈ اور اسٹینو کو فون کیا کہ کالونی میں جا کر ان ملازمین کو ابھی اسی وقت گھروں سے باہر نکالو اور چابی قبضے میں لیکر گھر خالی کروا لو۔ پھر کیا کہ مزدور خدا سے دور والی وہ بات سچ بن کر ان غریبوں پر آپڑا اور اسی شام بال بچوں کو باہر روڈ میں بیٹھا کر گھر خالی کرنا  شروع کئے اور اس رات وہ دربدر ہو کر خواتین اور بچوں کو لیکر مہمند ہاوس کے سامنے روڈ میں گزارے اور صبح سرار اپنے بال بچوں کو لیکر چترال روانہ ہوئے اور بیٹے کی بے روزگاری کا صدمہ برداشت نہ کرتے ہوئے دیر کے مقام پر سردار کا والد انتقال کرگئے۔ شمس الدین وہاں کرایے کی مکان میں شفٹ ہوئے کیونکہ ان کی زوجہ محترمہ وہاں کی سرکاری سکول میں استانی تھی اور سرکاری کالونی میں جو مکان ملی تھی وہ اسی خاتون کے نام پر ملی تھی۔

اس کے بعد ڈپٹی کمشنر کا غصہ ٹھنڈا نہیں ہوا اور وہ شمس الدین کی بیوی کا تبادلہ دانش گل کے مقام پر کروایا جو مہمند کا آخری بارڈر ہے اور اس وقت شمس الدین کے چار بچے ہیں جو وہاں سکول میں پڑھ رہے تھے اب باپ کو نوکری سے نکالا گیا، ماں کو بارڈ ایرئے میں ٹرانسفر کیا گیا۔ اب وہ بچے سکول سے فارغ ہوگئے ہیں انہیں اب یہ ڈر ہو گیا ہے کہ ڈپٹی کمشنر مزید ان کے ساتھ کیا کچھ  اور کرے گا۔ دوسری طرف سردار اپنے چھ بچون کو لیکر چترال شفٹ ہو چکا ہے اور ان کے بچون کا سکول لائف بھی کس قدر متاثر ہوا یہ تو بچے والے لوگ ہی بہتر جانتے ہوگے۔اس سے پہلے بھی موڑکہو سے تعلق رکھنے والا امیر علی نام کے شخص کے اس دفتر سے ایک پلٹ سبزی کی وجہ سے فارغ کیا گیا تھا۔

اب ہم چیف سیکریٹری خیبرپختونخوا، کمشنر پشاور ڈویژن اور وزیر اعلی کےپی سے گذارش کرتے ہیں کہ وہ  اس ظلم کا فوری نوٹس لیکر مظلوموں کو انصاف دلا دیں اور آئندہ اس طرح کے واقعات کی روکتھام کے لئے اقدامات کریں تاکہ انسانیت کی تذلیل بند ہو۔ امید ہے ہر شخص یہ کوشش کرے گا کہ وہ اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شئیر کرے تاکہ حکام بالا تک بات پہنچ سکے۔  

One Reply to “ڈپٹی کمشنر کا ظلم”

  1. Ye hai PTI government ka haal. The PTI government, in principle, should resign over such a breach of human rights perpetrated by a DC. Is it insaaf????

Comments are closed.