Javed Hayat Chitral Today

سراج صاحب مرحوم — مہکتا گلاب

دھڑکنوں کی زبان

محمد جاوید حیات

کبھی کبھار زندگی اپنے عارضی اور فانی ہونے کا ایسا یقین دلاتی ہے کہ انسان تھک ہار کر سراپا فریاد بن جاتا ہے۔ زندگی کا عارضی پن اس وقت درد دیتا ہے جب کسی اپنے کو، پیارے کو، تم سے چھین کر لے جاتی ہے۔ابو نے ایک بار سوال پوچھا تھا:بیٹا! تجھے اپنا بوڑھا ہونے کا احساس کب ستائے گا؟ میں نے کہا تھا: ابو! داڑھی میں چاندنی آئے گی اور ستائے گی۔تبسم فرما کر کہا تھا: نہیں۔ زندگی میں ایک مرحلہ ایسا آئے گا کہ تیرا کوئی ہم عمر جگری یار دنیا چھوڑ جائے گا، تو اس وقت تو دردناک اکیلا پن محسوس کرو گے۔ یہ تمہارا بوڑھاپن ہوگا۔

ابو نے سچ کہا تھا۔ ایک سے ایک جگری یار رخصت ہو رہے ہیں۔ سراج صاحب لنگھوٹیا تھے۔ ان کے ساتھ قدرے بے تکلفی اور احترام کا رشتہ رہا۔ عمر میں کبھی سینئر، کبھی جونیئر رہے۔ کالج میں سینئر، چترال پبلک سکول میں جونیئر، عہدے میں سینئر اور پھر عمرِ کوتاہ کے ہاتھوں جونیئر ہو گئے۔ ان کی بھرپور زندگی نے پلٹا کھایا۔ عروج کو عروج کے ہاتھوں شکست ہوئی۔

چترال پبلک سکول میں ہم دونوں جوان ہوا کرتے تھے، مگر ان کی سنجیدگی کے سامنے میں سہم جاتا۔ وہ وقار اور متانت کی چٹان ہوا کرتے تھے۔ انہوں نے انگریزی ادب خوب پڑھا تھا۔ تبصرے ہوتے تو وہ زندگی کو ایک حسین ناٹک اور میں ناٹک کا سین کہا کرتا۔ بعد میں عملی زندگی میں ان کا ماننا تھا کہ میں درست کہہ رہا تھا۔ان کی زندگی جدوجہد کا مرقع تھی۔ مجھ کو نجی باتیں بتایا کرتے: یہ لو، گھر بنانے میں اتنی محنت کرنی پڑی؛ یہ لو، بچوں کی تربیت ایک آرٹ ہے؛ رشتے نبھانے میں معرکہ سر کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے زندگی کے سارے مرحلے جاندار اور شاندار طریقے سے گزارے۔

ہم کبھی اوپن یونیورسٹی کی پیشہ ورانہ ورک شاپ میں ساتھ ہوتے۔ پھر ایک مرحلہ آیا کہ اس نے مجھ سے کہا کہ ہم سے یہ ڈیوٹی کماحقہ ادا نہیں ہوتی۔ تب میں نے بھی ہاتھ کھینچ لیا۔ وہ بڑے پاکیزہ اور فکرمند واقع ہوئے تھے۔ ہر کام کو سنجیدگی سے لیتے، ڈیوٹی کو عبادت سمجھتے۔ان کو اپنے کام سے کام تھا۔ ایک کرشماتی شخصیت تھے، اس لیے سب ان سے متاثر تھے۔ جس نے بھی ان کا نام لیا، احترام سے لیا۔ وہ مدرسِ زندگی تھے، اپنے شاگردوں کی زندگی میں چراغ بن کر محفوظ تھے۔ سادہ مزاج اور بہت حساس تھے۔ اپنے آپ کو بیڑ باڑ سے محفوظ رکھے ہوئے تھے۔

انہوں نے اپنی زندگی قیمتی بنائی۔ نہ اپنا ایک منٹ ضائع کیا، نہ شاگردوں کی ایک ساعت گنوائی۔ اس لیے وہ سراپا عقیدت تھے۔ ان کے وصال کے بعد شاگردوں نے ان کے لیے الفاظ کا جو نذرانہ پیش کیا، رشک آیا کہ استاد کتنا عظیم ہوا کرتا ہے۔سراج صاحب میں انکساری بہت تھی۔ ہر ایک سے تپاک سے ملتے، احترام سے سنتے۔ شاگردوں سے پیار تھا۔ اسٹاف کا، کہتے ہیں، بڑا خیال رکھتے تھے۔ انہوں نے معلمی کا ثبوت انگریزی گرامر کی ایک معتبر کتاب لکھ کر دیا۔

ہم اساتذہ کی عادت ہے کہ اپنے علم میں اضافہ کرنے کا نہیں سوچتے، بس پاؤں پھیلا کر گھوڑا بھیج کر سوتے ہیں۔ سراج صاحب معلمی کا معیار تھے۔ باوفا تھے، یاری نبھانے میں صفِ اول میں ہوتے۔قرآنِ عظیم الشان کا گہرا مطالعہ تھا۔ عبادات اور معاملات کو یکساں اہمیت دیتے۔ شب خیز تھے۔ ان کی زبان اور ہاتھ سے ذرہ بھر بھی کسی کو تکلیف نہ تھی۔ یہ مومن کی حقیقی صفت ہے۔

سراج صاحب نے بھرپور زندگی گزاری۔ میرے لیے بھائی جیسے دوست تھے۔ مجھے لگتا تھا کہ ہمارے دل ساتھ دھڑکتے ہیں۔ مجھے شکوہ ہے، اس عظیم دل کی دھڑکنوں کو کیا ہوا؟میں ان کی کامیاب آپریشن کی خبر پڑھ کر سجدۂ شکر میں گرا تھا۔ پھر وصال کی جانکاہ خبر تھی۔ میں ان کی پروموشن پر انہیں تہنیت بھیجتا، پھر ریٹائرمنٹ پر ان کی خدمات پر لکھتا۔ابو نے کیا سچ کہا تھا۔ موت میں سراج صاحب پھر مجھ سے جونیئر ہو گئے۔ان کا کہنا تھا: زندگی ناٹک ہے۔میں نے کہا تھا: یہ ناٹک کا ایک سین ہے۔پھر کیا کیا سین دیکھنے کو ملتے ہیں۔پھول تھا، مرجھا گیا۔چاند تھا، غروب ہو گیا۔سورج تھا، ڈوب گیا۔

دنیا کے مراحل سے درانا گزرے۔ اللہ آخرت کے مراحل ان پر آسان کر دے۔آسمان تیری لحد پر شبنم افشانی کرےسبزۂ نو رستہ اس گھر کی نگہبانی کرےاللہ تیری قبر کو نور سے بھر دے۔ آمین۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest