شدید بارش کے باوجود لوگوں نے احتجاجی جلسے میں شرکت کی ۔ احتجاجی جلسے سے ضلع ناظم چترال حاجی مغفرت شاہ ، امیر جمعت اسلامی چترال مولانا جمشید احمد ، اسلامی جمیعت طلبہ کے مقصود الرحمن ، صدر تجار یونین حبیب حسین مغل او دیگر نے کہا کہ این ایچ اے دانستہ طور پر چترالی عوام پر ظلم ڈھا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ روز برف ہٹانے کے بعد بھی چترالی مسافروں کو ٹنل سے گزرنے کی اجازت نہیں دی اور ہزاروں مسافروں کو دیر کے ہوٹلوں ،مسجدوں اور گاڑیوں کے اندر راتیں گزارنے پر مجبور کیا گیا ۔ ضلع ناظم نے کہا کہ یہ نہایت افسوس کا مقام ہے کہ میں خود ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کا سربراہ ہونے کے باوجود آج عوام کے ساتھ مل کر احتجاج کررہاہوں ۔ کیونکہ این ایچ اے اور حکومت نے ضلعی حکومت کی تجاویز کو نظر انداز کیا اور عوام اُن کے غلط فیصلے کی وجہ سے مشکلات سے دوچار ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ چترال کے مسافروں کو لواری ٹنل میں مشکلات سے دوچار کرکے این ایچ اے حکام وزیر اعظم کے خلاف چترالی عوام کے دل میں پیدا شدہ مقام کو نفرت میں بدلنے کی مذموم کو شش کر رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ چترال کے لوگوں کو مزید مجبور نہ کیا جائے اور ان کی شرافت کا م ناجائز فائدہ نہ اُٹھایا جائے اگر سامبو کمپنی معاوضہ طلب کرتی ہے تو چترال کے لوگ چندہ جمع کرکے اُن کا معاوضہ ادا کریں گے لیکن عوام کی مزید تذلیل برداشت نہیں کی جائے گی ۔ امیر جماعت اسلامی مولانا جمشید نے ڈسٹرکٹ انتظامیہ دیر سے مطالبہ کیا کہ دیر میں پھنسے ہوئے مسافروں کو ہوٹل مالکان اور ڈرائیوروں نے جس انسانیت سوز طریقے سے لوٹا ہے اُن کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ مشکل میں گھیرے ہوئے چترالی مسافروں کے ساتھ انسانیت سوز سلوک قابل مذمت ہے ۔ اس لئے دیر انتظامیہ ہوٹلوں کے ریٹ وغیرہ کو یقینی بنائے ۔ انہوں نے پشاور اڈہ والوں کے خلاف بھی کاروئی کا مطالبہ کیا جو اعلان کے باوجود مسافروں کو چترال بھیج کر اُنہیں مصیبت سے دوچار کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مذکورہ غیر ذمہ دارانہ اڈہ چلانے والوں کی لوگوں سے کوئی ہمدردی نہیں ۔ وہ مسافروں کو غلط معلومات فراہم کرکے پیسہ پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ اس موقع پر این ایچ اے کے خلاف زبردست نعرہ بازی کی گئی اور چترالی مسافروں پر این ایچ اے کے ظلم و ستم کی بھر پور مذمت کی گئی ۔ درین اثنا چترال میں بدھ کے روز بارش اور بالائی مقامات پر برفباری کا سلسلہ جاری رہا ۔ جبکہ گرم چشمہ روڈ پر تین مقامات پر برف کے تودے گرنے سے روڈ مکمل طور پر بند ہو چکاہے ۔ اور علاقے کا چترال شہر سے رابطہ کٹ گیا ہے ۔ نیشنل گرڈ کی بجلی بدستور بند ہے اور چترال شہر اندھیروں میں ڈوبا ہوا ہے ۔]]>


The helplessness of the clerics-dominated district government is quite evident. They have their own district, tehsil nazims, but even then no one is ready to resolve trivial issues like opening of the tunnel on their demand/request whatever. They JI-led district led district government has miserably to deliver. The MPA-trio, the lone-MNA have failed to facilitate the people.
Reject Jamat e Islami forever in next election. Don’t vote for the incumbent lot of MPs. Try good and honest people next time, because if a district is unable to meet the tiny NHA chairman, who has no right to lead the people. Does not matter how many protests or demonstrations you hold in Chitral bazar, it will not move the corrupt NHA officials sitting in Islamabad or Peshawar.
There is a need to change the leadership especially the district nazim. If I were member district council, I would have definitely other members to proceed with a no-confidence motion to deseat the district nazim. But in this incumbent district assembly, there is not a single member who could show some spine. Beware Chitralis next time as we had enough by voting for the Jamat e Islami guy!