Probe ordered against EDO education

CHITRAL, April 14: Director Education Muhammad Rafiq Khattak ordered an inquiry against District Education Officer (female) Zuhra Jalal for alleged favoritism and nepotism in the department. A delegation of PTI workers and female teachers met Rafiq Khattak and complained that some female teachers were promoted in December 2012 but the DEO issued adjustment order in November 2014. In July 2014, she issued general transfers, in August rationalization and then adjustment orders and violated merit. The teachers association and PTI workers complained that Zuhra Jalal posted two head teachers in one school illegally to favor her near and dear ones. They demanded the cancellation of the alleged illegal posting/transfer orders of rationalization and adjustment.—GH Farooqui

چترال(بشیر حسین آزاد) گذشتہ روز پاکستان تحریک انصاف ضلع چترال کا ایک ہنگامی اجلاس زیر صدارت اسرا ر الدین چیئر مین ایجوکیشن مانیٹرنگ ٹیم پاکستان تحریک انصاف ضلع چترال بمقام پی ٹی آئی آفیس چترال منعقد ہوا۔ ۔

اجلاس میں ڈی ای او فیمل ضلع چترال کازنانہ اساتذہ کے ساتھ نا انصافیوں پر بحث ہوا۔ اور خاص کر ان کی طرف سے 21 نومبر 2014 ؁ء کو جاری کی جانے والی ایڈ جسٹمنٹ آرڈر پر نہایت غم و غصے کا اظہار کیا گیا کہ موصوفہ نے2012 ؁ء میں ترقی پانے والے خواتین پرائمری اساتذہ کو 2 سال کے طویل عرصے کے بعد ایڈجسٹ کیا جو کہ پروموشن اورایڈجسمنٹ پالیسی کے بالکل خلاف ہے۔چاہیئے تو یہ تھا کہ ترقی پانے والے اساتذہ کو ان کے ترقی کے تاریخ سے سکولوں میں ایڈجسٹ کیا جا تا، تاکہ میرٹ کو بر قرار رکھنے میں آسانی ہوتی۔

اجلاس میں کہا گیا کہ ڈی ای او فیمل نے جان بوجھ کر ترقی پانے والے ٹیچر ز کو جولائی 2014 ؁ء میں مختلف اسٹیشنوں پر ٹرانسفر کرنے کے بعد نومبر2014 ؁ء میں دوبارہ ایڈ جسٹمنٹ آرڈر جا ری کرکے پالیسی کی دھجیاں بکھیر دی ہیں۔ جس کا اگر تر قی کے تاریخ سے ایڈ جسٹمنٹ آرڈر ہو تے تو وہ متاثر نہ ہوتیں۔لہذا قرار داد کے ذریعے محکمہ تعلیم کے با اختیار ذمہ داران سے مطالبہ کرتے ہیں کہ مذکورہ ڈی ای او (فیمل) ضلع چترال کو فوری ٹرانسفر کرکے ان کے دور میں جتنے بھی ٹرانسفر، تقرریاں ،ترقیاں اور ایڈجسٹمنٹ ہو ئے ہیں ان کا آزادانہ انکوائری کی جائے اور چترال کے خواتین اساتذہ کو مزید تکلیف اور پریشانیوں سے روکا جا ئے۔

]]>

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest