دھڑکنوں کی زبان
محمد جاوید حیات
ابھی کالج سے فارغ ہی ہوئے تھے کہ روشنی کا سفر شروع ہوا۔ چترال پبلک سکول اپنے ابتدائی دور میں تھا۔ بچے شریر، تیز طرار اور چترال کے متمول خاندانوں کے ہوتے تھے۔ اُس وقت چترال میں کوئی دوسرا نجی تعلیمی ادارہ نہ تھا۔ ہم نے روشنی کا سفر یہیں سے شروع کیا۔ پڑھانے لگے، خود زندگی کی ڈگر میں ڈگمگا رہے تھے کہ تعلیم و تربیت کی شدبد سے واسطہ پڑا۔ ان شاگردوں کا ذکر اس لیے نہیں کر رہا کہ وہ بڑے بڑے عہدوں پر ہیں اور بندہ عاجز وہی دریدہ دامن، کم علم ہے۔ نہ باتوں سے علم کی خوشبو، نہ کردار سے عظمت کی روشن کرن—بس لجاجت ہی لجاجت۔ وہ اگر یاد بھی کریں تو یقینا روشنی کے مسافر کی وہی کم علمی اور کم مائیگی یاد کریں گے کہ استاد کے پاس نہ علم تھا نہ تجربہ، تو بندہ کس منہ سے کسی شاگرد کا سامنا کرے۔ روشنی کا یہ سفر چار عشروں پر محیط ہے اور اس کا لمحہ لمحہ گویا بوجھ جیسا ہے۔
روشنی کا یہ مسافر جب 1991ء میں محکمہ تعلیم کے کارواں میں شامل ہوا تو ابو نے تنبیہ کی کہ اب روشنی کے سفر میں اس سفر کی اہمیت کا اندازہ لگانا۔ یہاں کا ہر گام منزل ہوتا ہے، ہر مسافر ایک الگ جہان ہوتا ہے۔ اگر جہانِ تازہ کی تعمیر چاہتے ہو تو مسافر کا خیال رکھنا۔ مسافر یہ یقین کرے کہ تُو اس کی زندگی ہے۔ اگر ایسا نہ ہو تو تُو یقین کر لے کہ وہ تیری زندگی ہے۔ اگر یہ دونوں معیار نہ ہوں تو روشنی کے اس سفر میں کہیں گم ہو جاؤ گے، تیرا نام و نشان تک نہ ملے گا۔تب اس دن سے شاگردوں سے خوف کھانے لگا۔شاگردوں سے خوف کھانے کا یہ لامتناہی سلسلہ جاری ہے۔ گویا زندگی کسی لمحۂ مسعود کی امانت تھی۔ وہ لمحے ہمیشہ آئے کہ ایک عزم لے کے کلاس روم میں داخل ہوئے، مگر کلاس سے نکلتے وقت وہی کم مائیگی کہ جو خواب لے کے گئے تھے، ادھورا رہ گیا۔
کبھی اپنی پڑھائی، تدریس اور طریقۂ تدریس سے مطمئن نہیں ہوا۔ ایک کمزوری تھی جو کبھی پاؤں کے کانٹے بھی بنی، کہ شاگرد لوگ بڑے پیارے لگتے۔ لفظ “شاگرد” مشامِ جان میں ایسا رچ بس گیا تھا کہ شاگرد کے خیال آتے ہی رگِ عقیدت پھڑک اٹھتی۔ اکثر شاگردوں سے ایسے ملا کہ ان کا سر دل پر رکھا اور سینے سے بھینچ دیا، کہا کہ دل کی دھڑکن جن میں تم رہتے ہو، محسوس کرو۔روشنی کا یہ سفر عجیب تھا۔ چترال پبلک سکول سے شروع ہوا اور اب ہائی سکول واشچ اپر چترال میں اختتام پذیر ہو رہا ہے۔ روشنی کے سفر میں جو روشنی ملی وہ صرف ان جگنوؤں سے ملی جنہیں دوسری زبان میں روشنی کا استعارہ یا “شاگرد” کہا جاتا ہے۔
انہوں نے میری زندگی کے دیے میں تیل کا بندوبست کیا۔ مجھے ان جگنوؤں نے راستہ دکھایا۔ گھپ اندھیرے میں ان کے لیے چراغ بننے کا کام مجھے سونپا گیا تھا۔ میں میرِ کارواں تھا مگر انہوں نے میرے راستوں کو چراغوں سے جھلملا دیا۔ مجھے جینے کے قرینے سکھائے۔ میں نے ان سے محبت، عقیدت اور احترام سیکھا۔ مجھے انسان سے محبت کی وہ لازوال دولت ملی کہ جس کا میں اہل نہیں تھا۔ انہی کی وجہ سے میری زندگی کے وہ ٹیڑھے راستے بند ہوگئے جو دھندوں، بدعنوانیوں، دھوکوں، حسد، فریب اور نفرت کی طرف لے جاتے ہیں۔


