داد بیداد
ڈاکٹرعنایت اللہ فیضی
باوثوق ذرائع کی مستند خبر ہے کہ محکمہ ثقافت کی طرف سے فنکاروں، ادیبوں اور شاعروں کی رجسٹریشن کے لیے دیے گئے اشتہار کی مدت ختم ہونے کے بعد پشاور کے قریبی اضلاع خیبر اور مہمند کے 118 فنکاروں کے نام رجسٹریشن سے رہ گئے اور رجسٹریشن کی تاریخ ختم ہوگئی۔ المیہ ایسا ہے کہ فنکاروں کو خبر نہ ہوئی کہ ان کی حکومت رجسٹریشن کے ذریعے فنکاروں کے کوائف جمع کر کے مستقبل میں ان کی مدد کرنا چاہتی ہے۔
اگر خیبر اور مہمند کے فنکاروں کو خبر نہ ہوئی تو اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ تور غر، کوہستان، شانگلہ، بونیر اور چترال یا وزیرستان جیسے دور دراز اضلاع میں فنکاروں کو بھی خبر نہ ہوئی ہو گی۔ تین چوتھائی صوبے کے فنکاروں کو خبر نہ ہونے کا صاف اور سادہ مطلب یہ ہوا کہ محکمہ ثقافت کا منصوبہ ناکام ہوا۔ فنکاروں، ادیبوں اور شاعروں کے کوائف موصول نہیں ہوئے۔ ناکامی کی کیا وجہ ہے؟ کہتے ہیں کہ اس کی وجہ کمپیوٹر، آن لائن سسٹم، وائی فائی، فور جی اور فائیو جی پر غیر حقیقی اور غیر ضروری انحصار ہے۔
محکمہ ثقافت کا یہ خیال تھا کہ زر سانگہ، قمر گلہ اور خیال محمد چوبیس گھنٹے لیپ ٹاپ کھولے آن لائن بزنس میں لگے ہوئے ہیں۔ ان کے پاس وائی فائی کی سہولت بھی ہے، فور جی اور فائیو جی بھی ہے۔ اعلان ہوتے ہی صوبے کا ہر فنکار آن لائن اپنے کوائف بھیج دے گا اور دو ہفتوں میں صوبے کے 13 ہزار فنکاروں اور تخلیق کاروں کی طرف سے رجسٹریشن کی درخواستیں موصول ہو جائیں گی۔ گویا ہم اور ہمارے فنکار سنگا پور، ملائشیا اور ٹیکساس میں رہتے ہیں، انگلی کے اشارے پر سب کچھ ہو سکتا ہے۔
حالانکہ خیبر پختونخوا کا تین چوتھائی رقبہ آن لائن رسل و رسائل کی سہولت سے محروم ہے۔ پشاور، ایبٹ آباد، کوہاٹ اور مردان جیسے شہروں میں بھی فنکار اور شاعر کے پاس کمپیوٹر، لیپ ٹاپ، وائی فائی اور فور جی جیسی سہولت دستیاب نہیں۔ تو فنکار محکمہ ثقافت کا اشتہار کیسے پڑھیں گے اور آن لائن رجسٹریشن کس طرح کریں گے؟
پریس کلب کی ایک محفل میں سوال اٹھایا گیا کہ ایسا کیوں ہوا؟ جواب دیا گیا کہ محکمہ ثقافت کے وزیر، اسٹینڈنگ کمیٹی، محکمانہ سیکریٹری اور ڈائریکٹر سمیت تمام حکام کی مجبوری ہے۔ ان میں سے کوئی بھی شاید اپنے صوبے میں نہیں رہتا، شاید کسی کو بھی صوبے کے جغرافیہ اور سماجی یا معاشرتی ماحول کا پتہ نہیں ہے۔ شاید محکمہ ثقافت میں کاغذی فائل یا کمپیوٹر کے سوفٹ ویئر والا فائل رکھنے کا رواج بھی نہیں ہے۔ اس لیے محکمہ ثقافت کے طریقہ کار کا کسی کو پتہ نہیں لگتا۔
شاید محکمہ ثقافت کے حکام کو یہ بھی پتہ نہیں کہ 2009ء میں محکمہ ثقافت نے ڈاکٹر محمد اعظم اعظم کی سربراہی میں ایک جامع سروے کیا تھا، جس میں فنکاروں، ادیبوں اور شاعروں کے ساتھ دستکاروں کے کوائف اور اعداد و شمار بھی جمع کیے گئے تھے۔ اس بنا پر صوبائی حکومت ہر ضلع کے ڈپٹی کمشنر اور پولیٹیکل ایجنٹ کے ذریعے مستحق فنکاروں کی مدد اور حوصلہ افزائی کرتی تھی۔
خیبر پختونخوا میں فنکاروں اور شاعروں کے کوائف جمع کرنے کا واحد ذریعہ سروے اور تحقیق ہے۔ آن لائن رجسٹریشن کا طریقہ یہاں کامیاب نہیں ہو سکتا۔ اگر وزیراعلیٰ کے آبائی ضلع خیبر سے تعلق رکھنے والے فنکار محکمہ ثقافت کی رجسٹریشن سے محروم رہے، تو پھر وزیرستان، شانگلہ، تور غر اور چترال جیسے دور دراز اضلاع کے فنکار کس شمار میں آئیں گے؟

