Villagers protest against water project

چترال(گل حماد فاروقی)چترال سے پچاس کلو میٹر درو علاقہ دروش میں جنجریت، ڈاپ، دامک اور اوسیک کے سینکڑوں لوگوں نے ایک احتجاجی جلسہ کیا جس کی صدارت تاجر یونین کے سابق صدر حاجی معظم خان نے کی۔

srspجلسہ سے خطا ب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ ان دیہات کے مکین پینے اور آبپاشی کیلئے جنجریت گول کا پانی سے استفادہ کرتے آرہے ہیں جس سے ان علاقوں کے زمین اور چترال سکاؤٹس کے باغات بمشکل سیراب ہوتے ہیں جنجریت گول سے جان فیملی کیلئے صرف پینے کی پانی لے جانے کی اجازت ہے مگر سرحد رورل سپورٹ پروگرام (ایس آر ایس پی) والے پندرہ لاکھ روپے کی لاگت سے جان فیملی کیلئے اسی نہر سے پحتہ نالہ بناکر زیادہ پانی لے جانے کی کوشش کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جان فیملی کیلئے زیادہ پانی لے جانے کے باعث ان علاقوں میں پانی کی شدید قلعت پیدا ہوگی۔اور اس نا انصافی کی بنیادی ذمہ دار علاقے کے با اثر اور اثر رسوح والے افراد کی پالیسی پر چلنے والے غیر سرکاری تنظیم ہوگی۔انہوں نے الزام لگایا کہ اس ادارے کے پاس غریبوں کیلئے تو کچھ بھی نہیں ہے مگر با اثر افراد کو نوازنے کیلئے لاکھوں روپے کا فنڈ فراہم کرتی ہے جس سے غریبوں کیلئے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ مقررین نے اعلےٰ حکام اور کمانڈنٹ چترال سکاؤٹس سے پرزور مطالبہ کیا کہ اس مسئلے کی شدت کو محسوس کرتے ہوئے اس نہر کی تعمیر کا کام فوری رکوائی جائے اور متعلقہ ادارے سے باز پرس کی جائے کہ وہ مقامی لوگوں کے اجازت اور مشاورت کے بغیر کیوں ایک با اثر خاندان کیلئے دوسروں کی نیند حرام کرتی ہے۔انہوں نے خبردار کیاکہ پانی کی ندی کی تعمیر اگر بند نہیں کرائی گئی تو اس علاقے کا پرامن ماحول حراب ہوسکتا ہے جس کی تمام تر ذمہ داری انتظامیہ اور SRSP پر عائد ہوگی۔ جلسہ میں ایک متفقہ قرارداد بھی منظور کی گئی جس کے تحت انہوں نے مطالبہ کیاکہ دامک لشٹ کے دو ہزار ایکڑ اراضی دریا کی کٹائی کی وجہ سے تباہ ہوگئے ہیں جسکی فوری روک تھام کی جائے۔ جنجریت گول نہر کی صفائی اور حفاظتی پشتوں کی عدم تعمیر کی وجہ سے دوسو گھرانے سیلاب کی صورت میں ملیامیٹ ہوسکتے ہیں اور اس سے پہلے بھی سیلابی آفت کی وجہ سے 15لوگ جاں بحق ہوچکے ہیں ان گھروں کی تحفظ کیلئے ضروری اقدامات کی جائے۔جنجریت روڈ کی بلیک ٹاپنگ 2010میں مکمل دکھاکر فنڈ بھی ہڑپ ہوا ہے جبکہ سڑک تاحال کچا ہے تاہم محکمہ کمیونیکیشن اینڈ ورکس کے افسران نے لاکھوں روپے کا فنڈ ہڑپ کیا ہے قرارداد کے ذریعے مطالبہ کیا گیا کہ اس سلسلے میں تحقیقات کی جائے اور ان سے یہ فنڈ واپس لیکر اس سڑک کو بلیک ٹاپ بنایا جائے۔ جنجریت خاص کی ذرعی زمینیں دریائے چترال کی کٹائی کی شکار ہوگئی ہے جن کا رقبہ پانچ ہزار ایکڑ سے زیادہ ہے اور مزید زمینات کی کٹائی جاری ہے لیکن اس مسئلے پر توجہ دینے کی بجائے سرکاری ادارہ اور نہ ہی غیر سرکاری ادارے کے پاس وقت ہے نہ فنڈ ہے پاکستانی ہونے کی حیثیت سے ہم ایک بار پھر اپیل کرتے ہیں کہ ان مسائل کو فوری طور پر حل کیا جائے ورنہ عوام اپنے حق لینے کیلئے سڑکوں پر نکلنے پر مجبور ہوں گے۔ جلسہ میں کثیر تعداد میں لوگوں نے شرکت کی جو بعد میں دعایہ کلمات سے پر امن طور پر منتشر ہوا۔ جلسہ سے معظم خان، قریشی، اکمل بھٹو، مولانا انعام الحق اور دیگر نے اظہار حیال کیا۔

]]>