سیٹلائٹ تصاویر نے ارندو میں بڑے پیمانے پر کٹائی کا پول کھول دیا
تحریر: زار عالم خان (ترجمہ بشیر حسین آزاد)
چترال کے علاقے ارندو میں جنگلات کی بے رحمانہ کٹائی اور سیٹلائٹ تصاویر کے ذریعے انکشافات کے بعد ٹمبر اسمگلرز میں کھلبلی مچ گئی ہے۔ خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے متوقع کریک ڈاؤن سے بچنے کے لیے بااثر مافیا نے سیاسی اثر و رسوخ استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔
سابق ایم این اے شہزادہ افتخار الدین کی سربراہی میں چترال کے سیاسی رہنماؤں اور سماجی کارکنوں کے وفد نے حال ہی میں چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا سے ملاقات کی۔ وفد نے بتایا کہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق 2004 سے 2025 کے درمیان صرف ارندو گول میں 35 فیصد جنگلات ختم ہو چکے ہیں۔
متاثرہ رقبہ: 164,000 ہیکٹرز۔
مالی نقصان: ضائع ہونے والی لکڑی کی مالیت 100 ارب روپے سے زائد ہے۔
محکمہ جنگلات کی فہرست کے مطابق 10 افراد کے قبضے میں 14.7 لاکھ غیر قانونی کٹے ہوئے درخت موجود ہیں، جن کی مالیت 10 ارب روپے ہے۔
ملاقات میں انکشاف کیا گیا کہ صوبائی حکومت نے ماضی میں وفاقی وزارت موسمیاتی تبدیلی کو رپورٹ دی تھی کہ 2010 کے بعد چترال میں کوئی کٹائی نہیں ہوئی، جبکہ آزادانہ سیٹلائٹ تصاویر اس دعوے کی نفی کرتی ہیں۔ ان تصاویر سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ حالیہ دنوں میں سریگل وادی میں آنے والا برفانی تودہ، جس میں 9 قیمتی جانیں گئیں، جنگلات کے خاتمے کا براہ راست نتیجہ تھا۔
مقامی آبادی نے ڈپٹی کمشنر آفس میں شکایت درج کرائی ہے کہ ٹمبر مافیا نے مقامی لوگوں کو ان کے جائز حق سے محروم کر رکھا ہے۔
مقامی لوگوں کو محض 350 روپے فی مکعب فٹ دیے جا رہے ہیں۔
مڈل مین اور اسمگلرز فی مکعب فٹ 14,150 روپے (تقریباً 90 فیصد حصہ) ہضم کر رہے ہیں۔
سیاسی نمائندوں نے وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سے مطالبہ کیا ہے کہ:
نیب کے ذریعے رائلٹی کی ادائیگیوں اور مالیاتی لین دین کی تحقیقات کرائی جائیں۔
ارندو میں موجود غیر قانونی لکڑی کو فوری طور پر قبضے میں لیا جائے۔
جعلی حلف ناموں کے ذریعے عوامی رائلٹی ہڑپ کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔
چیف سیکرٹری نے وفد کو یقین دلایا ہے کہ ٹمبر مافیا کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے گا اور غیر قانونی طور پر ذخیرہ کی گئی لکڑی کی فروخت کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

