شیر ولی خان اسیر
جب میں چھ سات سال کا بچہ تھا، تو چند بزرگوں سے میری ملاقات ہوا کرتی تھی، جب وہ میرے والد مرحوم لعل خان لال سے ملنے میرے گھر واقع چارغیری (موجودگی لعل آباد) تشریف لاتے تھے۔ کبھی رات بھی گزارتے اور ساری رات والد مرحوم کے ساتھ محو گفتگو رہا کرتے، ان کا سلسلٔ کبھی ٹوٹنے نہیں پاتا۔ ان میں دو شخصیات گزین یارخون کے بھی تھے۔ میرے والد بھی سال میں ایک مرتبہ ان کے ہاں ضرور جاتے اور تین چار دن گزار کر واپس آتے۔ یہ بزرگ میرے والد کے دوست تھے۔ ایک بھائی کا نام حاجی خان، دوسرا میتار نام سے معروف، جب کہ تیسرا حاصل جمعدار کے نام سے مشہور تھے۔ بڑے پیارے لوگ تھے۔ حاصل جمعدار مرحوم علاقے کی سیاسی یا سماجی سرگرمیوں میں علاقے کے معتبرات کے ساتھ موجود ہوا کرتے۔ زیرک انسان تھے۔ ژوپو کے طاؤس بائے، پاور کے نوغور دارو لال اقبال دار، حاکم جان، براموݰ گل خان نظار، فراز ممبر دیوسیر، میراگرام کے خوش لال، مکھی ژنویار خان، بانگ کے امیر مراد خان، میرے والد لعل خان لال، بریپ کے خان جمعدار اور شاہ حسین جیسی شخصیات کے ساتھ انہیں دیکھتے رہے ہیں۔ دبنگ قسم کے لیڈر تھے۔ وقت گزرتا گیا۔ یہ بزرگ ایک ایک ہو کر دنیا سے رخصت ہوگئے، مگر ان کی میٹھی یادیں اور علاقے کے لیے ان کی بے لوث خدمات باقی رہیں۔ اللہ تعالٰی انہیں غریق رحمت کرے!
گزین نام کی یہ ذیلی وادی زیرین یارخون کے شمال مشرق میں واقع ہے۔ گزین اور غذر کے درمیان واقع یہ درہ تھوئی کہلاتا ہے اور زمانہ قدیم سے یارخون اور غذر کے درمیان رابطے کا واحد راستہ ہے۔ آج بھی یہ درہ گرمیوں میں آٹھ نو مہینے پیدل اور گھوڑے پر آمد و رفت کے لیے کھلا رہتا ہے۔ گزین ایک خوبصورت اور صحت افزاء مقام ہے۔ یہاں کے بید کے درخت قابل دید ہیں، جن کی موٹائی دس سے پندرہ فٹ ہوسکتی ہے۔ یہاں کے لوگ مہمان نواز ہیں۔ مجھے 1961 کے موسم گرما میں پہلی دفعہ یہاں سے گزرنا یاد ہے، جب میں گرمی کی چھٹیوں کے لیے پرکوسپ سے چارغیری جا رہا تھا۔ ان دنوں یارخون کے مشرقی اور مغربی حصوں کو جوڑنے والا واحد پل گزین کے نچھاغ میں تھا، جب کہ بریپ اور دیوسیر کے مقام پر پل دریا برد ہو چکے تھے۔ میرے ساتھ میرے چچا مرحوم میر صاحب خان تھے۔ ہم نچھاغ پل اور دربند پل سے گزر کر ڈیڑھ دن پیدل سفر کرکے چارغیری پہنچے تھے۔
ایک دن جب میرے چھوٹے بھائی رحمت ولی خان نے بتایا کہ وہ اپنے بیٹے فہیم الله خان کے لیے گزین کے مذکورہ خاندان کے نامور فرزند غازی اکبر خان ابن حاصل جمعدار کی بیٹی کا رشتہ مانگنے کی خواہش رکھتے ہیں اور میری رائے پوچھی، تو یہ خبر میرے لیے انتہائی مسرت بخش لگی۔ میں نے اس پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے بلا تأمل کہا، بھائی! وہ لوگ ہمارے والد کے دوستوں کی اولاد ہیں۔ اگر ان کے ساتھ ہمارا رشتہ جڑتا ہے، تو بلا جھجک بسم اللہ کریں، بلکہ میرے حوالے سے غازی اکبر صاحب اور بھائیوں کو پیغام پہنچائیں کہ ہم اپنے والد اور ان کے مرحوم دوستوں کی دوستی کی تجدید رشتے کے ذریعے چاہتے ہیں۔ یہ پیغام ہمارے ایک عزیز بھتیجے قاری شریف کے ذریعے ان تک پہنچائی گئی۔ انہوں نے بھی اسی پیار محبت کے ساتھ مثبت جواب دیا۔
8 اکتوبر کی صبح میں اور میری بیگم صاحبہ، اپنے بھائیوں رحمت عزیز خان، فیض رحمت خان، رحمت ولی خان اور اقبال نادر خان، بیٹوں عطاء اللہ خان، زاہداللہ خان، مجید اللہ خان، مختار احمد خان، ارذین خان اور بھانجوں اور عزیزوں میر بائز خان، اسداللہ خان، بشیر اللہ خان، منظور علی، سعید خان اور مسرور کے ساتھ منگنی کی رسم ادا کرنے اور ان کا شکریہ ادا کرنے گزین پہنچ گئے۔ سڑک کی حالت اچھی نہیں تھی۔ گزین اور نچھاغ کو ملانے والا پل سیلاب برد ہوکر ناقابل استعمال ہوچکا ہے، اور گول کے اوپر عوام کی اپنی مدد آپ کے ذریعے بنا پل خطرے سے خالی نہیں ہے۔ سرکار ویسے بھی ہمیں کبھی کا بھول چکی ہے، اور علاقہ نمائیندگی سے محروم ہے۔
جب ہم غازی بھائی کے گھر پہنچے، تو خاندان اور گاؤں کے کے سینکڑوں عزیز و اقارب اور معززین نے غازی اکبر، بہرام خان، ماسٹر میر عزیز، صوبیدار گل اعظم، حاجی امیر اکبر، الواعظ شیر افضل کے ساتھ ہمارا پرتپاک استقبال کیا اور بڑی عزت افزائی کا مظاہرہ کیا۔ میں نے ان الفاظ کے ساتھ ان کا شکریہ ادا کیا کہ بھائیو! اتنی شاندار عزت افزائی بھی نہ کریں کہ ہم واپس جانا ہی بھول جائیں۔ اس بے مروت دور میں، جہاں پیار محبت مل جائے اور جو دنیا کے شور شرابہ سے دور ہو، وہ جنت کی مماثل جگہہ ہوتی ہے۔ ویسے بھی ہمارا قافلہ اس دور کے بیٹے بیٹیوں کی بدولت بہت بڑا ہوگیا ہے، بچوں پر ہمارا کنٹرول ڈھیلا پڑ گیا ہے۔ آپ اس کو والدین کا پیار کہہ دیں یا بچوں کی ضد، ایک برابر ہے۔ ماضی میں منگنی اور شادی پر بارات میں اتنے ہجوم کا تصور بھی نہیں تھا۔ لڑکے کے خاندان کے چند بزرگ منگنی کی رسم ادا کیا کرتے تھے، جب کہ آج دودھ پیتا بچہ بھی شامل قافلہ ہو جاتا ہے، اور بزرگ لوگ ان کو منع نہیں کر سکتے۔ یوں ہماری ثقافت کی شکل و صورت یکسر بدل گئی ہے۔
بہر حال، اس خاندان کے بزرگ بھی اپنے زمانے کے انتہائی مہمان نواز لوگ تھے، اور ان کی اولاد نے اپنے خاندان کی روایت برقرار رکھی ہے۔ آج میرے والد کے دوستوں کے فرزندان کے ساتھ ہمارے رشتے کی تجدید ہوگئی، جو میرے لیے انتہائی خوشی کا مقام ہے، کیونکہ اچھی اولاد اپنے بزرگوں کے رشتے اور تعلقات کو زندہ رکھتی ہیں۔ یہ اللہ کا کرم ہے کہ اس نے یہ خوبصورت موقع فراہم کیا۔ ہماری دعاء ہے کہ اللہ تعالٰی اس رشتے کو سلامت رکھے! آمین ثم آمین!
اور ہاں! شکر نعمت بھول ہی گیا۔ غازی اکبر خان بھائی نے بہترین ضیافت کا انتظام کیا ہوا تھا، جس میں کسی بھی دیسی بدیسی خوراک کی کمی نہ تھی۔ ایک عرصے بعد یارخون کی اصلی دیہی، پنیری موٹی روٹی (شپھینک ٹیکی) اور خاص کر کے “پرش رندیݱو”، یعنی بکرے کی پسلیوں کی مقامی باربکئیو، کھانے کا موقع ملا تھا، کیونکہ ہم چترال والے اپنے روایتی کھانے بھولتے جا رہے ہیں۔ غازی اکبر صاحب کے ہاں ان کی موجودگی اس خاندان کی اپنی ثقافت کو سینے سے لگا رکھنے کی خوبصورت مثال ہے۔ ہمارے دوست ڈاکٹر فیضی کا کہنا ہے کہ اسیر اپنے سفر نامے میں کھانے پینے تک کی تفصیل لکھ ڈالتا ہے۔ میں کہتا ہوں کہ بھائی! ہمارا اس دنیا میں رہنے کا ایک آہم مقصد پیٹ پوجا ہی تو ہے۔
غازی بھائی، ان روایتی نعمتیں اور بکرے کے گوشت کی بریانی کھلانے کے بعد، جب مجھ سے پوچھا، “تازہ تازہ سیب کھائیں گے یا تربوز؟” یہ میرے لیے اچھنبے کی بات تھی کہ گزین وادی کے نچھاغ گاؤں میں تربوز کی مقامی پیداوار کے بارے سننا بہت عجیب لگا۔ میں نے کہا، بھائی! سیب میرے اپنے باغ میں موجود ہیں، ہمیں نچھاغ کا تربوز کھلائیں۔ انہوں نے جو تربوز دسترخوان پر سجا دیا، وہ حیران کن حد تک میٹھا تھا۔ میں نے مان لیا کہ غازی بھائی درست معنوں میں بہترین زمیندار بھی ہیں کہ انہوں نے 9 ہزار فٹ کی بلندی پر تربوز کی کاشت کو کامیاب بنایا ہے، اور مہمان نوازی میں اپنے بزرگوں کی روایت کو زندہ رکھا ہے۔ غازی بھائی! آپ کا بہت بہت شکریہ!

