سینیٹر طلحہ محمود: چترال کا مقدمہ اور بے لوث خدمت


بشیر حسین آزاد
​سیاست میں ایسے لوگ کم ہی ملتے ہیں جو عہدے نہ ہونے کے باوجود کسی علاقے کی محرومیوں کو اپنا دکھ سمجھ کر اس کے لیے آواز اٹھائیں۔ گزشتہ دنوں چترال پریس کلب لوئر چترال کے صحافیوں کے وفد نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سینیٹر طلحہ محمود سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی۔ یہ محض ایک رسمی ملاقات نہیں تھی بلکہ چترال کی پسماندگی، ادھورے منصوبوں اور مستقبل کے لائحہ عمل پر ایک سیر حاصل گفتگو تھی جس نے کئی نئے سوالات اور حقائق کو جنم دیا۔
​ملاقات کے دوران سینیٹر طلحہ محمود نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ چترال جیسے قدرتی وسائل سے مالا مال خطے کو ہمیشہ نظر انداز کیا گیا۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ چترال سے منتخب ہونے والے سابقہ نمائندوں نے عوام کے حقوق کا تحفظ کرنے کے بجائے ان پر ڈاکہ ڈالا اور کسی نے بھی اس علاقے کی تعمیر و ترقی میں وہ مثبت کردار ادا نہیں کیا جس کی چترال حقدار تھی۔ انہوں نے سینیٹ اور متعلقہ قائمہ کمیٹیوں میں چترال کے لیے اٹھائے گئے سوالات کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ ان کی توجہ صرف تقریروں تک محدود نہیں بلکہ وہ عملی طور پر سڑکوں کی تعمیر، بجلی کے ٹرانسفارمرز کی فراہمی، لوڈشیڈنگ کے خاتمے اور چترال کے لیے پی آئی اے کی بند پروازوں جیسے عوامی مسائل پر حکام سے جواب طلب کرتے رہتے ہیں۔
​سینیٹر طلحہ محمود نے انسانی حقوق اور آزادیِ اظہار کے حوالے سے اپنے عزم کو دہراتے ہوئے اپر چترال کے معروف سماجی کارکن عمیر خلیل کا ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ کس طرح قائمہ کمیٹی میں انہوں نے عمیر خلیل پر شیڈول فور کے تحت ہونے والی ایف آئی آر کی مخالفت کی اور اسے غلط قرار دیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بے بنیاد ایف آئی آر کاٹنے والے اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے تاکہ مستقبل میں کوئی کسی سماجی کارکن کی آواز نہ دبا سکے۔
​چترال کے دو اضلاع میں گزشتہ گیارہ ماہ سے قومی اسمبلی کی نشست خالی ہونے کے سوال پر سینیٹر کا موقف کافی دلچسپ اور حقیقت پسندانہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس نشست کے خالی ہونے سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا کیونکہ پہلے جو نمائندگی موجود تھی، وہ بھی نہ ہونے کے برابر تھی۔ انہوں نے قانونی پیچیدگیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ عدالت میں موجود کیس کو نمٹنے میں سالہا سال لگ سکتے ہیں، لیکن چترال کے عوام خود کو تنہا نہ سمجھیں کیونکہ وہ سینیٹ میں چترال کے وکیل بن کر ہمیشہ موجود رہیں گے۔
​طلحہ محمود نے اپنے خلاف ہونے والے منفی پروپیگنڈے پر گلے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عوامی نمائندے خود تو کچھ کرتے نہیں لیکن سوشل میڈیا پر ان کے خلاف بے بنیاد الزامات لگائے جاتے ہیں، حالانکہ ان کا مقصد صرف اللہ کی رضا کے لیے عوام کی خدمت کرنا ہے۔ انہوں نے ایک اہم نکتہ اٹھایا کہ: “برسرِ اقتدار جماعتیں سرکاری فنڈز سے کام کر کے عوام پر احسان جتاتی ہیں، حالانکہ وہ پیسہ عوام کے ٹیکس کا ہوتا ہے۔ کیا یہ حکمران اپنے جیب سے فنڈ خرچ کرتے ہیں؟” ان کا کہنا تھا کہ “محمد طلحہ محمود فاؤنڈیشن” اپنے ذاتی وسائل سے چترال کے ہر کونے میں خدمت پہنچا رہی ہے اور یہی وہ کام ہے جو ان کے سیاسی مخالفین کے لیے پریشانی کا باعث بنا ہوا ہے۔
​ملاقات میں سکردو سے آئے ہوئے مہمانوں کی موجودگی نے گفتگو کو مزید وسعت دی۔ ان مہمانوں کا کہنا تھا کہ جس طرح سینیٹر طلحہ محمود نے چترال کے لیے آواز اٹھائی ہے، وہ انہیں اس خطے کے لیے ایک “مسیحا” اور اللہ کا “تحفہ” ثابت کرتی ہے۔
​سینیٹر طلحہ محمود نے صحافیوں کے اعزاز میں پرتکلف عشائیہ دیا اور اپنی روایتی مروت کو برقرار رکھتے ہوئے وفد کو خود گیٹ تک رخصت کیا۔ وفد کی قیادت صدر چترال پریس کلب ظہیر الدین نے کی جبکہ ان کے ساتھ سینئر صحافی شاہ مراد بیگ، شہریار بیگ، عبد الغفار لال، نذیر احمد شاہ، نور افضل خان، سیف الرحمن عزیز، میاں آصف علی شاہ، سید نذیر حسین شاہ اور راقم الحروف موجود تھے۔ اس ملاقات سے یہ تاثر ابھرا کہ چترال کو سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر ایسے مخلص دوستوں کی ضرورت ہے جو ایوانوں میں چترال کا مقدمہ پوری قوت کے ساتھ لڑ سکیں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest