میرزہ امین قریشی

داد بیداد

ڈاکٹرعنا یت اللہ فیضی

چترال کی تاریخ میں بہت سے کردار ایسے ہیں جن پر کچھ نہیں لکھا گیا۔ ایسے مظلوم کرداروں میں ایک نام میر زہ امین قریشی کا ہے۔ ریکارڈ میں کئی حوالوں سے ان کا ذکر مل جاتا ہے۔ سب سے معتبر حوالہ یہ ہے کہ 1911ء میں حج کے سفر پر گئے اور مکہ مکرمہ میں وفات پا کر جنت المُعّلیٰ میں عالم اسلام کی نمایاں ہستیوں کے پہلو میں مدفون ہونے کی سعادت پائی۔ دوسرا حوالہ یہ ہے کہ وفات کی تاریخ تک وہ ریاستی نظم و نسق میں مستوج کے انتظامی عہدیدار یعنی چار ویلو تھے۔ تیسرا حوالہ یہ ہے کہ 1895ء میں جب اعلیٰ حضرت شجاع الملک کے ساتھ ان کے مقربین اور برٹش افسران کو قلعہ چترال میں 46 دنوں تک محصور کیا گیا تو میر زہ امین قریشی بھی محصورین میں شامل تھے۔

میرزہ اور چار ویلو دونوں ترک زبان کے الفاظ ہیں۔ چترال کی ریاستی نظم و نسق میں جو تعلیم یافتہ شخص دفتری امور انجام دیتا تھا، اُسے میر زہ کہتے تھے اور جو معتبر شخص محدود علاقے میں انتظامی امور، محاصل کی جمع آوری، مہمان داری وغیرہ کا ذمہ دار ہوتا تھا، اُسے چار ویلو کہتے تھے۔ دونوں عہدے عزت اور وقار کی علامت سمجھے جاتے تھے۔ میر زہ امین کا خاندان اس لحاظ سے قابل ذکر ہے کہ ان کے جد امجد شاہ حیدر قریشی اٹھارویں صدی میں افغانستان کے علاقے بشگال سے ترک وطن کر کے چترال آئے۔ وہ غیر مسلم قبیلے سے تعلق رکھتے تھے۔ یہ قبیلہ ساتویں صدی عیسوی میں عرب سے ترک وطن کر کے ماوراء النہر آیا۔ 100 سال خراسان کے مختلف علاقوں میں گزارنے کے بعد پھر سے تخت سفر باندھا اور افغانستان آکر بشگال میں آباد ہوا تھا۔

اس قبیلے کی بعض شاخیں شمالی ہندوستان کے پہاڑی علاقوں مثلاً تانگیر، دیا مر، کوہستان میں بھی آباد ہوئیں۔ اٹھارھویں صدی میں خوش وقت خاندان سے تعلق رکھنے والا شاہ فرامردی سین سے چترال تک پوری ریاست کا حکمران تھا۔ اُس نے مغرب میں بشگال کی وادیوں پر کئی حملے کیے۔ ان میں سے ایک حملے میں چغہ سرائے تک کا علاقہ فتح کیا۔ اُس مہم میں غیر مسلموں کے کئی سرکردہ لوگ چترال آئے۔ میر زہ امین کا جد امجد جو کہ برگہ مٹال کے قریشی قبیلے کی جناداری شاہ سے تعلق رکھتا تھا، ان میں شامل تھا۔ اسلام قبول کرنے سے پہلے ان کا کیا نام تھا، یہ ریکارڈ میں نہیں۔ قبول اسلام کے بعد ان کا نام شاہ حیدر قریشی رکھا گیا۔ شاہ فرامرد نے ان کو مذہبی تعلیم کے لیے ایک ترکستانی کارواں کے ساتھ بخارا بھیج دیا۔ حصول علم کے بعد ملا، دانشمند یا دشمن کا لقب لے کر واپس آئے۔ ان کو موجودہ اپر چترال کے قدیمی گاؤں سنوغر میں جاگیر ملی۔ وہاں انہوں نے مسجد کی امامت اور خطابت سنبھالی۔ تعلیم، تعلم اور درس و تدریس کا سلسلہ شروع کیا۔ اس وجہ سے ان کا محلہ دشمنان دور کے نام سے آج بھی شہرت رکھتا ہے۔

میرزہ امین قریشی کا نام شاہ حیدر قریشی کی پانچویں پشت میں آتا ہے۔ انہوں نے فارسی کی واجبی تعلیم حاصل کی تھی اور ریاستی حکمران کے ہاں میر زہ کے نام سے اعتبار اور عہدہ رکھتے تھے۔ ان کا زمانہ انیسویں صدی کا نصف آخر 1860ء کے بعد کا دور تھا۔ 1876ء میں پہلا انگریز مشن کرنل لو کہاٹ کی سربراہی میں امان الملک سے ملاقات کے لیے گلگت اور شندور کے راستے چترال آیا۔ 1885ء میں دونوں کے درمیان دفاعی معاہدہ ہوا۔ 10 سال بعد 1895ء میں جندول کے عمرا خان نے چترال پر حملہ کیا تو دفاعی معاہدے کے تحت انگریزوں نے فوجی کمک بھیجی۔ پہلے سے چترال میں موجود انگریزوں کے ساتھ کمسن مہتر چترال شجاع الملک کو عمرا خان کے لشکر نے قلعے میں محصور کیا۔ محصورین سب کے سب اہم مناصب پر فائز تھے۔ میرزہ امین قریشی بھی ان میں نمایاں تھا۔ ان کی خدمات کے اعتراف میں 1897ء میں میر زہ امین قریشی کو مستوج کے پرگنے کا چارویلو مقرر کیا گیا۔ اس بنا پر وہ میر زہ چارویلو کے لقب سے بھی مشہور ہوا۔

شاہ حیدر قریشی کا خاندان سنوغر، پرواک، مستوج اور چوئینج میں آباد ہے۔ میرزہ چارویلو نے چوئینج میں اشکون لشٹ نامی بنجر اراضی کو نہر کشی کے ذریعے آباد کیا جس کو چارویلی نہر کہتے ہیں۔ اس کے علاوہ پرواک نہر کی تعمیر بھی ان کے عہد چارویلی میں ہوئی۔ 1911ء میں حج بیت اللہ کی سعادت حاصل کی اور مکہ مکرمہ میں وفات پائی۔ جنت المعلیٰ میں ان کی تدفین ہوئی۔ حکومت نے چارویلو کا عہدہ ان کے کمسن بیٹے عبد العزیز کو دے کر ان کے چچا شکری آمین ٹھیکہ دار کو تحریری طور پر ریکارڈ میں ان کا سرپرست مقرر کیا تاکہ انتظامی امور میں سہولت ہو۔

شاہ حیدر قریشی کے خاندان میں کئی نامور لوگ پیدا ہوئے جنہوں نے قابل ذکر خدمات انجام دیں۔ مولانا شاہ حیدر قریشی، دیوان بیگی شاہ فقیر علی قریشی، جمشید علی، فیض امین، شکری آمین المعروف ٹھیکہ دار، میرزہ دولت امین، سر فراز الامین، حبیب الامین، صاحب گار الامین، سلیم زارلامین، دیوان بیگی عبد العزیز، میر زہ عزیز اور عبد القیوم اس خاندان کے چنے ہوئے لوگ تھے۔ شاہ حیدر قریشی سے لے کر 4 سالہ شاہ زیب احمد قریشی تک دسویں پُشت چل رہی ہے۔ شجرہ نسب یہ ہے: شاہ زیب احمد بن امین احمد بن نادر عزیز بن مرزا عزیز بن عبد العزیز بن میر زہ امین چارویلو بن عبد المومن بن شاہ محمد عالم بن شاہ آدمین بن شاہ غلام حیدر بن مولانا شاہ حیدر قریشی۔ اگرچہ شاہ فرامرد کے عہد کا ابھی تک درست تعین نہیں ہوا، مرزا محمد غفران کی فارسی تاریخ مطبوعہ 1921 میں ان کی وفات کا سال 1171ہجری یعنی 1757 یا 1758 عیسوی لکھا گیا ہے، جبکہ غلام مرتضیٰ کی نئی تاریخ چترال اردو مطبوعہ 1962 میں ان کی حکومت کا دور 1717 سے 1724 تک آیا ہے۔ تاہم دونوں صورتوں میں 10 پُشتوں کا شجرہ علم الانساب کی رو سے درست آتا ہے۔

میرزہ امین قریشی کے تین بیٹے اور چار بیٹیاں تھیں۔ عبد العزیز کو جوئنج کی جاگیر ملی، خلیفہ راشدڑاکھپ میں آباد ہوا، جبکہ عبد القیوم کو سنوغر پرواک کی جائیداد ملی۔ بیٹیوں میں سے ایک بیٹی موڑ کھو میں اتالیق کے خاندان میں بیاہی گئی، ماہر تعلیم مکرم شاہ صاحب کی والدہ محترمہ تھیں۔ ایک بیٹی کوہ کے حاکم میر اعظم خسروہ کی اہلیہ تھیں، ایک بیٹی ہندراپ غذر میں بیاہی گئی، ایک بیٹی شگونان دور سنوغر میں فردوسی لال کی اہلیہ تھیں۔ موجودہ دور میں میر زہ امین قریشی کے خاندان میں سلطان عزیز، محمد افضل خان، افسر امین، نادر عزیز، سردار، محمد حکیم، حیدر احمد، اختر الامین، مولانا میر اعظم، نورالدین، اقبال افضل، عرب الامین، ناظم الدین، فرمان امین، جناح الامین، عبد الصمد خان، زبار خان، شیر غزیز خان، جمروز خان، صادق آمین، صاحب عزیز اور سیف العزیز زندگی کے مختلف شعبوں میں اہم خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ماہرین بشریات کے لیے مرزا امین قریشی کے جد امجد کی نقل مکانی اور قبول اسلام کے بعد محدود پہاڑی علاقے میں خاندان کی بود باش اور توسیع و ترقی دلچسپ مطالعہ ہے۔


Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest