تحریر:بشیر حسین آزاد
ایک مصنف کے دو سفر نامے آج میرے ہاتھ میں ہیں ایک چین کا سفر نامہ ہے دوسرا تین ملکوں کا سفر نامہ ہے مصنف نے اٹلی ، سپین اور قطر کی سیر کو ایک کتاب میں لاکر کوزے میں دریا کو بند کر دیا ہے ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی صاحب کاپہلا سفر نامہ چین بجبین 1998 ء میں دوست پبلیکیشنز نےشائع کیا۔ پہلا ایڈیشن 2025 میں ختم ہوا تو فینکس پیلی کیشتز نے 194 صفحات کا دوسرا ایڈیشن کسی ترمیم و اضافہ کے بغیر محض ایک صفحے کے مختصر شذرے کے ساتھ شائع کر دیا ہے۔ یہ دورہ فیضی صاحب نے پاکستانی ادیبوں کے وفد کے رکن کی حیثیت سے کیا تھا، 8 رکنی وفد کے سربراہ عبد اللہ ملک تھے وفد میں فیضی صاحب کے علاوہ اے حمید، محسن احسان،شہزاد احمد، زاہدہ حنا، اصغر ندیم سید اور نادر قنبرانی شامل تھے 15 دنوں کے دورے میں وفدنے بیچنگ ، شنگھائی، سوچو، اور شیان کے شہر دیکھے، چینی ادیبوں اور شاعروں سے ملاقاتیں کیں۔ فیضی صاحب نے دورے کے تاثرات کو ادبی زبان میں دلچسپ پیرایہ اختیار کرکے لکھا ہے کتاب میں دورے کی تصویری جھلکیاں بھی ہیں آخر میں چینی تاریخ کا خلاصہ ضمیمہ کی صورت میں شامل کیا گیا ہےاور حوالے کی کتابوں کے نام تحقیقی قواعد کے مطابق دیئے گئے ہیں۔
دورہ اپریل 1998 میں ہوا۔کتاب کا پہلا ایڈیشن ستمبر 1998 میں شائع ہوا تھا
دوسرا سفر نامہ ” وسعت صحرا ” ہے اس کا نام علامہ اقبال کی نظم دعا کے ایک شعر سے لیا گیا ہے ۔۔
بھٹکے ہوئے آہو کو ہھر سوے حرم لے چل
اس شہر کے خوگر کو پھر وسعت صحرا دے
اٹلی کا سفر ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی صاحب نے اپنی اہلیہ کے ہمراہ بیٹے محمد فاروق کی دعوت پر اکتوبر 2024 میں کیا ، Shengen ویزا پر اٹلی سے سپین کا دورہ کیا، پھر اپنی بیٹی ڈاکٹر بشری فیضی کی دعوت پر قطر کا دورہ کیا یوں سوا دو مہینے کا سفر چلتا رہا ساتھ ساتھ فیضی صاحب اپنے سفر کی روداد پاکستان میں آنلائن اور پرنٹ اخبارات میں چھپواتے رہے ، ان کالموں کو یکجا کر کے 117 صفوں کا الگ سفر نامہ ترتیب دیا ۔ سفر نامہ جہاں روم اور فلورنیسں کے قدیم شہروں کی سیر کا احوال پیش کرتا ہے وہاں ہسپانیہ
کے اندر اندلس کی اسلامی تاریخ اور غرناطہ، قرطبہ، اشبیلیہ کے اسلامی آثارِ قدیمہ کا ذکر درد مندی سے کرتا ہے ۔ قطر کے شہر دوحہ کے عجائبات اور صحرا کی سیر کا حال قاری کے علم میں لاتا ہے ، سفر کا ذکر مختصر ہے اس میں ذاتی احوال کا ذکر نہیں، سفر کی تھکن پر کوئی تبصرہ نہیں، افسانوی رنگ میں یورپ اور خلیج کی سیر کا دلچسپ احوال ہے، فیضی صاحب کا اسلوب اس قدر دلکش ہے کہ یہ سفر نامہ بار بار پڑھنے کو جی چاہتا ہے۔ کتاب کو تصویروں سے مزین کیا گیا ہے۔ دونوں کتابیں فیض کتاب گھر چترال ، سعید بک بینک اسلام آباد ،یونیورسٹی بک ایجنسی پشاور اور چترال بک سیلر بازار قصہ خوانی پشاور میں دستیاب ہیں۔


